حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین سید احمد رضا شاہرخی نے کہا ہے کہ غدیر صرف شیعوں ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی دینی و اعتقادی شناخت ہے، جبکہ شیعہ مکتب کی نمایاں پہچان بھی غدیر ہی ہے۔
خرم آباد میں عشرہ امامت و ولایت اور عید قربان کی مناسبت سے طلبہ، والدین اور اساتذہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نمائندۂ ولی فقیہ صوبۂ لرستان نے کہا کہ غدیر کی عظمت اس قدر بلند ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں اس کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ انہوں نے امام صادق علیہ السلام کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص غدیر کی تعظیم کرے اور اس کا احترام بجا لائے، فرشتے روزانہ کئی مرتبہ اس سے مصافحہ کرتے اور اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام انبیائے الٰہی نے غدیر کے مقام و منزلت کو اہمیت دی ہے اور تاریخ میں بہت کم ایسے موضوعات ملتے ہیں جن پر انبیاء نے اس قدر توجہ دی ہو۔ یہ غدیر کی عظمت اور اسلامی ثقافت میں اس کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے۔
سید احمد رضا شاہرخی نے حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ علم، جہاد اور تقویٰ ہر میدان میں سب سے برتر تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشہور فرمان "أنا مدینة العلم و علی بابها" اسی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام علمِ نبوی کے دروازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلفائے وقت بھی علمی اور قضائی مسائل میں حضرت علی علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میدانِ جہاد میں بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شجاعت بے مثال تھی اور بدر، احد، احزاب اور خیبر جیسے معرکوں میں آپ کی قربانیاں تاریخ اسلام کا روشن باب ہیں۔ اسی طرح تقویٰ اور عدالت کے میدان میں بھی آپ کامل نمونہ تھے۔
امام جمعہ خرم آباد نے حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی طرف اشارہ کیا کہ اگر انہیں کانٹوں پر گھسیٹا جائے تب بھی وہ کسی چیونٹی کے منہ سے ظلم کے ساتھ جو کا چھلکا لینا گوارا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدل و تقویٰ کی معراج ہے اور اسلامی نظام کے تمام ذمہ داران کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت کریں۔
انہوں نے کہا کہ غیر مسلم دانشور بھی شخصیتِ امام علی علیہ السلام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ مسیحی مفکرین جیسے جرج جرداق اور شبلی شمیل نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو تمام انسانی فضائل کا پیکر قرار دیا ہے۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے علاقائی اور عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی چالوں اور فریب کے مقابلے میں ایرانی قوم کو بیدار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہو سکتا ہے لیکن اصل مسئلہ قومی عزت، بیداری اور مفادات کا تحفظ ہے۔ عوام کی توقع ہے کہ مذاکرات کرنے والے، قوم اور مسلح افواج کی مزاحمتی روح کے مطابق قدم اٹھائیں اور ملت کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام خصوصاً نوجوان، عشائر اور لرستان کے قبائل ہمیشہ انقلاب اسلامی اور ملک کے دفاع کے لیے آمادہ رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے قومی اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن اختلافات پیدا کرکے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، لہٰذا سب کو ہوشیار رہنا ہوگا۔









آپ کا تبصرہ