حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ بعض سیاسی قوتوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے حکومتی ڈھانچے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نامزد وزیر اعظم علی الزیدی کی کابینہ کو 15 مئی کو عراقی پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل ہو چکا ہے، تاہم اب بھی کئی اہم وزارتوں کے قلمدان خالی ہیں۔ وزارت دفاع سمیت پانچ وزارتوں کے لیے ابھی تک امیدوار نامزد نہیں کیے گئے، جبکہ وزارت داخلہ سمیت چار وزارتوں کے امیدوار پارلیمنٹ سے مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس طرح 14 وزارتوں کا معاملہ طے ہو چکا ہے جبکہ باقی وزارتوں کے بارے میں عید قربان کے بعد فیصلہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک، سنی سیاسی کونسل اور کرد جماعتیں، جن میں مسعود بارزانی کی قیادت میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور بافل طالبانی کی سربراہی میں پیٹریاٹک یونین آف کردستان شامل ہیں، اختلافات ختم کرنے اور حکومت سازی کا مرحلہ جلد مکمل کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات کر رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نئی حکومت میں محورِ مقاومت سے وابستہ سیاسی قوتوں کی شمولیت محدود کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر سرگرم ہے۔ ان جماعتوں نے عراقی پارلیمنٹ کی 329 نشستوں میں سے 80 سے زائد نشستیں حاصل کی ہیں، جسے امریکی حکام بھی تسلیم کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق سی آئی اے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس کے حالیہ دورۂ عراق اور امریکی خصوصی ایلچی ٹام باراک کے غیر اعلانیہ دورے کو بعض حلقے حساس سکیورٹی عہدوں پر امریکہ نواز شخصیات کو لانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں الحشد الشعبی کے مستقبل اور اسے سرکاری سکیورٹی اداروں میں ضم کرنے کے موضوع پر بھی دباؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ادھر کوآرڈینیشن فریم ورک کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحاد میں شامل تمام جماعتیں حکومت سازی اور اعلیٰ سرکاری تقرریوں کے معاملے میں کسی بھی بیرونی مداخلت یا دباؤ کو مسترد کرنے پر متفق ہیں۔
عراق کے سیاسی و عوامی حلقوں میں امریکی فوجی موجودگی کے مکمل خاتمے اور عراق کے مالی اثاثوں کو امریکی کنٹرول سے آزاد کرانے کے مطالبات بھی تیزی سے زور پکڑ رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ