۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
News Code: 362634
14 ستمبر 2020 - 02:03
تقویم حوزہ: ۲۵ محرم الحرام ۱۴۴۲

حوزہ/تقویم حوزہ: ۲۵ محرم الحرام ۱۴۴۲؛شهادت امام سجاد علیه السلام، 94ه-ق۔

حوزہ نیوز ایجنسیl
 تقویم حوزہ:
آج:
عیسوی: Monday - 14 September 2020
قمری: الإثنين،(دو شنبہ،سوموار) 25 محرم 1442

آج کا دن منسوب ہے:
سبط النبي حضرت امام حسن مجتبی علیه السّلام
سیدالشهدا و سفينة النجاة حضرت امام حسین علیهما السّلام

آج کے اذکار:
- یا قاضِیَ الْحاجات (100 مرتبه)
- سبحان الله و الحمدلله (1000 مرتبه)
- یا لطیف (129 مرتبه) کثرت مال کے لیے

اہم واقعات:
شهادت امام سجاد علیه السلام، 94ه-ق
➖➖➖➖➖
پچیسویں مجلس -- یَوْمَ نَدْعُوا کُلَّ اُنَاسٍ بِـاِمَامِھِمْ

(اس دن کو یا د رکھو) جس دن ہم سب لوگو ں کو اپنے اپنے امام کے ساتھ بلائیں گے۔۔ امام کے معنی ہیں آگے چلنے والا پس آگے چلنے کا وہی حقدار ہے جو راستے سے انجان نہ ہو۔
کس قدر دانشمند ہیں وہ لوگ جو خود تو اندھے ہوں لیکن ان کا پیشوا (امام) آنکھیں رکھتا ہو اور کتنے احمق ہیں وہ آنکھوں والے جو آنکھوں کے باوجود نابینے کے پیچھے چلنا پسند کریں۔
کس قدر نیک بخت ہے وہ شخص جس کو اللہ نے حضرت علی ؑجیسا امام عطا فرمایا ہے حالانکہ یہ مقام حضر ت ابراہیم ؑ نے اللہ سے مانگ کر لیا تھا۔۔ جب عالم ملکوت کی حضرت ابراہیم ؑ کو سیر کرائی گئی تو زیر عرش ایک تصویر نور کو دیکھا، پس دریا فت کیا کہ یہ کس کی تصویر ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ تیری پوتی۔۔ سلطان الانبیا ٔ کی شہزادی۔۔ میری کنیز خاص فاطمہ زہرا ؑکے نورکی تصویر ہے، تو حضرت ابراہیم ؑنے عرض کیا اس کے سر پر نورانی تاج کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا یہ اس کے والد حضرت خاتم الانبیا ٔ کا نور ہے، پھر پوچھا اس کے گلے میں نورانی ہا ر کیا ہے؟ تو جواب ملا یہ اس کے پاک شوہر علی ؑبن ابی طالب ؑکا نور ہے، پھر عرض کیا اس کے کانوں میں وہ نورانی گو شوارے کون ہیں؟ تو جواب ملا یہ اس کے دو شہزادوں حسن ؑ و حسین ؑ کا نور ہے، پھر پوچھا ان کے گرد نَو نورکن کے ہیں؟ تو جواب ملا اس کی اولاد میں سے نواماموں کے انوار ہیں، پس عرض کیا کہ ان چودہ کے گرد تا حد نگاہ انوارکن کے ہیں؟ تو جواب ملا یہ ان کے قیامت تک ہونے والے شیعوں کے انوار ہیں، تو حضرت ابراہیم ؑنے عرض کیا اے اللہ!  مجھے ان چودہ کے شیعوں میں سے کر کے اُٹھانا۔۔۔۔۔ پس شیعوں کی نسبت حضرت علی ؑکی طرف ہے بلکہ ان کی پہچان یہی ہے کہ مولا علی ؑکے شیعہ ہیں پس ان کو ایسے کردار سے گریز کرنا چاہیے جس کو دیکھ کر حضرت علی ؑ بیزار ہو جائیں۔
چنانچہ مسجد کوفہ سے نکلتے ہوئے چند آدمیوں نے حضرت علی ؑکو سلام عرض کیا تو آپ نے دریافت فرمایا تم کون ہو؟ تو وہ کہنے لگے ہم لوگ آپ کے شیعہ اور حبدار ہیں، تو آپ نے فرمایا  مَا لِیْ لا أریٰ فِیْکُمْ سِیْمَا الشِّیْعَۃِ میں حیران ہوں کہ تم میں شیعوں کی ایک بھی علامت موجود نہیں؟ تو وہ کہنے لگے شیعوں کی کیا علامتیں ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ان کی آنکھوں میں خوفِ خدا کی وجہ سے آنسوئوں کی نمی ہوا کرتی ہے۔۔ پیشانی سجدۂ ربانی کی گواہ ہوتی ہے۔۔ ماہِ رمضان کے روزوں سے ان کے پیٹ پشت سے ملے ہوتے ہیں،  ایسا نہ ہو جس طرح عا م لوگوں میں ایک فقرہ مشہور ہے:  کھادی رَکھ تے پیتی رَکھ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  دم حیدرؑ حیدرؑ کیتی رَکھ امام ؑنے فرمایا شیعو! ہماری زینت بنو ہمارے لیے داغ مت بنو؟
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا میرے والد حضر ت امام محمد باقرؑ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی شہر میں دس ہزار لوگوں کی آبادی ہو اور ہمارے شیعوں میںسے صر ف ایک گھر ہو تو وہ ایسا ہونا چاہئے کہ اگر باہر کا مسافر آکر پوچھے کہ اس شہر میں کوئی دیانتدار۔۔ مہمان نواز۔۔ عبادت گزار آدمی موجود ہے؟ تو ۹۹۹۹ گھر اسی ایک گھر کی طرف اشارہ کر کے کہیں کہ وہ ایک گھر ہے اگرچہ ہے شیعہ؟
دیکھئے ۔۔۔ ہم اگر بدمعاش امام پسند نہیں کرتے تو ہمار ا امام بھی بدمعاش غلام کو پسند نہیں کرتا، جس طرح کہ امام حسین ؑ نے اعلانِ جنگ کے بعداپنی فوج کو چھُٹی دے دی اور کافی آدمی چھوڑ کر چلے گئے۔۔ گویا امام اس سخت ترین وقت مین بھی فوج کی چھانٹی کر کے واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہمیں بھرتی کی ضرورت نہیں بلکہ ہمارے موالی تھوڑے ہوں تو بیشک ہوں لیکن جو ہوں وہ حبیب بن مظاہر کی طرح ہوں۔
ابو ثمامہ صیداوی نے عرض کیا حضور! ہم چاہتے ہیں کہ آخری نماز آپ کی اقتدأ میں ادا ہوجائے تو آپ نے دعا دی اللہ تجھے نمازیوں میں سے کرے کہ تو نے اس مشکل وقت میں بھی نما ز کو یاد کیا ہے؟ جب ہماری پہچا ن ہی مولا علی ؑکے نام سے ہے تو ہم ایسا کام کیوں کریں جس سے ہمارا امام ناراض ہو؟ اور قیامت کے دن امت کا حساب امام ہی کے ذمہ ہو گا، اللہ تعالیٰ کرسی ٔعدالت پر نہیں بیٹھے گا کیونکہ جو کرسی پر بیٹھتاہے کرسی اس کی ٹیک بنتی ہے اورجو ٹیک کا محتاج ہو وہ خدا نہیں؟ پس کرسی عدالت پر امام علی ؑہوںگے۔
چنانچہ پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا حدیث وسیلہ میں ہے ایک منبر نصب ہو گا جس پر میں ہوں گا اور اس کے ساتھ دوسرے منبر پر علی ؑ تشریف فرما ہوںگے۔۔ رضوانِ جنت اور دربانِ جہنم دو نوں جنت اور جہنم کی چابیاں میرے قدموں میں ڈالیں گے تو وہ میںحضرت علی ؑکو دے دوں گا۔۔ پس علی ؑاپنے موالیوں کو جنت میں اور دشمنوں کو جہنم میں پھینکے گا۔
 مروی ہے کہ پل صراط جو جہنم کے اوپر ہو گی جب لوگ اوپر سے گزریںگے تو مولا علی ؑ دوزخ کو خطاب کر کے فرمائیں گے کہ وہ تیرا ہے اسے ہڑپ کرجا اور یہ میرا  ہے اس کو چھوڑ دے۔۔ اس لیے حضرت علی ؑ کا لقب ہے قَسِیْمُ الْنَّارِ وَالْجَنَّۃِ۔
شیعوں کی پہچان نام علی ؑ سے اس طرح ہے کہ مثلا ًکوئی تاریک رات میں کسی راستہ پر جارہا ہو اور دائیں یا بائیں کہیں سے آواز اس کے کان میںپہنچے یاعلی ؑ،  اگرچہ اس نے اس کو دیکھا نہیں۔۔ نہ قدوقامت معلوم۔۔ نہ نرومادہ کی خبر۔۔ نہ جن وانس کا پتہ ہے۔۔ صرف نام علی ؑ سن کر یہ آدمی خود فیصلہ کرے گا کہ جو بھی ہے۔۔ہے شیعہ۔
اسی طرح کسی بچے کا نام غلام علی یا غلام حیدر وغیرہ ہو تو فوراََ فیصلہ کرے گا کہ کسی شیعہ کا بچہ ہے کسی مکان کے دروازہ پر نام علی لکھا دیکھے تو پوچھنے کی ضرورت نہیں خودبخود سمجھ جائے گا کہ شیعہ کا گھر ہے اور مسجد کے دروازہ پرنام علی دیکھے تو ہر بندہ یہی فیصلہ کرے گا کہ یہ شیعہ کی مسجد ہے قرآن کے پہلے خالی ورق پر نام علی لکھ دیا جائے تو ہر قرآن اٹھانے اور پڑھنے والا سمجھ جائے گا یہ قرآن بھی کسی شیعہ کا ہے۔۔۔۔۔ حدیہ ہے کہ کلمہ لااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھ کر خاموش ہوجائے تو کہا جائے گا کہ مسلمانوں والا کلمہ ہے اور اگر بعد میں کہہ دیا جائے کہ عَلِیٌّ وَّلِیُّ اللّٰہ تو کہا جاتا ہے پورا کلمہ شیعوں کا ہے۔۔ حالانکہ پہلے دو حصوں پر تو اتفاق تھا کہ وہ مسلمانوں کا کلمہ ہے؟ گویا معلوم ہوا جس کلمہ توحید کے بعد علی ؑ کا نام ہو وہ کلمہ توحید شیعوں کا ہے اور جس کلمہ رسالت کے بعد علی ؑ کا ذکر ہو وہ کلمہ رسالت شیعوں کا ہے، اذان میں بھی اگر اللہ اکبر سے لاالہ الااللہ تک درمیان میں علی ؑ کی ولایت کی گواہی نہ ہو تو اذان عام مسلمانوں کی ہے اور ولایت علی ؑکی گواہی آجائے تو اذان شیعوں کی ہے آجکل تو بسوں اورکاروں پر بھی نام علی ؑلکھا دیکھ کر آسانی سے پہچان کی جاسکتی ہے کہ ان کا مالک یا ڈرائیور شیعہ ہے۔
اگرمولا علی ؑ کا نام سن کر گھبرانے والوں سے پوچھا جائے کہ تم لوگ یہ نمازیں۔۔ روزے۔۔ حج۔۔ زکواۃ۔۔ خیرات و صدقات تو اسی لیے ہی انجام دیتے ہو کہ بہشت نصیب ہو لیکن جب تمہارا خیال ہے جہاں علی ؑ ہو وہ شئے شیعوں کی ہوتی ہے تو پہلے کسی سے پوچھ تو لو کہیں جنت کے دروازہ پر کرسی علی ؑ کی نہ ہو؟
ہاں ہاں۔۔۔۔۔ وہاں حضرت علی ؑ کا ڈیرہ ہو گا اور قسیم جنت وہی ہوں گے، یہاں نام علی ؑ سننے سے طبیعت گھبراتی ہے وہاں تو خود بنفس نفیس موجود ہوں گے پھر تم اتنا ہی کرسکو گے کہ اِدھر سے آنکھیں بند کر کے اگلے گھر (جہنم)چلے جائو گے اور شیعانِ علی ؑنعرئہ حیدر ی لگاتے ہوئے اسی گھر (جنت)میں داخل ہوجائیں گے۔
حضرت علی ؑ جس کا نام ہی علی ؑہے اس کی عظمت کا کیا کہنا؟ علی ؑ کا معنی ہے بلند۔۔کس سے بلند؟ کتنا بلند؟ یہ نام رکھنے والا ہی بتائے گا؟ لیکن یاد رہے یہ نام ابوطالب ؑ اور فاطمہ بنت اسد نے تجویز نہیں کیا ہے اور نہ ہی حضرت محمد مصطفی نے  رکھا بلکہ یہ نام اس نے رکھا ہے جس نے علی ؑ کو علی ؑ بنایا ہے۔
اَمینۂ امامت والدئہ حضرت علی ؑ جناب فاطمہ بنت اسد اپنے بیت الشرف میں آرام فرما تھیں کہ توحید کی مخصوص وائرلیس کے ذریعے خفیہ طور پر کان و کان اطلاع پہنچی میری امانت کی ادائیگی کا وقت قریب ہے میرے گھر آکر میری امانت ادا کیجئے؟ چنانچہ امینۂ امامت نے اپنے بیت الشرف سے بیت اللہ کا قصد فرمایا، پہنچ کر مقامی دستور یا حضرت عبدالمطلب ؑکے قانون کے مطابق کعبہ کا طواف شروع کیا ابھی طواف پورا نہیں ہوا تھا کہ فوری طور پر امانت کی ادائیگی کا مطالبہ شروع ہوا، دیکھا در بند تھا تو پچھلی طرف دیوار کا سہارا لے کر بی بی نے عرض کیا اے اللہ! تجھ پر  اور تیرے خلیل اپنے جدّ حضرت ابراہیم ؑ پر بھی ایمان رکھتی ہوں تجھے اس مولود کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے ادائیگی امانت کی گھڑی آسان فرما اور اس کے اسباب خود مہیا فرما۔۔۔ چنانچہ کعبہ کو جنبش ہوئی اور فوراََ پریشانی ہٹی۔۔ مشکل کٹی۔۔ دیوار پھٹی اور شہر علم کے دَر کے لیے نیا در کشادہ ہوا اور صاحب ِخانہ کی دعوتِ خصوصی پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اندر داخل ہوئیں تو جناب آسیہ ؑو حضرت مریم ؑکے ہمراہ حورانِ جنت نے بڑھ کر استقبال کیا، دیوار مل گئی اور در بند ہوا تو تاریکی میں نورِ پروردگار کی کرنوں نے اجالا کر دیا، امانت ادا ہوئی۔۔ اضطراب ختم ہوا۔۔ حورانِ جنت نے ولی اللہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور تین دن مسلسل دستر خوانِ توحیدپر مہمان رہیں پھر مرخص ہوئیں تو کس انداز سے؟ جہاں سے آتے ہوئے درکھلا تھا اسی مقام سے پھر درکشادہ ہوا اور امینۂ امامت اب متاعِ امامت کو بصورت ِناطق قرآن جنتی غلافوں میں لپیٹ کر اپنے سینے کا تعویز بنائے ہوئے باہر نکلیں۔
جب بی بی اندر گئی تھیں تو باہر بیٹھے ہوئے سردارانِ قریش عباس بن عبدالمطلب اور ابو جہل مخزومی حیران ہورہے تھے کہ باشعور مستور نے سنت عبدالمطلب کے خلاف آدابِ کعبہ کو نظر انداز کرکے طواف کو ادھورا کیوں چھوڑا؟ دیکھا دروازہ ویسے کا ویسے بند ہے اور قفل لگا ہوا ہے۔۔ قدموں کے نشان ایک مقا م پر رُک گئے کہ آگے بڑھی نہیں اُوپر کو چڑھی نہیں پس دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ واپس ہٹی نہیں۔۔ زمین پھٹی نہیں۔۔ دروازہ کھلا نہیں تو کہاں گئی ہوں گی؟
چنانچہ یہی خبر پورے مکہ میں پھیلی اور زن و مرد صحن بیت اللہ میں جمع ہوگئے جتنے منہ اتنی باتیں اور بی بی کے باہر آنے تک تین دن مسلسل یہی چرچا رہا اور لطف کی بات یہ ہے کہ جس کے گھرکا معاملہ تھا اور جس کی ناموس موضوعِ گفتگو تھی (ابوطالب) وہ آرام سے اپنے گھر رہے، اب تیسرے دن جو باہر تشریف لائیں اور لوگوں کا ہجوم دیکھا فوراََ کھڑی ہوگئیں اور خطاب کر کے فرمایا مَنْ مِثْلِی میر ی مثل کون ہوسکتا ہے؟ یعنی حضرت حوا ؑسے آج تک کی کوئی عورت اس شرف میںمیرے ہم پلہ نہیں ہو سکتی کہ میں مسلسل تین دن کے لیے دستر خوان توحیدپر بلائی گئی اور پاک مستورات میری خدمت کے فرائض انجام دیتی رہیں۔۔۔ بیشک حضرت مریمؑ کیلئے ایک دن کے لیے کھانا آیا تھا لیکن اسے نہ بلایا گیا بلکہ کھانا پہنچایا گیا اور میر ی طرف کھانا نہیں لایا گیا بلکہ مجھے خود دستر خوانِ توحید پر بلایا گیا۔
میں نہیں سمجھ سکا کہ حضرت مریمؑ کا قصہ تو سورہ ٔ آلِ عمران میں ہے اور ابھی تک وحی کا نزول نہیں ہوا تھا بلکہ دس سال بعد ہونا تھا تو امام علی ؑ کی والدہ نے سورہ آلِ عمران میں بیان ہونے والے حضرت مریمؑ کے قصہ کو کس سے پڑھا تھا؟
اب تین دن تک گھر میں خاموش بیٹھے رہنے والے کو جتلانے والی ذات نے ظاہری اسباب کے بغیر جتلادیا اوروہ از خود ولی اللہ فرزند کے استقبال کے لیے بسوئے کعبہ روانہ ہوئے اور راستہ میں ملاقات ہوگئی۔۔ اُدھر مشامِ امامت میں حضرت ابو طالب ؑکی پاکیزگی کی خوشبو مہکی تو ید اللہی معصوم ہاتھوں کو جنبش دی تو جنتی غلافِ وجہ اللہی چہرۂ انورسے ہٹاتے ہوئے بابا کے چہرہ کی زیارت کرتے ہوئے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھ کر عرض کیا  اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا اَبَتَاہ حضرت ابو طالبؑ نے بڑھ کر مولا علی ؑکو ہاتھوں میں لیا اور سینہ سے لگایا گھر پہنچے دونوں وجہ اللہ کا دیدار کرکے خوش تھے کہ نام رکھنے کی تجویز پیش ہوئی تو غالباََ فاطمہ بنت اسد کا خیال تھا کہ اس کا نام اسد ہو اور ابو طالب کا خیال تھا کہ نام ہاشم ہو لیکن مہذب خاندان کے مہذب فرد نہ تو ایک دوسرے کی دل شکنی گوارا ہے اورنہ زبردستی اپنا نظریہ دوسرے پر ٹھونسنا ان کا دستورہوتا ہے۔۔۔ تو حضرت ابو طالب ؑنے کہہ دیا کہ اس کا نام وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ رکھے گا، یعنی تم بھی اپنا خیال چھوڑو اورمیں بھی اپنا نظریہ ترک کرتا ہوں اگر یہ ہمارے گھر پیدا ہوتا تو نام ہم رکھتے اب جس کے گھر میں پیدا ہوا ہے نام بھی وہ خود رکھے گا۔۔ چنانچہ درِ کعبہ پر پہنچے دہلیز کعبہ پر ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ میں ولی اللہ کو تھاما پس حضرت ابو طالب ؑگویا ہوئے:
یَا رَبَّ ھٰذَا الْغَسَقِ الدُّجٰی وَالْقَمَرِ الْمُبَلَّجِ الْمُضِیْ
اے اس تاریک رات اور روشن چاند کا پروردگار
بَیِّنْ لَنَا مِنْ أمْرِکَ الْخَفِیّ مَاذَا نُسَمِّیْ ذٰلِکَ الصَّبِیْ اپنا مخفی امر واضح فرما کہ ہم اس بچے کا نام کیا رکھیں
 یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس وقت مکہ کے رؤسا اور صنا دید قریش کے جم غفیر میں حضرت ابو طالب ؑاپنے بچے کانام پوچھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے اے تاریک رات اور روشن چاند کا پروردگار تو ہی بتا کہ اس بچے کا نام کیا ہونا چاہئے؟ تو مشرکین مکہ کے سامنے اللہ کی ربوبیت کا اعلان کرنا اوران کے خدائوں کو نظر انداز کرنا حضرت ابو طالب ؑکا جرأت مندانہ اقدام تھا۔۔ مشرکین مکہ غالباََ اسی دن سے سمجھ گئے تھے کہ اس کا دین اور ہے اور ہمارا دین اور ہے اور اگر آج بھی اس دور کے مشرک دوبارہ زندہ ہوجائیں تو ان کو حضرت ابو طالب ؑکی توحید پرستی پر شک نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے کانوں اعلانِ نبوت سے دس سال پیشتر حضرت ابو طالب ؑکی توحید پرستی کا اعلان سن چکے تھے۔۔ پس ان مشرکوں سے بدتر ہیں وہ لوگ جو اب بھی حضرت ابوطالب ؑکے ایمان کا انکار کرتے ہیں۔
بہر کیف حضرت ابو طالب ؑکی التجا ختم ہوئی اور توحید کی طرف سے جوابی کلمات فوراََ فضا میں گونجے۔۔ حضرت موسیٰ کے لیے درخت زیتون کے پتے اور وادیٔ مقدس کے کنکرے زبانِ توحید بن کر گویا ہوئے تھے اور حضرت ابو طالب ؑکے لیے مسجد الحرام کا ہر ذرّہ۔۔ فضا کا ہر لمحہ اور کعبہ کا ہر گوشہ زبانِ توحید بن کر گونجا، اتنے ہی کلمات۔۔ وہی قافیہ۔۔ وہی ردیف اور وہی وزن آواز آئی:
خَصَّصْتُمَا بِالْوَلَدِ الذَّکِیّ الطَّاھِرِ الْمُنْتَخَبِ الرَّضِی
تمہیں ذکی فرزند سے مخصوص کیا گیا جو طاہر برگزیدہ پسندیدہ ہے
اِسْمُہُ مِنْ شَامِخٍ عَلِیّ عَلِیُّ نِ اشْتَقَّ مِنَ الْعَلِی
اس کا نام بلنداللہ کی طرف سے علی ؑہے جو علی ؑسے مشتق ہے
 یعنی تمہیں معمولی بچہ نہیں بلکہ ذکی فرزند عطا کیا گیا ہے۔۔ یہ کفر و شرک کی نجاستوں سے وہاں جاکر پاک نہ ہو گا بلکہ پاک کر کے بھیجا گیا ہے، یہ دنیا میں چنائو کا محتاج نہیں ہم نے اس کو چن کر بھیجا ہے اور یہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ کا محتاج نہیں ہے بلکہ ہم نے اس کو اپنے دفتر رضا کا انچارج کرکے بھیجا ہے۔۔ میں خود علی ہوں لہذا اس کا نام بھی علی ؑرکھ دیجئے۔
پس حضرت علی ؑتو وہ امام ہے جس طرح امام ہونے کا حق ہے ہمیں بھی ایسا غلام بننا چاہیے جس طرح غلام ہونے کا حق ہے۔
ہمارے مذہب میں توحیدو نبوت وامامت کے لیے شرائط و حدود ہیں، ہم خدا اس کو مانتے ہیں جس میں خدائی صفات موجو د ہوں۔۔ جو ہونی چاہییں وہ صفاتِ ثبوتیہ ہیں اور جونہیں ہونی چاہییں وہ صفاتِ سلبیہ ہیں، اسی طرح نبی بھی ہر دعویدارکو ہم نہیں مانتے بلکہ اس کے لیے شرائط او ر اوصاف ہیں:
ایک شرط یہ ہے کہ معصوم ہو ہم غیر معصوم کو قطعاََ نبی ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
شیعوں کے نزدیک ایک اہم شرط ہے کہ نبی کا فرزادہ نہ ہو نہ اس کا باپ کافر ہو اور نہ ماں کافرہ ہو۔۔ اگر کا فرزادہ ہو گا تو نبی نہیں ہوگا اور اگر نبی ہے تو کافرزادہ نہ ہو گا۔
نبی اپنی امت کو والدین کی اطاعت کا حکم دیتاہے اور اگرخود اس کے اپنے ماں باپ کافر ہوں۔۔ پس اگر ان کی اطاعت نہ کرے تو لوگوں کو ماں باپ کی اطاعت کا حکم نہیں دے سکتا اور اگر خود ان کی اطاعت کرتاہے تو وہ اعلانِ نبوت کے خلاف ہے کیسے ان کی اطاعت کرے گا؟
ہمار ا جاہل اور نادان بچہ بھی دودھ کو نجس برتن میں ڈالنے کی جرأت نہیں کرسکتا کیونکہ اسے پتہ ہے کہ دودھ اللہ کی نعمت اور اس کی رحمت ہے اگرچہ بازاری قیمت کے لحاظ سے ایک روپے کا ہے۔۔۔ تو جب ہمارا جاہل بچہ اللہ کی ایک روپیہ کی قیمتی نعمت اور رحمت کو نجس برتن میں ڈالنا نعمت کی توہین سمجھتا ہے تو خالق کائنات نے نور محمدی کو جس کے سر پر انبیا ٔ کی سلطانی کا تاج ہے نجس رحموں یا نجس صُلبوں میں کیسے رکھا؟
ہم میں سے کوئی آدمی جب قرآن بازار سے خریدنے کے لیے جاتا ہے تو پہلے گھر میں دیکھتا ہے کہ قرآن کے شایانِ شان کوئی اس کے رکھنے کی جگہ بھی ہے؟ اگر گھر میں جگہ نہیں ہے تو اس کی جگہ بنائے گا پھر قرآن کو لائے گا۔۔ جب اس صامت قرآن کو ناموزوں مقام پر رکھنا ایک عام آدمی برداشت نہیں کر سکتا تو خالق کائنات نے مناسب صلب اورمناسب رحم کی تخلیق کے بغیر نورِ محمدی کو (جس نے عالم کو پاک کرنا تھا )کیسے خلق فرمایا؟
جس طرح نبوت کے لیے شرائط ہیں اسی طرح ہمارے نزدیک امامت میں شرائط کا ہونا ضروری ہے۔۔ پس جس طرح کسی کافر کا بیٹا نبی نہیں ہو سکتا اسی طرح کسی کافر کابیٹا بنی کا قائم مقام اور اس کا مسند نشین نہیںہو سکتا؟ پس حضر ت علی ؑ کی تمام اُمہات فاطمہ بنت اسد سے لیکر حضرت حوا ؑتک او ر تمام آبا ٔ حضرت ابو طالبؑ سے لیکر حضرت آدم ؑتک پاک تھے۔
تو شیعہ ہونے کے لیے بھی اوصاف ہیں۔۔ کچھ ثبوتیہ اور کچھ سلبیہ، یعنی مومن کے صفات جو بیان کئے گئے ہیں اس میں ہونے چائیں اور وہ صفات جو مومن کی شان سے بعید ہیں ان سے اس کو پرہیز کرنا چاہیے تاکہ بروزِ محشر اگر ہم خوش ہو کر کہیں کہ مولا علی ؑہمارا امام ہے تو مولا علی ؑبھی بسم اللہ کر کہے یہ میرا غلام ہے۔
دیکھئے۔۔۔ کر بلا کے مجاہدین نے اپنے کردار سے واضح کر دیا کہ شیعہ کیسے ہونا چائیے؟ پس تھوڑے تھے لیکن یزیدیت کے ایک بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کٹ گئے لیکن راہِ حق سے کوئی طاقت انہیں ایک انچ بھی ہٹا نہ سکی؟ آخر کار یزیدیت کا آسمان بوس قلعہ دھڑام سے گرا اور پاش پاش ہوا اور حسینیت کا پرچم آج تک بلند ہے اور بلند رہے گا۔۔ حسینی عزادار و حسین ؑ نمازیوں کا امام ہے۔
دیکھئے ۔۔۔آپ ہر شبیہ کا احترام کرتے ہیں امام حسین ؑ کے جواں فرزند نے بھی ایک شبیہ چھوڑ ی ہے اور وہ ہے اذان، تو اس مسجد میں ہونے والی اذان کو علی اکبر ؑکی اذان کی صدائے بازگشت سمجھ کر لبیک کر لیا کرو تاکہ شہزادہ علی اکبر کی روح تم پر راضی ہو اورجس کے حق میں علی اکبر نے سفارش کردی وہ یقیناََ جنتی ہے۔
آئیے دیکھئے امام حسین ؑ کے کم سن نو عمر بچے بھی نماز کو قضا نہیں ہونے دیتے تھے
حضرت امیر مسلم ؑکے دو کم سن بچوں کا حال آپ ہمیشہ سنتے رہتے ہیں کہ انہوں نے آخری وقت میں بھی دورکعت نماز ادا کرنے کی قاتل سے درخواست کی تھی، ایک سال برابر قید میں رہے۔۔۔ قید سے آزا د ہوئے تو کوفہ سے باہر رات کو نکل نہ سکے، پس ایک درخت پر چڑ ھ گئے، حار ث کی کنیز پانی بھرنے کے لیے آئی تو دو نورانی پر تو پانی میں دیکھ کر اوپر نگاہ کی تو دو ہاشمی چاند نظر آئے۔۔ پوچھا کون ہو؟ بتایا ہم امیر مسلم ؑکے دو یتیم ہیں اور ابن زیاد کے ظلم کے ڈر سے درخت پر چھپ کر بیٹھے ہیں رات ہو گئی تو شہر سے نکل جائیں گے۔۔ اس نے عرض کیا کہ میری گھر کی مالکہ  مومنہ ہے آئو تمہیں اس کے پاس لے چلوں؟ وہ تمہاری خدمت کرے گی، چنانچہ درخت سے اُترے اور اس کے ہمراہ مومنہ کے گھر وارد ہوئے۔
حضرت امیر مسلم ؑکے فرزند سمجھ کر مومنہ نے بہت عزت کی کھانا پیش کیا اور رات کو الگ کمرہ میں ان کو جگہ دی۔۔ بچے سو گئے، آدھ رات ڈھلے حارث گھر میں آیا جو تھکے ہوئے کتے کی طرح ہانپ رہا تھا مومنہ نے پوچھا کیا خبر ہے؟ کہنے لگا کہ امیر مسلم ؑکے دو فرزند ابن زیاد کی قید سے بھا گ گئے ہیں اور بہت زیادہ انعام ان کی گرفتاری پر مقرر ہوا ہے۔۔۔ سارا دن مارا مارا پھرتا رہا لیکن کہیںان کانشان نہ ملا اسلئے تھکا ہوا ہوں، فوراََ مجھے کھانا دو تاکہ کچھ آرام کر کے پھر ان کی تلاش میں نکلوں؟ مومنہ عورت نے منتیں کیں کہ اولادِ رسول کی دشمنی سے با زآجائو لیکن جھڑک دے کر اس کو خاموش کر دیا۔
روٹی کھا کر سویا ہی تھا کہ دوسرے کمرے سے رونے کی آواز بلند ہوئی شہزادوں نے عالم خواب میں رسولؐ اللہ کی زیارت کی جب کہ وہ حضرت امیر مسلمؑ سے فرما رہے تھے کہ تم اپنے بچوں کو نرغہ اعدأ میں چھوڑ کر آگئے ہو؟
پس بچوں نے یہ خواب دیکھ کر ایک دوسرے کے گلے میں باہیں ڈال کر رونا شروع کیا تو حارث نے اپنی بیوی سے پوچھا یہ رونے کی آواز کہاںسے آرہی ہے؟ مومنہ نے جواب دیا کسی ہمسایہ کے بچے ہوں گے یہ کہنے لگا اگر ہمسایہ کے ہوتے تو ان کو کوئی تسلی دینے والا ہوتا؟ ماں پیار کرتی۔۔ باپ محبت کرتا۔۔ یہ تو ایسا ہے جیسے کو ئی لا وارث بچے ہوں جن کو دلاسہ دینے والا کوئی نہیں ہے، پس اُٹھا اور اس قریبی کمرے میں داخل ہوا۔۔ دیواریں ٹٹولتا ہوا آگے بڑھتا گیا اچانک اس کے ہاتھ شہزادوں کے سروں پر پڑے۔۔ ہائے اس ظالم نے کیا سلوک کیا ہو گا؟
پوچھا کون ہو؟ بچوں نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا تیرے مہمان ہیں سید زادے ہیں۔۔ امیر مسلم ؑکے یتیم ہیں۔۔ پس بچوں کی زلفوں میں ہاتھ ڈالا اور کھنیچا تو دونوں یتیموں کے قدم زمین سے بلند ہوگئے، یہ ظالم کہنے لگا میں سارا دن تمہیں ڈھونڈتا رہا ہوں اور مجھے پتہ نہ تھا کہ تم میرے گھر میںموجود ہو؟
پس ان کو بقولِ مشہور۔۔۔ ایک ستون سے باندھ دیا اور خودساری رات سوتا رہا بچے کراہتے رہے۔۔ روتے رہے۔۔ بلبلاتے رہے۔۔ صبح سویرے ان کو قتل کرنے کے لیے چلا، پہلے اپنی بیوی بیٹے کو قتل کیا اور دریا کے کنارے پر لے آیا کہا قمیص اُتارو بچوں نے معذرت کی تواس نے ظلم کیا بچے رو رو کر چپ کر گئے۔
بقولے۔۔۔ یتیموں نے کہا اگر تو طمعِ زر و دولت کے لیے ہمیں قتل کرنا چاہتا ہے تو بازار میں جا کر ہمیں فروخت کردے اس لیے کہ ہم حضرت یوسف ؑسے حسن میں کم نہیں؟ انعام سے بڑھ کر تجھے پیسہ ملے گا، لیکن اس ظالم نے ایک نہ سنی آخر کار ایک کو قتل کیا۔۔ لاش پانی میں رک گئی پھر دوسرے کو قتل کیا اور دریا میں ڈالا، دونوں بھائیو ںکی لاشیں اکٹھی ہو گئیں۔۔۔ خداجانے مسیب کیسے پہنچیں حالانکہ دریاکا پانی اُدھر سے ہی آتا ہے؟
بہر کیف دربار ابن زیاد میں دونوں سروں کولایا گیا جبکہ خون میں غلطان تھے، تخت پر سروں کو رکھا ابن زیاد نے پوچھا کیا ہے؟ اس نے کہا مسلم ؑکے یتیموں کے سر ہیں، ابن زیاد نے کہا میں نے ان کے زندہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا تو نے ان کو قتل کیوں کیا ہے؟ پس حکم دیاکہ اس کو اسی جگہ لے جا کر قتل کر دو جہاں اس نے بچوں کو ذبح کیا ہے۔۔ پس ایک مومن کو موقعہ ملا اس نے اس کو وہیں جا کر قتل کیا اور لاش کو دریا میں پھنکا لیکن دریانے اس کی لاش کو قبول نہ کیا۔۔ پس لکڑیوںکا انبار لگا کر اوپر رکھا اوراس کے نجس مردہ کو جلا کر خاکستر کردیا۔
بقولے۔۔۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ ان سروں کو دھوکر کوئی لے آئے، چنانچہ ایک مومن نے ان دونوں سروں کو جھولی میںلیا اور گھر لایا۔۔ زوجہ نے کہا گوشت لانا تھا تو الگ کپڑا لے جاتا؟ اس قمیص کو نجس کیوں کر دیا؟ کہنے لگا اس خون کو تو نہیں سمجھتی عام گوشت نہیں امیر مسلم ؑکے دو یتیموں کے سر ہیں دھونے کیلئے مانگ لایا ہوں۔
پس مومنہ نے طشت میںرکھا اور اوپر پانی ڈالا مدت کے گرد آلو د بال تھے جو خاک و خون میںلت پت تھے۔۔ طشت کا پانی سب سرخ ہوگیا۔۔ دھو بھی رہی تھی اور بارگا ہِ بتول میں رو رو کر عرض بھی کر رہی تھی، اے حسین ؑکی ماں اس کنیز پر ناراض نہ ہونا کہ تیرے دو یتیموں کے خون میںمیرے بھی آج ہاتھ رنگین ہیں، لیکن آپ کی خوشنودی کے لیے ان کو نہلا رہی ہوں۔
پس دھو کر سروں کو طشت میں رکھا۔۔ بالوںپر کنگھی کی۔۔ آنکھوں میںسرمہ لگایا اور چاند سے چہروںکو دیکھ کر ماتم کیا ہائے تمہاری ماں دیکھتی تو اس کا کیا حال ہوتا؟ پس اوپر رومال ڈال دیا اور وہ مومن اٹھا کر دوبارہ ابن زیاد کے دربار میں حاضر ہوا۔
جب سروں کو تخت پر رکھا گیا تو ابن زیاد ملعون اگرچہ بہت سنگ دل تھا لیکن تڑپا اور کئی بار اٹھا اور بیٹھا؟ کہنے لگا جب پہلی دفعہ میں نے ان کے چہرے دیکھے تھے تو بالکل بے داغ تھے لیکن آج دیکھ رہا ہوں سیا ہ داغ موجود ہیں؟ ممکن ہے شہیدوں کے گلوئے بریدہ سے آواز آئی ہو ظالم ہمارا قاتل ساری رات ہمیں ستون سے باندھ کر طمانچے مارتا رہا۔
وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ  یَّنْقَلِبُوْن

ترتیب و تنظیم: سیدلیاقت علی

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =