حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگان رہبری کے رکن حجت الاسلام والمسلمین سید محمد مہدی میر باقری نے حرم مطہر حضرت معصومہ (س) میں امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی منسابت سے منعقدہ تقریب میں تمام شہداء بالخصوص حالیہ واقعات کے شہداء کی درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہوئے سورہ فجر کی آخری آیات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: روایات میں اس سورہ کو سورہ امام حسین علیہ السلام کے نام سے جانا جاتا ہے اور شاید اس کی وجہ اس سورہ ٔمبارکہ کی آخری آیات ہیں۔
انہوں نے کہا: شیطان نے اپنی تمام طاقتوں کو عاشورا میں سید الشہداء علیہ السلام کے مقابل صف آرا کر دیا تھا۔ حق و باطل کا راستہ ہمیشہ ایک دوسرے کے مقابل اور کشمکش میں رہتے ہیں جس کے مرکز میں سید الشہداء علیہ السلام نفس مطمئنہ کی حیثیت سے کھڑے ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین میر باقری نے کہا: ایرانی عوام نے گزشتہ دہائیوں میں دنیا کے مستکبرین کے ساتھ بہت سے مسائل میں مقابلہ کیا ہے۔ ایرانی عوام کو ان مقابلوں میں جو سکون و اطمینان حاصل ہے وہ عاشورا سے ہی ماخوذ ہے۔
انہوں نے کہا: خداوند متعال فرماتا ہے کہ ہم تمہیں سخت آزمائشوں میں ڈالتے ہیں اور ان لوگوں کو بشارت دیتے ہیں جو صبر کرتے ہیں۔ ان سختیوں کے بغیر مقاصد الٰہی تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور نفس مطمئنہ وہ نفس ہے جو جانتا ہے کہ اس راستے میں اتار چڑھاؤ ہیں لیکن یہ ظہور پر منتج ہو گا۔
حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا: ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ دشمن ہم میں نفوذ نہ کر سکے۔ اگر دشمن کے نظام سے لگاؤ پیدا ہو جائے اور دشمن کے منصوبوں سے غفلت برتی جائے تو وہ ہم میں نفوذ کر لے گا۔
انہوں نے مزید کہا: دشمن سے دوری صرف اشخاص سے نہیں ہونی چاہیے بلکہ دشمن کے منصوبوں، سرمایہ کاریوں اور آلہ کاروں سے بھی دور رہنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ