پیر 15 جون 2026 - 19:55
محرم میں محورِ توجہ عزائے حسینیؑ رہے / تمام مجالس میں شہید رہبر اور شہدائے ایران کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے

حوزہ / آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے تاکید کی ہے کہ کوئی بھی پروگرام یا مناسبت عزائے سیدالشہداء علیہ السلام کو متاثر نہ کرے، بلکہ تمام سرگرمیوں کا محور شعائرِ الٰہی کی تعظیم اور ثقافتِ عاشورا کا فروغ ہونا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے محرم الحرام کی آمد پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ کوئی بھی پروگرام یا مناسبت عزائے سیدالشہداء علیہ السلام کو متاثر نہ کرے، بلکہ تمام سرگرمیوں کا محور شعائرِ الٰہی کی تعظیم اور ثقافتِ عاشورا کا فروغ ہونا چاہیے۔

پیغام حسب ذیل ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَیٰ، وَ الصَّلاةُ وَ السَّلامُ عَلَیٰ خاتَمِ الرُّسُلِ وَ هادِی السُّبُلِ، سَیِّدِنا وَ نَبِیِّنا أَبِی الْقاسِمِ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِینَ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ، سِیَّما مَوْلانا الْحُجَّةِ الثّانِی عَشَرَ الْإِمامِ الْمَهْدِیِّ الْمُنْتَظَرِ، وَ اللَّعْنُ عَلَیٰ أَعْدائِهِمُ الضَّالِّینَ الْمُضِلِّینَ۔

ماہِ محرم الحرام اور حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے ایامِ عزا کی آمد آمد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شعائرِ حسینی کے قیام اور تعظیم میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کوئی پروگرام یا مناسبت عزائے سیدالشہداء علیہ السلام کو تحت الشعاع قرار دے؛ بلکہ تمام امور شعائرِ الٰہی کی تعظیم اور ثقافتِ عاشورا کے فروغ کے لیے انجام پانے چاہئیں۔

مبلغین کرام اور ذاکرانِ اہل بیت علیہم السلام اس حقیقت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں کہ کائنات کا حقیقی محور حضراتِ معصومین علیہم السلام ہیں اور کوئی بھی شخصیت اس نورانی خاندان کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ روایتِ شریفہ میں وارد ہوا ہے: «لا یُقاسُ بآلِ مُحمدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِن هذه الأمة أحد»۔

لہٰذا مناسب ہے کہ مساجد، امامبارگاہ، انجمنوں اور تمام دینی مراکز و اجتماعات میں نہایت شان و شوکت کے ساتھ مجالسِ عزاداری منعقد کی جائیں اور ساتھ ہی احکامِ شرعیہ، معارفِ اعتقادیہ اور شکوک و شبہات کے جوابات کی تبیین سے بھی غفلت نہ برتی جائے، تاکہ ان ایام کو شورِ حسینی کے ساتھ شعورِ حسینی سے بھی مزین کیا جا سکے۔

موجودہ ملکی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ خدانخواستہ اختلافات کو ہوا نہ دی جائے اور ہر اس گفتار، کردار اور اقدام سے اجتناب کیا جائے جو وحدت، ہمدلی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔

عوام اور ذمہ داران دونوں کو ایسے اقوال و اعمال سے پرہیز کرنا چاہیے جو عوامی اعتماد کو مجروح کریں۔ ذمہ داران عوام سے صداقت کے ساتھ گفتگو کریں اور عوام بھی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمنوں کی سازشوں کا شکار نہ ہوں، کیونکہ دشمن کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک عوام اور ذمہ داران کے درمیان فاصلے اور بداعتمادی کو بڑھانا ہے۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کے رأس میں ولایتِ فقیہ قرار رکھتی ہے، لہٰذا اس کے فیصلوں کی مکمل پیروی کی جانی چاہیے۔

تمام مجالس اور اجتماعات میں شہید رہبر اور ایرانِ اسلامی کے دفاع میں جان نچھاور کرنے والے تمام شہداء کی یاد کو زندہ رکھا جائے اور عوام کو اس انقلابِ اسلامی کی پاسداری کی ترغیب دی جائے جس کی جڑیں ثقافتِ عاشورا اور نہضتِ سیدالشہداء علیہ السلام میں پیوست ہیں۔

ان شاء اللہ خداوندِ متعال حضراتِ معصومین علیہم السلام کے صدقے اس ملک اور ملتِ ایران کو ہر قسم کے خطرات اور آفات سے محفوظ رکھے۔

24 خرداد 1405

مطابق 28 ذی الحجہ 1447

حسین نوری ہمدانی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha