حوزہ / مجلس خبرگان رہبری کی اعلی کونسل کے رکن نے موجودہ حساس حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجالس حسینی کو معرفتی اور عقیدتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ مقاومت، ایثار کی ثقافت کو فروغ دینے، شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے اور امت مبعوث کی قدردانی کے مراکز میں تبدیل ہونا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ کے ساتھ گفتگو میں مجلس خبرگان رہبری کی اعلی کونسل کے رکن اور امام جمعہ تہران آیت اللہ سید احمد خاتمی نے موجودہ حساس حالات میں مجالس حسینی کو مقاومت، ایثار اور شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے کے مراکز بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے حوزات علمیہ کے دو بنیادی فرائض ”تفقہ فی الدین“ اور ”تبلیغ و ہدایت“ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: محرم اور صفر کے مہینے دینی معارف کو عوام کے دلوں سے مربوط کرنے اور عاشورا کے پیغام کو واضح کرنے کا بہترین موقع ہیں۔

آیت اللہ خاتمی نے کہا: ملک بھر میں تبلیغی مواقع کا جائزہ لے کر ایک منظم ڈیٹا بیس تیار کیا جانا چاہیے تاکہ مبلغین کو ہر علاقے کی ضروریات اور مسائل سے آگاہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا: ا س سال کا محرم کم از کم پچھلے پچاس سالوں کے مقابلے میں درج ذیل بے مثال خصوصیات رکھتا ہے:

۱۔ عوام کا پرجوش اور حسینی اجتماع: ان اجتماعات کی سو سے زیادہ راتیں گزر چکی ہیں لیکن پھر بھی لوگ سڑکوں پر موجود ہیں اور ان کی یہ موجودگی صرف ایک سماجی یا سیاسی عمل نہیں بلکہ عاشورا کی تحریک اور ثقافت کا اظہار ہے۔

۲۔ کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا کی ثقافت کی تبیین: حضرت امام خمینی (رہ) نے اس اصول کو بیان کیا کہ عاشورا ایک دن اور کربلا ایک سرزمین تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک جاری نظام اور ثقافت ہے۔ مبلغین کو یہ حقیقت عوام کے لیے واضح کرنی چاہیے۔

۳۔ شہداء کا احترام اور شہادت کی ثقافت: انہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کو بھلایا نہیں جانا چاہیے۔ مجالس حسینی میں دفاع مقدس اور حالیہ جنگوں کے شہداء کا بھی ذکر کیا جانا چاہیے اور ان کی قربانیوں کو سراہا جانا چاہیے۔

۴۔ عاشورا کی تحریک کا تجزیہ: انہوں نے امام خمینی (رہ) اور رہبر شہید (رہ)کے عاشورا کے تجزیوں کو بہترین نمونہ قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا: امام خمینی (رہ) نے ثابت کیا کہ ”محرم خون کا تلوار پر فتح کا مہینہ ہے“ اور امام خامنہ ای (رہ)نے ”عبرتهای عاشورا“ جیسے عنوانات سے اس تحریک کے نئے پہلوؤں کو پیش کیا۔

آیت اللہ خاتمی نے مبلغین سے مخاطب ہو کر کہا: وہ امام شہید (رہ)کے ان بیانات کو استعمال کر کے عاشورا کی تحریک کو بیان کریں اور لوگوں پر ثابت کریں کہ آج بھی ان کی میدان میں موجودگی اور ظالموں کے مقابلے میں استقامت حضرت سیدالشہداء (ع) کے راستے کا تسلسل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha