۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
آیت اللہ بشیر نجفی

حوزہ / نجف اشرف کے شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ بشیر نجفی نے حفظان صحت کے اصولوں کی جانب توجہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: تمام بیماریوں اور بالخصوص کرونا وائرس سے اپنی حفاظت واجب شرعی ہے اور اس سلسلہ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نجف اشرف کے شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ بشیر حسین نجفی کے دفتر نے کرونا وائرس کے باوجود چہلم سید الشہداء علیہ السلام کے انعقاد کے متعلق بیانیہ صادر کیا ہے۔ اس بیانیہ میں آیا ہے کہ شعائر حسینی(علیہ السلام) کا انعقاد ضروری ہے۔ کیونکہ اسلام اور مذہب حق شعائر حسینی علیہ السلام ہی کی وجہ سے باقی رہا ہے۔

اس بیانیہ کا متن اس طرح ہے:

یہ بات مومنین سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مختلف بیماریوں اور بالخصوص کرونا وائرس سے اپنی حفاظت واجب شرعی ہے ۔اس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اور یہ بات بھی مومنین کو معلوم ہونی چاہیے کہ طبی ہدایات پر مکمل طور پر عمل بھی ممکن نہیں مگر یہ کہ کوئی شخص کرہ زمین کی فضا سے باہر زندگی بسر کرے اور خداوند متعال اسے خوراک، پوشاک اور زندگی کی تمام ضروریات فراہم کرے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ماں اپنے بچے سے بغل گیر نہ ہو اور اسے دودھ نہ دے؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ گھر کا سربراہ اپنے چھوٹے اور بڑے بچوں کے پاس نہ جائے؟  کیا تمام بازاروں کی چھٹی کی جا سکتی ہے؟۔

ان مشکل حالات میں جس حد تک ممکن ہے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل واجب ہے۔ لیکن واجبات اور ان کو امور کو (جن پر زندگی کا انحصار ہے اور وہ امور اسلام کی اساس و بنیاد ہیں اور مذہب حقہ جن کی وجہ سے قائم ہے) ترک کر دینا جائز نہیں ہے اور ان امور میں سب سے اہم شعائر حسینی(علیہ السلام) ہیں۔ پس ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ شعائر حسینی(علیہ السلام) خداوند متعال کی جانب سے نعمت ہیں، انہیں ترک نہیں کرنا چاہئے اور ان کے سلسلہ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں کم رنگ کرنے کی ہر کوشش ناجائز ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے آباء و  اجداد اور نیک و صالح افراد نے شعائر حسینی(علیہ السلام) اور زیارت امام حسین علیہ السلام کی راہ میں قربانیاں دیں اوراپنی  ہر چیز سے گزر گئے ۔انتہائی مشکل اور دشوار حالات میں ائمہ طاہرین علیہم السلام سے کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو زیارت کے  ترک کرنے کا کہے۔ بلکہ روایات میں زیارت کی تاکید کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سید الشہداء علیہ السلام نے اسلام کی خاطر اپنی جان قربان کر دی تو شعائر حسینی(علیہ السلام) کا احیاء درحقیقت اسلام کا احیاء ہے اور دین کی بقاء کے لیے ان شعائر کی حفاظت دنیاوی ضروریات سے اہم تر ہے۔

زائرین کو معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور تمام ائمہ معصومین علیھم السلام زائر امام حسین علیہ السلام کے لیے دعا کرتے ہیں اور اس راہ میں زائر کا خوف جس قدر زیادہ ہو گا اتنی ہی اس کی پاداش اور اجر بھی زیادہ ہوگا۔

چہلم کے دن زیارت امام حسین(علیہ السلام)مومن کی نشانی ہے اور جو شخص پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آئے خدا اس کے ہر قدم کے بدلے ہزار نیکیاں لکھے گا اور اس کے ہزار گناہ پاک کر دے گا اور اس کے ہزار درجات بلند کرے گا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .