۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
سید وجاہت شاہ

حوزہ/پورے ملک کے مسلمان اردو کی شہادت کا سہرا حکومتوں کے سر باندھتے ہیں لیکن انھیں اردو زبان کے قتل میں کبھی اپنے ہاتھ نظر نہیں آئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اردو ٹیچرز ویلفیئرایسوسی ایشن ضلع سہارنپور کے سابق سکریٹری سید وجاہت شاہ نے جامعہ اردو علیگڑھ کی جانب  سےمارکس شیٹ اور سند جاری کرنے کے عیوض وصول کی جانے والی فیس میں اچانک زبردست اضافہ کئے جانے کو کھلی لوٹ قرار دیا ہے۔

پریس کو جاری بیان میں سید وجاہت شاہ نے کہا کہ پورے ملک کے مسلمان اردو کی شہادت کا سہرا حکومتوں کے سر باندھتے ہیں لیکن انھیں اردو زبان کے قتل میں کبھی اپنے ہاتھ نظر نہیں آئے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر انامیکا کی جعلسازی کا پردہ فاش ہونے کے بعد حکومت نے تمام ملازمین سے اپنی تعلیمی مارکس شیٹ واسناد وغیرہ ہندی یاانگریزی میں اپ لوڈ کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اترپردیش میں اردو اساتذہ اور مترجمین کی تعداد قابل ذکر ہے، جو جامعہ اردو علیگڑھ کے امتحانات معلم اردو یا ادیب کامل کی بنیاد پر سرکاری تعلیمی اداروں میں ملازمتیں کررہے ہیں۔ ہندی یاانگریزی زبان میں مارکس شیٹ اور سند جاری کرنے کے لئے جب جامعہ علیگڑھ سے ضرورتمند اساتذہ ومترجمین نے رابطہ کیاتو ادارہ نے ہر ایک سند کئے لئے 900؍روپے اور 50؍روپے ڈاک خرچ کے طور پر طلب کئے، جس کے جواب میں جامعہ اردو علیگڑھ کو ڈیمانڈ ڈرافٹ بھیج دیئے گئے۔ لیکن اب ادارہ کے منتظمین فون کرکے اضافی فیس طلب کررہے ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اضافہ شدہ فیس کے طورپر 2000؍روپے جمع کرانے ہوں گے۔ اضافی فیس کو ادارہ کی انتظامیہ کا فیصلہ بتایاجارہاہے۔ سید وجاہت شاہ نے ادارہ کے اس رویہ پر ناراضگی اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اِسی طرح کی لوٹ مار کی وجہ سے سال 1995؍ کے بعد سے جامعہ اردو علیگڑھ بدحالی کا شکار ہے مگر منتظمین کی اس جانب کوئی توجہ نہیں ہے۔ سید وجاہت شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اِس اضافی فیس کو فوری طورپر ختم کیاجائے۔ انھوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرٹھ یونیورسٹی جیسا بڑا ادارہ بھی سند اورمارکس شیٹ جاری کرنے کے لئے محض ایک ہزار روپے وصول کرتا ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .