۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
News Code: 362581
12 ستمبر 2020 - 03:54
تقویم حوزہ: ۲۳ محرم الحرام ۱۴۴۲

حوزہ/تقویم حوزہ: ۲۳محرم الحرام ۱۴۴۲، تخریب حرم امام حسن عسکری و امام هادی علیه السلام،سامرا، 1427ه-ق

حوزہ نیوز ایجنسیl
 تقویم حوزہ:
آج:
عیسوی: Saturday - 12 September 2020
قمری: السبت، 23 محرم 1442

آج کا دن منسوب ہے:
پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله وسلّم

آج کے اذکار:
- یا رَبَّ الْعالَمین (100 مرتبه)
- یا حی یا قیوم (1000 مرتبه)
- يا غني (1060 مرتبه) غنی ہونے کے لیے

اہم واقعات:
تخریب حرم امام حسن عسکری اور امام هادی علیه السلام،سامرا، 1427ه-ق
۳۰۹ سال کے بعد اصحاب کهف نیند سے بیدار ہوئے۔

➖➖➖➖➖
روضہ عَسْکَریَین عراق کے شہر سامرا میں واقع ہے جس میں امام علی نقی ؑ، آب کے فرزند امام حسن عسکری ؑ، امام حسن عسکریؑ کی زوجہ اور امام زمانہؑ کی مادر نرجس خاتون، امام محمد تقی ؑ کی بیٹی حکیمہ خاتون اور بعض دیگر علوی سادات اور علماء دفن ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک بڑی مسجد ہے جس میں سرداب غیبت امام زمانہ ؑ موجود ہے۔

سنہ 2006ء اور 2007ء میں دو دہشتگرانہ حملوں میں روضے کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ ان دہشت گردانہ حملوں کے بعد حرم اور ضریح کی دوبارہ تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا۔
➖➖➖➖➖
تیئیسویں مجلس -- قَدْ جَآئَ کُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ

تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور کتاب دونوں پہنچ چکے ہیں،یعنی وہ نور (روشنی ) جس کے ذریعے سے کتاب کو پڑھا جا سکتا ہے اس کا بھی اللہ نے خود انتظام فرمایا ہے پس جب تک کتاب رہے گی ساتھ ساتھ نور بھی رہے گا اور اسی مقصد کی دوسری تعبیر ہے حدیث ثقلین کہ حضوؐر نے فرمایا میں تم میں دو گر انقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اپنی عترت اہل بیت ؑکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے پس تم ان دونوں سے تمسک پکڑو گے تو گمراہ ہرگز نہ ہوگے۔
چنانچہ محکمات ومتشابہاتِ قرآنیہ کے متعلق معصوم ؑسے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ نے قرآن میں متشابہات بھیج کر اُمت کو ہمیشہ کے لیے اہل بیت ؑکا محتاج کر دیا۔۔ کوئی شخص متشابہا ت کی موجودگی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے کتابُ اللہ کافی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر دَور میں لوگ آل محمد علیہم السلام کے محتاج ہوتے رہے اور آل محمد علیہم السلام کے کسی فرد نے کبھی اپنے زمانے کے کسی دوسرے عالم سے کچھ بھی نہیں پوچھا اور نہ کسی سے درس حاصل کیا۔
حضر ت امیر المومنین ؑ سے اپنے زمانے کے بڑے سے چھوٹے تک ہر ایک نے مسائل دریافت کئے لیکن کسی بڑی یا چھوٹی کتاب میں ضعیف سے ضعیف روایت بھی ایسی نہ ملے گی کہ امام علی ؑنے کبھی کسی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا ہو؟  پس تمام کا حضرت علی ؑکی طرف رجوع کرنا اور حضرت علی ؑ کا کسی کی طرف رجوع نہ کرنا ان کی عظمت علمی کی دلیل ہے۔
 قرآن مجید میں اس امر کی وضاحت ہے کہ متشابہات کی تاویل خدا جانتا ہے اور  رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم جانتے ہیںان کو  رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم کہا  یہ نہیں فرمایا کہ رَاسِخ فِیْہِمُ الْعِلْم ہیںیعنی یہ علم میںراسخ ہیں نہ کہ علم ان میں راسخ ہے۔
علم کو ان کا ظرف قرار دیا کہ یہ علم میں راسخ ہیںیعنی ان کا وجود ہی ظرفِ علم میں ہے جب سے ہیں علم میں ہیں ایسا نہیں کہ علم ان میں راسخ ہے کہ یہ ظرف ہوں اور علم ان کا مظروف ہو؟ تاکہ یہ کہنا پڑے کہ یہ بطورِ ظرف تھے اور بعد میں ان میںعلم داخل ہوا۔۔ کسی نے کچھ پڑھایا اور ان میں علم آیا۔
تاریخ شاہد ہے کہ ہر زمانہ کا عالم ان کے علمی مقام کے سامنے سرنگوں نظر آیا۔
چنانچہ امام محمد تقیؑ کا بچپنے میں علمی مقام یہ تھا کہ ایک دفعہ مامون شکار کو نکلا تو ایک مقام پر بچے کھیل رہے تھے۔۔ مامون کی سواری کو دیکھ کر بچے سب دوڑ گئے لیکن امام عالیمقام ؑکھڑے رہے، مامون نے قریب آکر پوچھا تم کون ہو؟ تو امام ؑ نے فرمایا کہ میں امام رضا ؑکا فرزند محمد تقیؑ ہوں۔۔ مامون نے پوچھا جب میرے جلال شاہی کودیکھ کر بچے سب دوڑ گئے تو تم کیوں نہ دوڑے؟ آپ ؑنے نہایت اطمینان سے پر سکون ہو کر جواب دیا کہ راستہ کشادہ تھا اور مجھے آپ کے ظلم کا ڈر نہیں تھا اس لئے بھاگنے کی ضرورت میں نے محسوس ہی نہیں کی، کچھ دیر کے بعد جب مامون شکار سے واپس پلٹا تو ابھی لڑکے وہاںموجود تھے وہ سب دوڑ گئے اور امام ؑکھڑے رہے۔۔ اس وقت مامون کی مٹھی میں ایک چھوٹی سی مچھلی تھی، امام ؑکے پاس سواری کو روک کر اس نے دریافت کیا کہ بتائو میرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ تو امام ؑنے فرمایا بادشاہوں کی عادت ہے شکار کرتے ہیں اور بازوں کو ہوا میں چھوڑتے ہیں اور ان کے باز فضا محیط سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑ لاتے ہیں اور بادشاہ مٹھی میں بند کرکے اللہ کے اولیا کا امتحان لیتے ہیں۔
امام ؑکے علمی وقار سے متاثر ہو کر خلیفہ نے اپنی بیٹی امّ الفضل کا نکاح امام محمد تقیؑ سے کرنے کا ارادہ کیا تو عباسیوں نے اعتراض کیا پس دور حاضرکے بڑے قاضی یحییٰ ابن اکثم سے خواہش کی کہ امام محمد تقیؑ سے کوئی مشکل علمی مسئلہ دریافت کریں اور وہ اس میں لاجواب ہوں اور مامون اپنے ارادہ سے باز آجائے؟ چنانچہ مامون کے بھرے دربار میں یحییٰ ابن اکثم نے امام ؑسے سوال کیا کہ مُحرِم حالت احرام میں اگر شتر مرغ کا انڈا توڑ دے تو اس کا کفارہ کیا ہو گا؟
آ پ ؑنے فرمایا اتنا بڑا علم کا دعویدار ہو کر اس قدر مہمل سوال کیا ہے تو نے؟ تفصیل سے بیا ن کر و مُحرِم نے حرم کی حدود کے اندر یہ غلطی کی ہے یا باہر؟ نیز غلطی کرنے والا آزاد تھا یا غلام؟ نیز غلطی اس کی عمداََ تھی یا سہواََ؟ نیز اس سے پہلے بھی اس قسم کی غلطی وہ کر چکا تھا یا یہ پہلی غلطی تھی؟ نیز یہ احرام اس کا حج کا تھا یاعمرہ کا  وغیرہ ؟
یہ تفصیلات سنتے ہی یحییٰ ابن اکثم شرمندہ اور سرافکندہ ہو ا تو امام ؑنے ترتیب وار ہر شق کا الگ الگ کفارہ بیان فرمایا۔۔ اس کے بعد امام ؑنے فرمایا اگرا جازت ہو تو میں بھی ایک سوال کرلوں؟ یہ بتائو کہ وہ کونسی عورت ہے جو ایک ہی دن میں ایک ہی شخص پر چار دفعہ حرام ہے؟ اور چار دفعہ وقفہ وقفہ کے بعد حلال ہے؟ یحییٰ ابن اکثم کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا، تو مامون کے کہنے پر امام ؑنے خود بیا ن فرمایا کہ ایک عورت کسی کی کنیز ہے تو دوسرے شخص پر وہ حرام ہے۔۔ جب اس نے خرید لی تو اس پر حلال ہو گئی۔۔ پھر اس کو اسی شخص نے آزاد کردیا تو اس پر حرام ہو گئی۔۔ لیکن بعد میں اس سے نکاح کر لیا تو حلال ہو گئی۔۔ پھر اس نے ظہار کر لیا تو حرام ہو گئی اور تھوڑی دیر بعد اس نے ظہار کا کفارہ دے دیا تو وہ پھر حلال ہو گئی۔۔ اس کے بعد اسے طلاقِ رجعی دے دی تو حرام ہوگئی اور رجوع کر لیا تو حلال ہوگئی۔
جب مامون عباسی مقام مرو میں تھا (مرو ایک نہایت ٹھنڈی اور صحت افزأ  اور پرسکون جگہ تھی جہاں موسم گرما گذارنے کے لیے وہ گیا ہوا تھا غالباََ آجکل وہ علاقہ روس کے قبضہ میں ہے) امام رضا ؑ بھی وہاں تشریف فرما تھے چونکہ مامون نے امام رضا ؑ کی ولیعہد ی کا اعلان کیا ہوا تھا اور عباسی خاندان کے تمام لوگ مامون سے اس بارے میں ناراض تھے پس وہ اس ولیعہدی کے عہدہ کو ختم کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر رہا تھا۔۔ چنانچہ اس نے اطرافِ عالم سے مختلف مذاہب کے علما ٔ کو مرو میں آنے کی دعوت دی تاکہ وہ آکر علمی موضوعات پر امام رضا ؑ سے گفتگو کریں پس جب وہ لوگ امام رضا ؑکو عاجز کردیں گے توولی عہدی کا عہداس بہانہ سے توڑ دیا جائے گا کہ معاذاللہ ان کے علم میں نقص ہے۔
چنانچہ اطراف سے وقت مقرر پر مختلف مذاہب کے علما ٔ پہنچ گئے:
یہودی      عیسائی      زرتشتی(آتش پرشت)     دہریئے (لامذہب )
پس دربار سجایا جانے لگا اور ملک کے تمام دانشور لوگوں کو اطلاع بھیج دی گئی تاکہ مقررہ تاریخ کو وقت مقرر پر دربار میں علمی بحث سننے کے لیے آئیں۔
امام رضا ؑ کا ایک غلام نہایت کرب واضطراب سے ہانپتا کانپتا ہو ا بارگاہِ امامت میں حاضر ہوا تو آپ ؑنے وجہ اضطراب پوچھی کہنے لگا مامون نے غیر اسلامی مختلف مذاہب کے علما ٔ کو آپ ؑسے بحث کرنے کیلئے بلوایا ہوا ہے اور وہ کل آپ ؑسے مناظرہ کریں گے آپ ؑنے فرمایا پھر اضطراب اور پریشانی کی کونسی بات ہے؟ اس نے عرض کیا کہ آپ ؑکو اطلاع دی جاتی تاکہ آپ ؑاس کیلئے تیار ہوجاتے آپ ؑنے فرمایا امام ؑکا علم نقد ہوتا ہے وہ کسی مطالعہ کتب بینی یا صلاح و مشورہ کا محتاج نہیں ہوا کرتا۔۔۔۔ اس نے عرض کیا حضور ! وہ مختلف مذاہب کے لوگ ہیں یہود۔۔ نصاریٰ۔۔ زر تشتی اور دہریے؟ آپ ؑنے فرمایا تم نہ گھبرائو میں اس کا بیٹا ہوں جس نے مسجد کوفہ کے چھلکتے ہوئے مجمع میں ببانگ ِدہل اعلان فرمایا تھا کہ اگر تکیہ لگا دیا جائے اور اطمینان سے بیٹھنے کا موقعہ دستیاب ہو تو بیشک تورات و زبور و انجیل وفرقان والے سب لوگ اپنی اپنی کتابیں اٹھا کر لائیں میں ہر صاحب کتاب سے اسی کی زبان اور اسی کی کتاب سے مسائل کو حل کروں گا کہ وہ کتابیں خود میری صداقت کی گواہی دیں گی۔
آپ ؑکا غلام غالباََ ہرثمہ بن اعین ہو گا خاموش ہو گیا اور مطمئن ہو گیا۔۔ دوسرے رو ز علی الصبح مامون کا غلام شاہی پیغام لایا کہ دربار میں اتفاق سے غیر ملکی اور غیر اسلامی علما ٔ حاضر ہیں جو آپ ؑسے تبادلہ خیالات کے خواہشمند ہیں آپ ؑخود بنفس نفیس تشریف لانے کی اگر زحمت نہ اٹھائیں تو میں خود وفد کو ساتھ لے کر درِ دولت پر حاضر ہو ں گا۔۔۔ آپ ؑنے فرمایا میں کمزور نہیں ہو ں کہ دشمن اسلام میرے گھر پر آکر مجھ سے بات کرے مجھے وقت بتا دیا جائے میں خود حاضر دربا ر ہو کر دشمنانِ دین سے اسلامی حقائق واضح کر کے انہیں قائل کر دوں گا۔
چنانچہ آپ ؑمقررہ وقت پر تیار ہو کر نکلے غسل کی تجدید فرمائی اور لباس پیغمبرؐ اپنے جسم اطہر پر پہنا۔۔ قبا و عبا ئے پیغمبرؐ زیب دوش۔۔ عمامہ رسول زیب سر۔۔نعلین پیغمبرؐ زیب پا اور عصائے پیغمبرؐ ہاتھ میں لے کر چلے گویا آج امام رضا ؑ محمد مصطفیٰ ؐ نظر آرہے تھے۔
مجھے امام رضا ؑ کے شبیہ پیغمبر ؐ ہونے کی ایک روایت یاد آرہی ہے کہ جب امام رضا ؑ نیشاپور میں وارد ہوئے تھے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ ایک مقام پر حضرت پیغمبر کی آمد کا اعلان ہوا تو میں بھی دوڑ کر وہاں پہنچا دیکھا ایک بہت بڑی جلسہ گاہ ہے اور لوگ کھچا کھچ اس میں جمع ہیں اور کافی تعداد میں اور لوگ بھی پہنچ رہے ہیں۔۔ پس میں مجمع کو چیرتا ہوا جلسہ کے سٹیج کے قریب جا پہنچا، دیکھا تو حضرت پیغمبرؐاپنے مخصوص انداز میں جلوہ گر ہیں اور سامنے ایک طشت ہے جس میں کھجوریں رکھی ہیں میں نے جرأت کر کے آپ ؑسے کھجوریں طلب کیں تو آ پ ؑنے مٹھی بھر کر میرے دامن میں ڈال دیں میں نے گنے تو اَٹھارہ دانے تھے۔۔ پس خواب سے بیدار ہوا او ر سوچ ہی رہا تھا کہ شیطان تو بشکل معصوم آ نہیں سکتا خدا جانے اس کی تعبیر کیا ہو گی؟
چنانچہ صبح سویرے ایک منادی کی ندا میں آئی کہ آج امام رضا ؑ وارد نیشاپور ہوں گے اور فلاں جگہ ایک جلسہ عام سے خطاب فرمائیں گے (اور یہ اسی جگہ کا حوالہ تھا جہاں رات کو خواب میں حضرت پیغمبر کو میں نے دیکھا تھا) میں نے سمجھا کہ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے۔۔ پس وقت سے پہلے میں پہنچ گیا اور سٹیج کے قریب بیٹھا، امام ؑتشریف لائے لوگوں نے استقبال کیا میں نے امام ؑکے سامنے بھی ایک طبق دیکھا جس پر رومال تھا اور اس میں کھجوریں تھیں بعینہٖ اسی طرح جیسے رات کو خواب میں دیکھا تھا اور امام ؑبھی اسی لباس میںملبوس تھے جو رات کو میں نے پیغمبر ؐ کے جسم پر دیکھا تھا اور شکل و شباہت نیز قدو قامت میں بھی پوری مشابہت تھی، پس میں جرأت کر کے کھجوریں مانگ لیں اور امام ؑنے اسی طرح مٹھی بھر کر میرے دامن میں ڈال دیں جب گنے تو اٹھارہ دانے تھے میں عرض کیا حضورؐ! کچھ اور دیں تو آپ ؑنے فرمایا میرے نانا نے جو کچھ دیا ہے مجھ سے بھی وہی ملے گا۔
وہ بات تو یادہے نا۔۔ امام رضا ؑ دربارِ مامون کی طرف چلے، ادھر دربار میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور حکم تھا کہ جب امام رضا ؑوار دِ دربار ہوں تو کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ ہلے۔۔ نہ ان کے لئے راستہ خالی کیا جائے۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہو اکرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
امام عالیمقام ؑجب دربارِ شاہی کے دروازہ پہنچے تو جبین مبین سے نور کی تجلی  نکلی جو درباری روشنیوں پر چھا گئی اور جسم اطہر سے اس قدر خوشبومہکی کہ دربار کی فضا بدل گئی۔۔ فوراً لوگوں نے گردنیں پھیر کر پیچھے کی طرف دیکھا تو امام رضا ؑبشکلِ محمد مصطفی ؐ نظرآئے۔۔ بے تحاشا لوگ تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے اور غیبی طاقت نے لوگوں کو اِدھر اُدھر ہٹاکر دروازہ سے تخت تک راستہ صاف کردیا اورامام ؑلوگو ں کا سلام لیتے ہوئے خراماں خراماں آگئے بڑھتے چلے گئے۔
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
خود مامون تخت سے اُٹھا اور نیچے اُتر کر امام عالیمقام ؑسے  اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰہ کہہ کر استقبال کیا۔۔ پس امام ؑآگے آگے اور مامون پیچھے پیچھے،  مامون نے امام ؑکو اپنے تخت پر جگہ دی پس امام ؑتخت پر جلوہ گر ہوئے اور مجمع پر ایک سکوت کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔ غیر ملکی اور غیر اسلامی علما ٔخود بخود اس قدر متاثرہوئے کہ کسی کو لب کشائی کی جرأت نہ ہو سکی کچھ دیر بعد مہر خاموشی ٹوٹی اور مامون نے پہل کرتے ہوئے غیر ملکی علما ٔسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فرزندرسول ہیں آپ لوگوں کوان کے ساتھ بات چیت کے لیے مدعو کیا گیا ہے وہ اس قدر مرعوب تھے کہ ایک سکتہ طاری تھا پس سر ہلا کر معذرت خواہ ہوئے۔
صرف یہودی عالم بولا! ہم اس شخص سے ہم کلام نہیں ہو سکتے۔۔ مامون نے وجہ دریافت کی تو اس نے جواب دیا کہ یہ شخص عرب ہیں اور ہم عربی سے نابلد ہیں یہ ہماری زبان نہ سمجھیں گے اور ہم نہ ان کی بولی سمجھ سکیں گے پھر بات کیسے ہو سکے گی؟ امام عالیمقام ؑنے یہودی کو مخاطب کر کے فرمایا اویہودی عالم ! تو اپنی جہالت کا بیشک اعتراف کر لیکن میری طرف جہالت کو منسوب نہ کر۔۔ اس نے عرض کیا آپ ؑ عبرانی زبان میں مجھ سے بات کر سکیں گے؟ آپ ؑنے فرمایا بیشک۔۔ اس نے پوچھا آپ ؑتورات کی زبان سے بات کیسے کریں گے جب کہ آپ ؑنے پڑھی نہیں؟ امام ؑ نے فرمایا میں تورات کو جانتا ہوں اور امام ؑدنیا میں پڑھنے کا محتاج نہیں ہوا کرتا وہ پڑھ کر آتا ہے آپ ؑنے فرمایا دس علما ئے یہود یہاں موجود ہیں میرے ساتھ کس نے گفتگو کرنی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میں ہی گفتگو کے لیے حاضر ہوں آپ ؑنے فرمایا پہلے یہ بتائو کہ تورات کی قرائتیں کتنی ہیں؟ اور تو کس قاری کی قرأت سے بات کرے گا ؟ اس نے عرض کیا جناب عالی ! میں قاریوں اور قرأتوں سے واقف نہیں، بس جو قرأ ت یا دہے اسی سے بات کروں گا۔
آپ ؑنے پوچھا تجھے تورات یا د ہے یا دیکھ کر پڑھے گا ؟ عرض کیا حضور! میں حافظ تورات نہیں ہو ں ناظرہ پڑھی ہے آپ ؑنے فرمایا تم تورات کا فلاں پارہ فلاں صفحہ فلاں رکوع پر نظر رکھو اور میں تمہارے سامنے تمہاری ہی قرأت سے تلاوت کو زبانی شروع کرتا ہوں۔۔۔ چنانچہ آپ ؑنے وہاں سے پورا ایک رکوع پڑھا تو دریافت فرمایا جو کچھ میں نے پڑھا ہے کیا درست ہے ؟ تمام یہودی علما ٔ عش عش کر اٹھے او رعرض کیا بے شک آپ نے درست تلاوت کی ہے؟ آپ ؑنے فرمایا تمہیں اسی تورات کی قسَم اور اس تورات کو لانے والے نبی حضرت موسیٰؑ کی قسَم دے کر تم سے پوچھتا ہوں کیا اسی رکوع میں میر ا حلیہ نہیں بیان کیا گیا کہ آخری نبی کے آٹھویں قائمقام ؑکا حلیہ یہ ہو گا؟ یہ سن کر یہودی سارے کے سارے دم بخود ہوگئے اور انہوں نے چپ سادھ کر عملی طور پر اپنی شکست کا اعتراف کر لیا۔
پس آپ ؑنصرانی اور زرتشتی علما ٔ کی طرف متوجہ ہوئے تو سب نے وعدۂ فردا پر بات کو ٹال دیا۔۔ مجمع پر بھی سکتہ طاری تھا مامون خود حیرت کے گہرے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا کہ دہر یہ (لامذہب)عالم بول اٹھا اے بادشاہِ وقت ! یہ لوگ اہل کتاب ہیں اور اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اگر مجھے اجازت ہو تومیں ایک عقلی سطح پر سوال کرتا ہوں اگر مجھے مطمئن کر دیا گیا تو میں ضد کرکے بات کو نہ ٹالوں گا بلکہ کلمہ اسلام فوراً زبان پر جاری کرلوں گا امام عالیمقام ؑنے فرمایا جو چاہو پوچھو ! اس نے عرض کیا آپ ؑلوگ اللہ کو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر  مانتے ہو اور میں اس دعویٰ کو چیلنج کرتاہوں آپ ؑنے فرمایا جو کچھ تیرے پاس اس دعویٰ کے خلاف مواد ہے پیش کر اور جواب لے۔۔ اس نے عرض کیا اگر اللہ ہر شئے پر قادر ہے تو کیا آسمانوں اور زمینوں سمیت پورے عالم کو مرغی کے انڈے میں داخل کر سکتا ہے؟ اگر نہیں کر سکتا تو قادر نہیں اور اگر کر سکتا ہے تو اس کی دلیل یا مثال پیش کیجیے؟ آپ ؑنے فرمایا تم ایک دفعہ شش جہات کی طرف نگاہ کرو اس نے ہر طرف دیکھا آپ ؑنے فرمایا کیا دیکھا؟ اس نے عرض کیا زمین وآسمان۔۔ شمال و جنوب اور مشرق مغرب کو دیکھا آپ ؑنے فرمایا آنکھیں بند کرلو اس نے آنکھیں بند کرلیں آپ ؑنے فرمایا جو کچھ تو نے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا وہ سب کچھ آنکھ کر پتلی میں محفوظ ہے یا مٹ چکا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ سب کچھ محفوظ ہے آپ ؑنے فرمایا جو اللہ رائی کے دانہ کے برابر آنکھ میں چودہ طبق داخل کر کے محفوظ رکھ سکتا ہے اس کے لئے مرغی کے انڈے میں داخل کرنا کیا مشکل ہے ؟ یہ ایک ایسا اقناعی جواب تھا جس کے سامنے وہ دہریہ سکتے میں آگیا او باذوق لوگو ں نے خو ب داد دی۔
بقول بعض علما ٔ(شیخ مجتبیٰ لنکرانی قدس سرہ کہ نجف میں ان سے مکاسب پڑھی تھی) امام رضا ؑنے اس کے بعد ایک حَلّی جواب پیش کیا فرمایا تم کیا کاروبار کرتے ہو ؟ اس نے عرض کیا ترکھان ہو ں لکڑی کا کاروبار کرتا ہوں اور اس کام میں مجھے پوری مہارت حاصل ہے آپ ؑنے فرمایا یہ دیکھو میرے ہاتھ میں کیا ہے کہا چھڑی ہے آپ ؑنے فرمایا یہ چھڑی کس شے کی ہے؟ کہا لکڑی کی ہے آپ ؑنے فرمایا یہ لکڑی ہے اور تو کاریگر ہے اس لکڑی سے مثلاً کیا مجھے ایک میز یا کرسی تیار کرکے دے سکتاہے؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں آپ ؑنے فرمایا کیوں؟ اس نے عرض کیااس لکڑی سے یہ چیز تیار نہیں ہو سکتی آپ ؑنے فرمایا کیا تم کاریگر نہیں ہو؟ یا یہ لکڑی نہیں ہے؟ اس نے عرض کیا حضور ! یہ لکڑی ہے اور میں کاریگر ہوں لیکن لکڑی کا مادّہ اس قدر ناقص ہے کہ اس سے یہ چیز نہیں نکل سکتی آپ ؑنے فرمایا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مادہ ناقص ہو اور اس سے کوئی شئے نہ بن سکے تو اس میں کاریگر کی کاریگر ی متاثر نہیں ہوتی اور نہ کاریگر کے فن میں یہ با ت عیب کی باعث ہے اس نے عرض کیا حضور! ایسا ہی ہے۔۔۔ آپ ؑنے فرمایا جس طرح مادّہ کا نقص آپ ؑکے فن کو داغدار نہیںکرتا اسی طرح اللہ تو ہر شئے پر قادر ہے وہ تو آسمان زمین کو انڈے میں داخل کر سکتا ہے البتہ انڈے میں مادّہ کا نقص اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ورنہ وہ انڈہ انڈہ نہ رہے گا پس مادّہ کا نقص اس کی قدرت کو چیلنج نہیں کر سکتا وہ دہریہ تڑپ اٹھا اور امام عالیمقام ؑکے قدم بوس ہو کر اس نے فوراً پڑھا  لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَاَشْھَدُ اَنَّکَ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللّٰہ اس کے بعد وہ واپس اپنے وطن کو نہ پلٹا بلکہ امام ؑکا تا زیست غلا م بن کر رہا۔۔۔۔ یہ تھا امام ؑکا وہ کمال جوحاسدین کی آنکھوں کا خاربن گیا اور وہ امام ؑکے قتل کے درپے ہو گئے۔۔ چنانچہ زہر سے امام ؑکو شہید کر دیا گیا۔
اسی امام ؑکی ایک بہن ہے جس کا نام فاطمہ بنت موسیٰ اور مشہور ہے معصومہ قم، مجھے معلوم نہیں کہ قافلہ کے ہمراہ انہوں نے سفر کیا یا صرف ایک کنیز ہمراہ تھی؟ اگر کنیز ہمراہ تھی تو اونٹ حاصل کیا گیا اور دونوں مدینہ سے روانہ ہوئیں۔۔ بڑا کر بناک اور اندوہناک سفر تھا لیکن بھائی کی ملاقات کے شوق نے یا حکومتی نمائندوں کے جوروستم نے بی بی کو ایران کے سفر کی دعوت دی، پس باری باری اونٹ پر سوار ہوتیں  کسی وقت خود سوار اور کنیز کے ہاتھ میںمہار اور کسی وقت کنیز سوار اور بی بی کے ہاتھ میں مہار۔۔ چنانچہ عرب کا ریگستان ختم ہوا اور ایران کا پہاڑی سنگلاخ سفر شروع ہوا، کہتے ہیں اونٹ راستے میں مر گیا اور بی بی نے پیدل چلنا شروع کیا۔۔ پہاڑی سفر تھا یہ تو پہاڑی علاقوں والے جانتے ہیں کہ پہاڑ پر چڑھنے کیلئے کہیں ہاتھوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔ کہیں زانوئوں سے مدد لینی پڑتی ہے۔۔ کہیں پائوں سے سفر طے ہوتا ہے جب آخری پہاڑ سے اُتری تو حالت یہ تھی کہ جس پتھرسے پائوں اٹھاتی اور دوسرے پتھر پر پیر رکھتی تو پہلے پتھر کا رنگ سرخ ہو جاتا تھا۔
چودہ سو میل کی حد بندی مجلس پڑھنے والوں کااندازہ ہے بہر کیف منازل طے کرنے کے بعد قم کے قریب پہنچیں۔۔ کنیز سے فرمایا میں تھک چکی ہو ں اگر اس راستے سے کوئی ایرانی گزرے تو اس سے دریافت کرنا کہ مشہدِ امام رضاؑ تک کتنا سفر ہے؟ چنانچہ ایک ایرانی کو آتے دیکھا تو راستہ سے ہٹ کر کھڑی ہو گئیں اور کنیز نے سوال کیا اے ایرانی کیا تم مدینہ والے امام رضاؑ کو جانتے ہو ؟ وہ چونکہ مومن تھا اس نے ہاں میںجواب دیا اور کہا کہ وہ تو میرا امام ہے تم کیوں پوچھتی ہو؟ کنیز نے جواب دیا یہ جو میرے ساتھ پردہ دار ہے اسی امام ؑکی بہن ہے اور بھائی کو ملنے چلی ہے کیا بتا سکتے ہو کہ وہ کہاں ہے؟ اس نے غالباً جواب دیا یہاں سے خراسان ۶سو میل کا فاصلہ ہے۔۔ بی بی نے سنا تو سرد آہ کھینچی اور فرمایا کافی سفر کر چکی ہو ں اب طبعیت میں تا ب سفر نہیں رہی۔۔ ذرا اس سے پوچھو کہ یہاں سے قم کتنا دور ہے؟ کنیز نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ دس فرسخ دور ہے اس نے شاید دریافت کیا ہو کہ قم کا کیوں پوچھتی ہو؟ تو بی بی نے فرمایا کنیز کہو وہاں مومنوں کی آبادی ہے اور بوقت وداع مجھے بھائی نے فرمایا تھا اگر میرے ملنے کے لئے آنا ہو تو قم کا پوچھ لینا وہ ہمارے شیعوں کی آبادی ہے لیکن اب میں نہیں چل سکتی یہ قریب والی بستی کونسی ہے؟ اس نے عرض کیا یہ ساوہ ہے۔۔ بی بی نے پوچھا یہاں کوئی ہمارا ہے تو اس نے عرض کیا سارے لوگ مومن و موالی ہیں۔۔ بی بی نے فرمایا آج رات ہم یہاں آرام کریں گے اور صبح کو قم کا سفر اختیار کریں گے، چنانچہ ایک خالی مکان آرام کے لئے دیا گیا لیکن بی بی کو ساری رات امام رضا ؑ کی یاد نے سونے نہ دیا جب رات ڈھلی تو بخار ہو گیا کنیز سے فرمایا مجھے اب بخار ہے اور شاید کل بھی سفر نہ کر سکوں گی صبح سویرے کوئی مزدور تلاش کرنا جو ہماری خبر قم تک پہنچا دے تاکہ وہ خود آکر ہمیں لے جائیں۔
صبح کو ایک مزدورآیا بی بی نے فرمایا اے عبد ِخدا میں عالم مسافرت وغربت میں ہوں مجھ سے اُجر ت کا مطالبہ نہ کرنا اگر غریب سید زادی پر احسان کرسکتا ہے تو قم والوں کو ہماری اطلاع دے۔۔ ان سے کہو امام زادی کافی سفر کرکے تھک چکی ہے اور چلنے کے قابل نہیں خود آکر مجھے لے جائو۔۔ اس محنت کی مزدوری میرا نانا رسول ؐ اور میری ماں زہراؑ دے گی۔۔ اس ایرانی مزدور نے رو کر عرض کیا اے بی بی میں اُجرت کی خواہش لے کر حاضر نہیں ہوا بلکہ خوشنودی خدا و رسول ؐ کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ فرمائیں کس شخص کو اطلاع دینی ہے؟ بی بی نے موسیٰ بن خزرج کا نام لیا اور وہ روانہ ہوا موسیٰ بن خزرج کو جب اطلاع پہنچی تو اس نے ہر گلی و کوچہ اور ہر دَر پر صدا بلند کی کہ اے قم والو! تم ترستے تھے کہ کبھی ہمیں بھی اپنے امام ؑکی خدمت کا موقعہ ملے گا تو امام ؑنہیں لیکن امام زادی فاطمہ بنت موسیٰؑ لمبے سفر سے تھک کر ساوہ تک پہنچی ہے چلو امام زادی کو لے آئو ان کی خدمت سے خداو رسولؐ کی خوشنودی کا پروانہ حاصل کرو۔   
چنانچہ اہل قم زن و مرد جو ق در جوق روانہ ہوکر ساوہ میں پہنچے تو عورتیں حویلی میں داخل ہوئیں جہاں امام زادی بسترعلالت پر محو آرام تھی۔۔ انہوں نے پہنچ کر امام زادی کا سلام کیا کسی نے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔۔ کسی نے سر کے پریشان بالوں کو چوما۔۔ کسی نے قدموں پر منہ رکھا۔۔ آہ و فغاں کی صدائیں بلند ہوئیں، بی بی نے فرمایا ہو گا قم والیو! تمہارے پردے سلامت رہیں۔۔ آباد رہو ہمیں تو نا نا کی امت نے اجاڑ دیا انہوں نے عرض کیا ہوگا اے شہزادی ! تیرے تو اٹھارہ بھائی تھے کاش کوئی ایک تو ہمراہ ہوتا۔
بہر کیف تیار ی ہوئی ایک محمل امام زادی معصومہ قم کے لیے مخصوص کیا گیا موسیٰ بن خزرج نے اعلان کیا کہ تما م مرد آگے نکل جائیں اور خبر دار بی بی کے محمل پر کسی غیر مرد کی نگاہ نہ جائے۔۔ بی بی کے محمل کے اردگرد مستورات کے محمل ہوں چنانچہ اس سے پہلے کسی شہنشاہ کا بھی اس قدر والہانہ استقبال نہ ہوا ہو گا جو بی بی کے لیے ہو ا۔
لیکن مجھے کہنا پڑتا ہے کہ ہر بہن کی اپنی قسمت اے معصومہ قم! تجھے اپنے بھائی سے زندگی میں ملاقات تو نصیب نہ ہو سکی لیکن اہل قم نے تیرا شایان شان ایسا استقبال کیا کہ سفر کے زخم دھل گئے۔۔ ہائے زینب!بھائیوں کے بعد شامیوں نے تیرا کیا استقبال کیا ؟ پہلے سوار ہو کر آرہی تھیں شام کے قریب پہنچ کر حکم ملا کہ دربار تک کا سفر پیدل عبورکرنا ہے، معصومہ قم جب شہر قم میں داخل ہوئیں تو گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر عورتوں نے استقبال کیا ہو گا لیکن جھولیوں میں پھول اور ہاتھوں میں خاک شفا کی تسبیح اور زبان پر وردِ دُرود جاری تھا لیکن جب مسافرہ شام وارد شام ہوئیں تو عورتیں چھتوں پر تھیں لیکن جھولیوں میں پتھر اور ہاتھوں میں بھی پتھر اور زبان پر یہ نجس کلمہ جاری تھا کہ دیکھو وہ باغی کی بہن آگئی اتنے پتھر برسائے گئے کہ بی بی کو کہنا پڑا شام والیو! پتھروں کی برسات کم کرو میرے بھائی کے یتیم بچے زخمی ہوگئے۔۔۔ پس معصومہ قم اپنی منزل پر پہنچی جو موسیٰ بن خزرج نے بی بی کے لیے خالی کرائی تھی اَٹھارہ دن (بمطابق بحار الانوارجلد۱۴) بیمار رہیں اور بیماری روز بروز بڑھتی گئی آخر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا دشوار ہو گیا۔
بی بی نے فرمایا کنیز میرے بھائی کے ملنے کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں اور تابِ طبیعت نہیں رہی اب میں موت کے انتظار میں ہوں۔۔ میں جب مرجائوں تو موسیٰ بن خزرج کو اطلاع دے دینا، چنانچہ اشاروں سے نماز ادا کی اور بستر پر سو گئیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن کنیز نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔۔ ہاتھ پائو ں دراز کیے اور اوپر چادرڈال دی اور خود رونے بیٹھ گئی، ادھر سے غالباََ نماز صبح کے بعد جب موسیٰ بن خزرج دروازہ سے گزرا تو کنیز کی آہ وبکا سن کر رُک گیا دستک دے کر عرض کیا میری مخدومہ کو زیادہ تکلیف تو نہیں ہے؟ کنیز نے عرض کیا تم تکلیف کا پوچھتے ہو بی بی کا انتقال ہو چکا ہے۔۔ یہ سننا تھا کہ موسیٰ بن خزرج نے عمامہ اتارا گریبان چاک کیا اور روتا ہوا گلیوں کوچوں میں بہ آواز بلند کہہ رہا تھا قم والو! تمہیں سونا یاد ہے آج امام رضا کی بہن سفر آخرت کو چلی گئی ہے آج مصیبت کا دن ہے تمہاری مہمان امام زادی (معصومہ قم ) کا انتقال ہو چکا ہے۔
 یہ سنتے ہی عورتوں نے بچوں کو ساتھ نہ لیا پریشان وگریان حویلی کی طرف پیٹتی ہوئی دوڑیں دیکھا تو امام زادی انتقال فرما چکی تھیں۔۔ صدائے گریہ اس قدر بلند ہوئی کہ ادھر صف ملائکہ میںصف ماتم بچھ گئی ہو گی اور حورانِ جنت سے بھی صدائے ماتم بلند ہوئی ہو گی۔۔ پس تجہیز و تکفین کا انتظام ہوا عورتوں نے غسل مکمل کیا اور کفن پہنایا مردوں نے قبر تیا رکی اور جنازہ اٹھایا جب نماز پڑھی گئی تو موسیٰ بن خزرج نے ایک دفعہ قبر کو دیکھا اور پھر جنازہ کو دیکھا پس چیخ نکلی اور ہائے ہائے کی آواز بلند ہوئی۔۔ اہل قم نے پوچھا اے موسیٰ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو جواب دیا روتا اسلئے ہوں کہ میت کے پانچ کام ضروری ہو ا کرتے ہیں چار ہوگئے اور پانچواں کرنے والا کوئی نہیں۔
غسل عورتوں کے ذمہ تھا وہ ہوگیا۔۔ کفن بھی عورتوں کے پہنا دیا۔۔ قبر مردوں کے ذمہ تھی تیار ہوگئی اور جنازہ بھی مردوں نے پڑھ لیا اب پانچواں کام باقی ہے دفن کرنا اور شریعت پیغمبر ؐ کا حکم ہے کہ عورت کو قبر میں اتارنے کے لیے اس کا محر م ہونا چائیے یا بھائی یا باپ ہم ہاتھ نہیں لگا سکتے اور عورتیں دفن نہیں کر سکتیں۔۔ یہ وہ بی بی ہے جس کی ماں کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا تھا، امام رضا ؑ کی بہن ہے امام موسیٰ کاظم ؑ کی بیٹی ہے رسول کی نواسی ہے اور زہرا ؑکی پوتی ہے روتا اس لیے ہوں اس کو دفن کون کرے گا؟
قم کے عالم دین ضعیف العمر کو لایا گیا تو انہوں نے فتویٰ دینے کی جرأت نہ کی بلکہ یہی کہا کہ استغاثہ کی صدائیں بلند کر و۔۔ چنانچہ اہل قم نے استغاثہ کیا، ابھی تک استغاثہ ختم نہیںہو ا تھا کہ خراسان کی جانب سے گرد اٹھی جب گرد پھٹی تو ایک گھوڑا سوار نظر آیا جس کے سر پر سرخ عمامہ تھا اور آنکھیں پر نم تھیں۔۔ پس گھوڑے سے اُترا۔۔ عمامہ کو کو چ میں رکھا۔۔ گریبان کھولا۔۔ آستینیں اُلٹیں اور نعلین اُتار کر معصومہ کی میت کی طرف بچشمِ گریاں روانہ ہوا۔۔ تو موسیٰ بن خزرج کہتا ہے کہ مجھے اور اہل قم کو معلوم ہو گیا کہ یہ معصومہ کا وارث ہے۔
یہاں تک روایت کا تعلق ہے لیکن مجلس خواں مقام کی مناسبت اور زبان ودرایت سے بیان کرتے ہیں کہ روح کا روح سے تعلق ہے جب امام ؑنے قدم بڑھایا اور مشامِ عصمت میں خوشبو پہنچی تو معصومہ کی میت تڑپی اور جوں جوں قریب ہوتے گئے اضطراب بڑھتا گیا۔۔ پس سرہانے کھڑے ہو کر فرمایا قم والو! تم گردنیں جھکا لو میں بہن سے کلام کرتا ہوں، پس امام ؑنے سرہانے کی طرف بند کفن کھولا اور پیشانی پر بوسہ دے کر کہا آنکھیں کھولو میں رضا ؑ ہوں۔۔ پس میت تڑپی اور بند کفن کھلے دونوں ہاتھ بلند کر کے بھائی کی گردن میں ڈال کر کہا اُس وقت آئے جب بہن کا روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا۔۔ ہائے میرے زخمی ہاتھوں کو دیکھو۔۔ میرے زخمی پائوں کو دیکھو۔۔ تیر ی خاطر میں نے کتنے مصائب جھیلے ہیں؟
وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ  یَّنْقَلِبُوْن

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 5 =