۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 20, 2024
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان

حوزه/ امریکی تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد کو حکمران خاندان میں اپنے خلاف سازش پر ہمیشہ سخت تشویش رہتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی عربی 21 کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مڈل ایسٹ پالیسی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس ملک کے موجودہ حکمران ہیں  لیکن وہ ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بن سلمان ہمیشہ ان کے خلاف ممکنہ سازشوں سے ڈرتے ہیں جو انہیں باضابطہ طور پر اقتدار میں آنے سے روکتی ہیں، حال ہی میں  سعودی مشترکہ افواج کے کمانڈر فہد بن ترکی بن عبد العزیز کو ہٹانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور بعید نہیں کہ یہ اقدامات اس ملک میں اقتدار کے لئے مقابلہ کرنے کے تحت کیے گئے ہوں۔

اس رپورٹ کے مطابق  سعودی کمانڈر پر بدعنوانی کا الزام لگانا افواہوں کا باعث بنا ہے کہ برخاستگی کی بنیادی وجہ کچھ اور ہی تھی  کیونکہ نامور سعودی عہدیداروں کو سرکاری عہدوں سے ہٹانا غیر معمولی ہے،

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فہد بن ترکی  جویمن پر حملے میں سعودی عرب کے اعلی کمانڈروں میں سے ایک ہیں اور یمن کی جنگ سعودی عرب کے لئے اس قدر مہنگی پڑی ہے کہ ریاض کی اس پر ہر مہینے ایک ارب ڈالر لاگت آتی ہےجبکہ حوثی فوجیں اب بھی یمن کے کلیدی حصوں پر قابض ہیں  اور یمن میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے،

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہیمن کی جنگ میں سعودی فوج نے اپنی نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ یمنی اہداف کے خلاف غلط میزائل حملوں نے اس ملک میں بڑی تعداد میں شہریوں کو ہلاک کردیا جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں نیز اس ملک کا طبی ڈھانچہ بھی مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .