۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
News Code: 362431
3 ستمبر 2020 - 14:05
تقویم حوزہ: ۱۴ محرم الحرام ۱۴۴۲

حوزہ/تقویم حوزہ: ۱۴ محرم الحرام ۱۴۴۲، سفر قید و بند اہل بیت علیهم السلام جاری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسیl
 تقویم حوزہ:
آج:
عیسوی: Thursday - 03 September 2020
قمری: الخميس،(پنجشنبہ،جمعرات) 14 محرم 1442

آج کا دن منسوب ہے:حضرت حسن بن علي العسكري عليهما السّلام

آج کے اذکار:
- لا اِلهَ اِلّا اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ الْمُبین (100 مرتبه)
- یا غفور یا رحیم (1000 مرتبه)
- یا رزاق (308 مرتبه) وسعت رزق کے لیے

اہم واقعات: 
سفر قید و بند اہل بیت علیهم السلام جاری ہے۔
ابن حجاج شیعہ شاعر کی ولادت (٣٣٠ق)
آیت اللہ سید صدر الدین عاملی اصفہانی کی وفات (١٢٦٣ق)
آیت اللہ سید ابوالقاسم لاہوری کی وفات (١٣٢٤ق)
آیت اللہ علی کاشانی کی وفات (١٤١٦ق)
➖➖➖➖➖
علامہ کنتوری تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین (ع)نے ایک نہایت فصیح وبلیغ خطبہ پڑھا جس کے چند فقرات یہ ہیں۔ الاثم لاتلبسون بعدھا الاکریث مایرکب الفراس۔ اے گروہ کوفہ و شام آگاہ ہوجاؤ کہ تم ان بدعتوں کے بعد جو مجھ پر کر رہے ہو دنیا میں بس اتنی ہی دیر رہو گے جتنی دیرانسان گھوڑے پر سوار رہتا ہے یعنی بہت جلد تباہ ہوجاؤ گے ۔ وہ دن دور نہیں کہ تمہارے سروں کو آسمان کی گردش اسی طرح پیس دے گی جس طرح چکی میں دانہ پستا ہے ۔ (دیکھو میرا یہ کہنا وہ ہے جو میرے باپ دادانے مجھ سے بتایا ہے ۔ اب میں تم سے کہتا ہوں کہ تم اپنی ساری قوت و طاقت بہم پہنچا لو ۔اور جس قدر ظلم کرنا چاہتے ہو کر ڈالو ۔ میں نے خدا پر بھروسہ کیا ہے۔ جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اسی کے دست قدرت میں تمام جانداروں کی پیشانیاں ہیں۔ میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے ، دیکھواب میں تمہارے کردار سے مایوس ہوکر بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہوں۔ اللّٰھُمَّ احبس عنھم قطر السما ء وابعث علیھم منین کسنی یوسف۔خدایا ان سے باران رحمت روک دے اور ان پر سات سال اسی طرح قحط ڈال دے ۔ جس طرح عہد یوسف میں مصر میں پڑا تھا ۔ حضرت کی مراد یہ تھی کہ آدمی کو آدمی کھاجائے اور سب ہلاک ہوجائیں۔ وسلط علیھم غلام ثقیف یسقیھم کاماً۔ مبصرہ اور ان اشقیا پر اس شخص کو مسلط کر دے جو دلیر اور جوان ہے اور مختار ثقفی کے نام سے مشہور ہے ۔ وہی ان کو کاسہائے مرگ تلخ اور ناگوار پلائے۔ ولاید ع فیھم احدا الاقتلۃ بقتلۃ وضربۃ بضربۃ۔ اور اس مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کو ان پر ایسا مسلط کردے کہ وہ ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑے جس نے کسی کو قتل کیا ہے ۔ اس کو وہ قتل کرے اور جس شقی نے ان میں سے کسی کو چوٹ کاآزاردیا ہے یعنی تازیانہ یاطمانچہ لگایا ہے۔ اس کو اسی طریقے کی سزا دے ۔ ینتقم لی ولاولیائی واھلبیتی واشیا عی منھم یہ سب باتیں مختار اس غرض سے کرے کہ میرا اور میرے دوستوں کا اور میرے اہل بیت ا (ع)ور میرے پیرو مومنین پر جو ظلم ان اشقیانے کیے ہیں۔ اس کا انتقام لے فانھم غرونا وکذبونا وخذلونا وانت ربنا علیک توکلنا والیک ابنتا والیک المصیر۔ خدایا ان مکاروں نے ہم کو فریب دیا اور یہ ہم سے جھوٹ بولے ہماری تکذیب کی ، ہم کو چھوڑ دیا۔ ہماری نصرت سے کنارہ کشی اختیار کی ہمارے حقوق کا انکار کیا ۔ خدایا اب یہ تیرے عذاب کے مستحق ہیں۔ خدایا ہم تجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تیری طرف ہمارا رجوع قلب ہے اور تیری ہی جانب ہماری بازگشت ہے۔ پھر فرمایا عمر بن سعد کدھر ہے اسے بلاؤ وہ بلایا گیا مگر آنے سے وہ کترا رہا تھا۔ جب وہ آیا تو آپ نے فرمایااے عمر بن سعد تو مجھے قتل کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ مجھے قتل کرکے یزید ملعون سے جائز ہ اور ملک رے وجرجان کی حکومت حاصل کرے گا۔ اے عمر خدا کی قسم تیری حسرت دل میں ہی رہے گی اور تیرا یہ خوابِ حکومت ہرگز شرمندہٴ تعبیر نہ ہو گا اچھا اب تو ہمارے ساتھ جو کچھ کرنا چاہے کر لے یاد رکھ کہ مجھے قتل کرکے تو دنیا و آخرت میں خوش نہ ہوسکے گا ، تو میری یہ بات کان دھرکر سن لے کہ میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ تیرا سرکوفہ میں ایک نیزہ پر بلند ہے ، اور بچے اس پر پتھر ماررہے ہیں اور اس پر نشانہ لگا رہے ہیں ۔ یہ سن کر عمر بن سعد سخت غیظ وغضب میں آگیا۔ ثم انضرف بوجھہ عنہ ، پھر آپ کی طرف سے منہ پھیر کر چل دیا۔ وناوی باصحابہ ماتنظرون بہ اور اس نے اپنوں کو للکار کر کہا کیا دیکھتے ہو سب مل کر ان پر حملہ کردو، یہ لوگ تمہارے ایک لقمہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ (مائتین فی مقتل الحسین من کتب الفریقین جلد 1 ص 344 ۔ باب 43 طبع لکھنو و جلاء العیون علامہ مجلسی ص 203 طبع ایران ) علامہ سید محسن الامین العاملی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین (ع) نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اے عمر سعد خدا تم لوگوں پر غلام ثقیف ، مختار ابن ابی عبیدہ کو مسلط کرے اور خدا تم لوگوں کی نسل منقطع فرمائے اور تم پر ایسے شخص (مختار) کو مسلط کرے جو خصوصیت کے ساتھ تجھے گھر میں بستر پر قتل کردے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اے خدا انہیں گن گن کر موت کے گھاٹ اتار ، اور انہیں اس طرح قتل فرما کہ یہ چھٹکارہ نہ پاسکیں ۔

حضرت مختار کی حمایت مسلم کے لیے دیہات سے لشکر سمیت واپسی

تاریخ شاہد ہے کہ حضرت ہانی، حضرت محمدوکثیر کی شہادت کے بعد حضرت مسلم نے میدان کا ر زار میں آ کر نہایت دلیری اور بہادری سے اپنی جان روح اسلام اور فرمان امام پر قربان کردی ، حضرت مختار جو جمع لشکر کے لیے کوفہ کے دیہات میں گئے ہوئے تھے ، انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت مسلم میدان میں نکل آئے ہیں ۔اور دشمنوں سے نبرد آزما ہیں تو اپنے دل میں کہنے لگے کہ جس صورت سے ہو سکے ، اب مجھے شہر کوفہ پہنچ کر حضرت مسلم کی امداد کرنی ہے ۔ اور ان کے قدموں میں جان دینی ہے اسی تصور کے ماتحت آپ نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ سلاح جنگ سے آراستہ ہو جائیں۔ آپ کے حسب الحکم تمام لوگ مسلح ہو گئے ۔ آپ نے بھی سلاح جنگ سے اپنے کو سنوار لیا پھر دروازے سے باہر آ کر میدان میں جمع ہونے کا حکم دیا ۔ جب تمام لوگ مجتمع ہو گئے آپ نے تر تیب قائم کی ۔ اور کوفہ کی طرف روانگی کاحکم دے دیا ۔ حضرت مختار نہایت تیزی کے ساتھ کوفہ کی طرف جارہے تھے ۔ راستے میں ایک شخص کو راستہ کے کنارے بیٹھا ہو ا دیکھ کر اس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہا ہے ، اور تجھے حضرت مسلم بن عقیل کے حالات کی کچھ خبر ہے یا نہیں ؟ اس شخص نے حضرت مختار کو کوئی جواب نہ دیا ۔ مختار وہاں سے روانہ ہو کر کچھ دور چلے تھے کہ آپ کو اس کا جواب نہ دینا بہت زیادہ محسوس ہوا آپ پھرواپس آئے ۔ اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے شخص تو کس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے اور تو نے میرے سوال کا کوئی جواب کیوں نہیں دیا؟اس نے کہا کہ میں کوفہ سے آرہا ہوں اور میں امیر ابن زیاد کا غلام ہوں ، آپ نے پوچھا کہ ادھر آنے والے لشکرابن زیاد کو کس مقام پر دیکھا ہے اس نے کہا کہ میں نے کسی شخص کو بھی نہیں دیکھا۔ حضرت مختار وہاں سے روانہ ہو کر آگے بڑھے ۔ آپ پوری سرعت کے ساتھ قطع مراحل کر رہے تھے کہ راستہ میں ایک دوسرا شخص نظر پڑا جو اندھا اور لنگڑا تھا حضرت مختار نے اس سے پوچھا کہ کہاں سے آ رہا ہے اور کس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس نے کہا کہ میں کوفہ سے آرہا ہوں آپ نے پوخھا کہ حضرت مسلم کے متعلق تجھے کیا اطلاع ہے اور وہ کوفہ میں کس حال میں ہیں ۔ نا بینا نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں دیکھا کیونکہ نابینا ہوں لیکن وہاں لوگ کہتے ہیں کہ مسلم اور ابن زیاد میں سخت جنگ ہورہی ہے۔ حضرت مختار نے جب اس نابینا سے یہ سنا کہ جنگ جاری ہے تو آپ نے اپنے لوگوں سے کہا بھائیو نہایت تیزی سے چلو تاکہ ہم کوفہ پہنچ کر حضرت مسلم کی مدد کر کے بار گاہ رسول کریم میں سرخرو ہو سکیں یہ کہہ کر آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت نہایت سرعت سے ساتھ مسافت قطع کرنا شروع کر دیا ۔اور جلد سے جلد کوفہ پہنچنے کے لئے آپ بے چین ہو گئے ۔ حضرت مختار نہایت تیزی کے ساتھ جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک بڑے لشکر سے مڈبھیڑہو گئی ۔ وہ لشکر مختار کو نہیں پہچانتا تھا اور حضرت مختار بھی ان سے ناواقف تھے ان لوگوں نے حضرت مختار سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو اور یہ لشکر کہاں لیے جارہے ہو ۔ اور مسلم وابن زیاد میں سے کس کے طرف دار ہو حضرت مختار نے فرمایا کہ میں مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی ہوں ۔ اور حضرت مسلم بن عقیل کے حمایت کے لیے جا رہا ہوں ۔

میں نے تہیہ کیا ہے کہ حضرت مسلم کے دشمنوں کو فضائے کوفہ میں سانس نہ لینے دوں گا ۔ اور زمین کوفہ کو مسلم کے دشمنوں سے پاک کر دوں گا ۔ یہ سننا تھا کہ اس لشکر نے حضرت مختار کے لشکر پر حملہ کر دیا ، حضرت مختار جوشجاعت اور فن سپہ گری میں اپنے مثال نہ رکھتے تھے جھپٹ کر لشکر مخالف کے سردار ( قدامہ) پر حملہ آور ہوئے اور اس کے سر پر آپ نے ایسے ضرب لگائی کہ سینہ تک شگافتہ ہو گیا ۔ اس کے مرنے سے لشکریوں کے ہمت پست ہو گئی اور سب میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

حضرت مختار کی امیدوں پر پانی پھر گیا

کوفے کے قریب پہنچنے پر خبر ملی کہ حضرت مسلم کو زیادیوں نے شہید کر ڈالا ہے اور ان کا سرکاٹ کر دمشق بھیج دیا ہے اور ان کے تن اطہر کو بازار قصاباں میں دار پر لٹکا دیا ہے یہ سننا تھا کہ حضرت مختار نے اپنے کو گھوڑے سے گرادیا اپنا گریبان پھاڑ ڈالا اور چیخ مار کر رونا شروع کردیا حضرت مختار کمال بیقراری کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے۔

حضرت مختار کی حکمت عملی

حضرت مختار نے موجودہ صورت حال پر غور کرنے کے بعد اپنے آدمیوں کو اپنی ہمراہی سے رخصت کردیا اور کہا کہ خداوندعالم حضرت مسلم کے بارے میں تمہیں بھی صبر عطا کرے ہم تمہارے شکرگزار ہیں کہ تم ہماری خواہش پر امداد مسلم کے لیے آگئے تھے اب جب کہ وہ ہی نہ رہے تمہارا کوفہ جانا بالکل بے سود ہے تم واپس جاؤ اور دشمن کی نگاہوں سے اپنے کو محفوظ رکھو۔ حضرت مختار نے اپنے مددگاروں کو رخصت کرنے کے بعد اپنے سلاح جنگ کو اپنے سے دور کردیا اور تن تنہا کوفہ میں داخل ہوئے ۔ کوفہ میں ایک مقام پر آپ نے دیکھا کہ سیاہ علم نصب ہے اور خیمے لگے ہوئے ہیں اور ایک خیمہ میں ابن الحارث بیٹھا ہوا ہے اور منادی پے در پے مذاکر رہا ہے کہ،جو شخص اس علم زیادی کے سایہ میں آجائے گا اس کا جان و مال محفوظ ہوجائے گا اور جو اس سے کترائے گا قتل کردیا جائے گا حضرت مختار نے جو نہی یہ منادی سنی فورا آپ جھنڈے تلے آگئے مخبر نے عمر بن الحارث کو اطلاع دی کہ بنی ثقیف کا ایک بزرگ شخص ملنے کیلئے آیا ہے ۔ عمر بن حارث نے اجازت دی ۔ حضرت مختار اس کے پاس پہنچے ، ابن حارث نے مختار کو دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ ایک مرد بزرگ اور مشہور تھے ۔ حضرت مختار نے ابن حارث سے کہا کہ اے ابوحفص مسلم کی شہادت مومن کیلئے ایک مصیبت ہے لیکن میں شکر کرتا ہوں کہ تمہارے پاس اگیا ہوں اب اس سے یہ ہوگا کہ دشمنوں کی زبان بندی ہوجائے گی اور لوگ میرے خلاف ابن زیاد کو ورغلائیں گے نہیں، ابن حارث نے کہا اے مختار تم نے ٹھیک رائے قائم کی ہے اور بہت اچھا ہوگیا کہ تم میرے پاس آکر زیر علم ہوگئے۔

اور اے مختار تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ مسلم کی مدد کیلئے نہیں نکلے اگر تم ان کی مدد کیلئے آجاتے تو یقینا قتل ہوتے کیونکہ فیصلہ یہ تھا کہ مسلم کی مدد کیلئے جو بھی آئے اسے قتل کردیا جائے چاہے وہ حکومت کا خاص ترین آدمی ہی کیوں نہ ہو اب ایسا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص تمہارے خلاف زبان نہیں کھول سکتا ۔ مختار تم مطمئن رہو اب جس قدر بھی تمہاری امداد ممکن ہوگی میں کروں گا۔ مختار کو اطمینان دلانے کے بعد عمر بن حارث ابن زیاد سے ملنے کیلئے گیا اور باتوں باتوں میں اس سے کہنے لگا کہ اے امیر تو مختار سے بہت بدظن تھا حالانکہ وہ ہمارے ساتھ ہے اول کسے کہ درزیر علم آمد مختار بود میں نے جب منادی امن کرائی تھی تو سب سے پہلے جھنڈے کے تلے مختار ہی آئے تھے اور وہ اب تک ہمارے پاس موجود ہیں ابن زیاد نے کہا کہ اچھا مختار کو میرے پاس لاؤ ، ابن الحارث نے مختار کو اطلاع دی اور وہ دربار ابن زیاد میں تشریف لائے۔ مختار کے دربار میں پہنچتے ہی دربان نعمان نے ابن زیاد سے چپکے سے کہہ دیا کہ مختار بہت خطرناک شخص ہے اس سے آپ ہوشیار رہیں اور اس کے معاملہ میں غفلت نہ برتیں۔ حضرت مختار دربار ابن زیاد میں حضرت مختار اور عمر بن الحارث وابن زیاد کی طلب پر داخل دربار ہوئے دربار میں داخل ہوکر مختار نے سلام کیا ابن زیاد نے جواب نہ دیا۔

حضرت مختار کو ابن زیاد کی اس حرکت سے بڑی شرمندگی محسوس ہوئی۔ آپ خاموش ایک طرف بیٹھ گئے ابن زیاد نے آپ کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور کہا کہ اے مختار کیا تم سے میں غافل ہوسکتا ہوں تم ہی وہ ہو جس نے مسلم کی سب سے پہلے بیعت کی اور اب جب کہ ان کا چراغ حیات گل ہوگیا ہے تو میرے علم کے نیچے آگئے ہو میں تمہارے مکروفریب کو جانتا ہوں تم نے دربار میں داخل ہوکر اپنے تکبر کی وجہ سے بلا اجازت بیٹھنے کا جرم کیا ہے ۔ نعمان یا (ابن حارث) نے جب دیکھا کہ ابن زیاد مختار کے خلاف ہی بولتا جارہا ہے تو دربار میں اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے امیرمختار کو برا بھلا نہ کہیے یہی وہ ہیں جو سب سے پہلے تیرے زیر علم آئے ہیں۔ اور تیرے بہت زیادہ طرفدار ہیں یہ سن کر ابن زیاد مختار سے مطمئن ہوگیا اور حکم دیاکہ انہیں اچھی جگہ بٹھایا جائے اور ان کو خلعت شاہی دی جائے ۔ ابھی مختار کا معاملہ دربار میں زیر بحث ہی تھا کہ دربار کے ایک گوشہ سے رونے پیٹنے کی آواز آنے لگی ابن زیاد نے کہا کہ دیکھو کون رو رہا ہے اور کیوں رو رہا ہے لوگوں نے معلوم کرکے کہا کہ رونے والے نوفل کی بیوی اور اس کا فرزند ہیں وہ کہتے ہیں کہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی نے قدامہ کو بیس آدمیوں سمیت قتل کردیا ہے۔ یہ سننا تھا کہ ابن زیاد آگ بگولا ہوگیااور اس نے فورا نعمان کو طلب کرکے کہا کہ اب بتاؤ تمہیں کیا سزا دی جائے ۔ تم نے دشمن کی سفارش کی ہے اس کے بعد ابن زیاد حضرت مختار کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا  اے مختار تمہارا مکر یہیں ظاہر ہوگیا تم نے ہمارے بعض ہمدردان کو قتل کیا ہے اور ہماری دوستی کا دم بھرتے ہو حضرت مختار نے کہا اے ابن زیاد اس کے قتل ہونے میں میری کوئی خطا نہیں ہے۔

اس معاملہ میں وہی خطا پر تھا، قدامہ اور اس کے ساتھیوں نے مجھ پر زیادتی کی تھی اور مجھے کوفہ میں داخل ہونے سے روکا تھا میں نے راستہ بنانے کیلئے ان کو قتل کیا ہے ورنہ دشمنی نہ تھی۔ حضرت مختار اور ابن زیاد میں سخت کلامی ہوئی ابن زیاد نے کہا کہ اے ملعون تو نے بیس ادمیوں کو مار دیا اگر مارنا تھا تو ایک کو مارا ہوتا جس نے مزاحمت کی تھی حضرت مختار نے جو نہی ابن زیاد کی زبان سے اپنے کو ملعون سناطیش میں آگئے اور انہوں نے ابن زیاد کے جواب میں کہا ، اے ملعون کتے تو نے مجھے ملعون کیوں کہا یہ سن کر ابن زیاد سخت غیظ و غضب میں آگیا اور قابو سے باہر ہوکر اس نے وہ دوات اٹھا کر مختار کو مارا جو قلمدان حکومت میں رکھی ہوئی تھی ۔ دوات لگنے سے مختار کو چوٹ آگئی۔

حضرت مختار اس کے رد عمل میں ایک شخص سے تلوار چھین کر ابن زیاد پر حملہ کرنے کیلئے بڑھے ابن زیاد ملعون تلوار کے خوف سے اٹھ کر بھاگا یہ دیکھ کر عامر بن طفیل اور دیگر درباریوں نے دوڑ کر مختار کو پکڑ لیا۔ حضرت مختار کو ابن زیاد نے جودوات پھینک کر مضروب کیا تھا (یا بروایت چہرے پر چھری ماری بروایت موٴرخ ہردی ابن زیاد جو عبداللہ بن عفیف کو اس سے قبل جمعہ کے دن مسجد میں ابن زیاد کے امام حسین (ع) کے خلاف بولنے پر ٹوکنے کی وجہ سے قتل کراچکا تھا ، حضرت مختار سے کہنے لگا کہ خداکا شکر ہے کہ اس نے یزید اور اس کے لشکر کو کامیابی عطا کی اور حسین (ع) اور ان کے لوگوں کو قتل کی وجہ سے ذلیل وخوار کیا ، اس پر مختار بولے۔ کذبت یاعدواللہ اے دشمن خدا تو جھوٹا ہے خدا کا شکر ہے کہ اس نے حضرت امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کو جنت و مغفرت کی وجہ سے عزت بخشی اور تجھے اور تیرے یزید ملعون کو جہنمی ہونے کی وجہ سے ذلیل و خوار ملعون و رسوا کیا ، یہ سن کر ابن زیاد نے لوہے کی وہ چھڑی جو اس کے ہاتھ میں تھی حضرت مختار کو گھسیٹ ماری جس سے حضرت مختار کی پیشانی زخمی ہوگئی اور اس سے خون جاری ہوگیا، ابن زیاد نے چاہا کہ ان کو قتل کرادے درباریوں نے قتل سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۲ واصدق الاخبار ۲۲۳) حضرت مختار قید خانہ ابن زیاد میں اس کے بعد ابن زیاد ملعون نے حکم دیا کہ مختار قید خانہ میں مقید کردیا جائے چنانچہ آپ گرفتار ہوکر قید خانہ میں پہنچ گئے اور وہاں کی بے پناہ سختیاں جھیلنے لگے۔ ادھر حضرت مختار قید خانہ کوفہ میں پہنچائے گئے اور ادھر حضرت امام حسین (ع) مکہ سے بار ادہ کوفہ روانہ ہوگئے امام حسین (ع) کواس وقت تک نہ حضرت مسلم کی شہادت کی خبر تھی اور نہ حضرت مختار کی گرفتاری اور قید کی اطلاع تھی۔

حضرت امام حسین (ع) کیلئے جناب مختار کی تمنا

حضرت مختار کو یہ تو معلوم ہی تھا کہ حضرت امام حسین (ع) مکہ میں تشریف لائے ہوئے ہیں اور عنقریب کوفہ کیلئے روانہ ہوں گے آپ یہ تمنا کررہے تھے کہ کاش کوئی ایسا شخص پیدا ہو جائے کہ حضرت امام حسین (ع) کو کوفہ پہنچا دے اور وہ یہاں پہنچ کر ابن زیاد کو قتل کردیں تاکہ قید و بند سے آزاد ہوجاؤں اور یزید کو اس کی جبروتیت کا مزہ چکھادوں۔ حضرت مختار تو حضرت امام حسین (ع) کے حالات سے بے خبر تھے لیکن ابن زیاد کو ان کی ہر نقل و حرکت کی اطلاع تھی ۔

ابن زیاد نے یہ معلوم کرنے کے بعد کہ حضرت امام حسین (ع) روانہ ہوچکے ہیں۔ حر کی سرکردگی میں ایک ہزار کا لشکر بھیج کر عمر سعد کو جنگ حسینی کا کمانڈر انچیف بنادیا اور اسے حکم دیا کہ امام حسین (ع) کو کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردے ۔ چنانچہ وہ اسی ہزار کی فوج سے ان کا کام تمام کرنے پر تل گیا حضرت مختار کو اس کی اطلاع نہ تھی کہ عمر سعد کی سرکردگی میں حضرت امام حسین (ع) سے مقابلہ کیلئے فوجیں بھیجی جارہی ہیں کچھ دنوں کے بعد انہیں اس انتظام کا پتہ چلا تو آپ سخت حیران و پریشان بارگاہ احدیت میں دعا کرنے لگے ۔ خدایا امام حسین (ع)کی خیر کرنا آپ کا حال یہ تھا کہ کبھی روتے اور کبھی سینہ وسرپیٹتے تھے اور کبھی انتہائی مایوس انداز میں کہتے تھے افسوس میں دشمنوں میں مقید ہوں اور اپنے مولا کی مدد کیلئے نہیں پہنچ سکتا زاید قدامہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت مختار کو بار بار یہ کہتے سنا ہے کہ کاش میں اس وقت مقید نہ ہوتا اور امام کی خدمت میں حاضر ہوکر ان پر دولت صرف کرتا اور ان کی حمایت سے سعادت ابدی حاصل کرنے میں سرتن کی بازی لگا دیتا ۔ (رو ضۃ المجاہدین علامہ عطاء الدین ص ۱۰ طبع جدید تہران وروضہ الصفا جلد ۳ ص ۷۴ ذوب النضار ص ۴۰۲ و مجالس المومنین ص ۳۵۶ ، نور الابصار ص ۲۴)

کربلا میں خیام اہل بیت (ع) کی تاراجی

حضرت زینب(س) کا خولی کو بددعا دینا اور حضرت مختار کے ہاتھوں اس کی تعمیل ادھر تو حضرت مختار قید خانہ کوفہ میں قید کی سختیاں جھیل رہے ہیں ادھر واقعہ کربلا عالم وقوع میں آگیا اور حضرت امام حسین (ع)اپنے اصحاب ، اعزا ، اقربا اور فرزند ان سمیت شہید کردئیے گئے۔ شہادت امام حسین (ع) کے بعد دشمنان اسلام اور قاتلان امام حسین (ع) نے مخدرات عصمت و طہارت کے خیام کی طرف رخ کیا اور اس سلسلہ میں اس بہمیت کا ثبوت دیا جس کی مثال تاریخ عالم میں نظر نہیں آتی۔ علامہ محمدباقر نجفی تحریر فرماتے ہیں کہ قتل حسین کے بعد دشمنان خیام اہلبیت پر ٹوٹ پڑے اور انہیں لوٹنا شروع کر دیا ۔سب سے پہلے ان کی چادریں سروں سے اتار لیں ۔یہ ہنگامہ دیکھ کر عمر سعد کے گروہ کی ایک عورت تلوار لے کر اپنوں پر حملہ آور ہوئی اور اس نے چلا کر کہا کہ ہائے غضب رسول کی بیٹیاں بے پردہ کی جارہی ہیں یہ دیکھ کر اس کے شوہر نے اسے پکڑ لیا اور اپنے خیمہ کی طرف لے گیا ۔حضرت فاطمہ بنت الحسین کا بیان ہے کہ ایک شخص نے ہمارے پاؤں سے چھاگل اتارنا شروع کی مگر وہ رو رہا تھا میں نے کہا کہ ظلم بھی کرتا ہے اور روتا بھی ہے اس نے جواب دیا کہ روتا تو اس لیے ہوں کہ بنت رسول کے پاؤں سے زیور اتار رہا ہوں اور اتارتا اس لیے ہوں کہ یہ اندھا دھند لوٹ ہے میں نہ لوں گا تو کوئی اور لے لے گا ۔ ایک روایت میں ہے کہ شمر کی معیت میں ساری قوم خیموں پر ٹوٹ پڑی اور سب کچھ لوٹ لیااور خیموں میں آگ لگا دی ۔اور حضرت ام کلثوم کے کانوں میں دو بندے تھے انہیں اس طرح گھسیٹ لیا کہ لویں پھٹ گئیں اور خون جاری ہو گیا ۔

حمید بن مسلم کا بیان ہے کہ گروہ جفاکار نے عورتوں کی چادریں اتا لیے اور امام زین العابدین(ع) کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا اورچاہا کہ انہیں قتل کر دیں ۔میں نے بڑھ کر کہا کہ اتنے شدید مریض کو ہرگز قتل مت کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ جو نہی امام زین العابدین(ع) کو قتل کرنا چاہا۔ حضرت زینب وام کلثوم ان سے لپٹ گئیں اور انہوں نے کہا ہمیں قتل کر دے پھر انہیں قتل کرو کتاب منتخب طریحی میں ہے کہ حضرت فاطمہ صغریٰ فرماتی ہیں کہ ہم درخیمہ پر کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ ہمارے بابا جان اور انکے دیگر مدد گاروں کے سرکاٹے جارہے ہیں ۔پھر دیکھا کہ ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں ۔میں دل میں سوچ رہی تھی کہ اب دیکھیں ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ۔اتنے میں خیمے لٹنے لگے ۔ایک شخص نیزہ لیے ہوئے آگے بڑھا اور اس نے اپنے گھوڑے پر سواری کی حالت میں اپنے نیزے سے ہم لوگوں کی طرف حملہ کر دیا تھا اور ہم سب ایک دوسرے کے پیچھے چھپنے اور جان بچانے کی کوشش کرتے تھے اور حضرت محمد مصطفےٰ ، علی مرتضیٰ (ع) امام حسین غرضیکہ سب کو پکار کر چلاتے اور روتے تھے ۔اور کوئی مددگار نظر نہ آتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اسی ہنگامے میں حضرت فاطمہ بنت الحسین کی طرف ایک شخص نیزہ لیے ہوئے بڑھا اور اس نے چاہا کہ حضرت فاطمہ پر حملہ کر دے۔ یہ مخدرہ ایک طرف کو بھاگی ۔اس نے ان کی پشت میں نیزہ چبھودیا ۔وہ گر کر بیہوش ہو گئیں ۔جب لوٹ مار کی آگ تھی توحضرت ام کلثوم ان کی تلاش کے لیے نکلیں ۔دیکھا کہ زمین پر بے ہوش پڑی ہیں ۔حضرت ام کلثوم انہیں نہ جانے کس طرح ہوش میں لائیں ہوش میں آتے ہی انہوں نے چادر مانگی ۔حضرت ام کلثوم نے فرمایا ۔بیٹی ہم سب کی چادریں چھین لی گئی ہیں ۔راوی کا بیان ہے کہ اس ظالم نے پشت میں نیزہ کی انی چبھو کر ان کے کان سے درچھین لیے تھے اور کان کی لویں شگافتہ ہو گئی تھیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سکینہ دوڑ کر اپنے پدربزرگوار کی لاش سے لپٹ گئیں اور بیہوش ہو گئیں ۔ان کا بیان ہے کہ میں نے بے ہوش کی حالت میں سنا ۔

شیعتی ما ان شربتم ماء عذب فاذکرونی اوسمعتم بغریب اوشھید فاندبونی لیتکم فی یوم عاشوراء جمیعاً تنظر ونی کیف استسقی لطفلی فابواان یرحمونی (۱)اے میرے شیعو جب ٹھنڈا پانی پینا تو میری پیاس کو یا د کر لینا ،اور جب کسی غریب اور بے کس شہید کے مرنے کو سنتا تو دو آنسو بہالینا۔ (۲)میں رسول خدا کا نواسہ ہوں ۔مجھے دشمنوں نے بلا جرم وخطا قتل کر ڈالا اور قتل کے بعد مجھے گھوڑوں کے ٹاپوں سے پامال کر دیا ۔(۳)کاش تم عاشورا کے دن کربلا میں موجود ہوتے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ میں کس طرح اپنے بچے کے لیے پانی مانگتا تھا اور وہ کس دلیری سے پانی دینے کے منکر تھے۔(۴)انہوں نے پانی کے عوض تیرسہ شعبہ سے میرے بچے کو نشانہ بنا دیا اور انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور مصیبت پر مصیبت ڈالتے چلے گئے۔ (۵)ویل اور پھٹکار ہو ان لوگوں پر کہ انہوں نے مجھے ستا کر رسول کریم کے قلب کو مجروح کر دیا۔ شیعو ان پر جتنا تم سے ہو سکے لعنت کرو ۔ الغرض شہادت امام حسین کے بعد اہل حرم سخت ترین مصائب میں مبتلا ہو گئے اور انہیں ہنگامی حالات میں بروایت ابو مخنف عمر سعد نے آواز دی کہ اے لوگو کیا دیکھتے ہو ۔خیموں میں آگ لگا دو اور انہیں جلا ڈالو یہ سن کر انہیں میں سے ایک شخص بولا کہ اے ابن سعد : اما کفاک قتل الحسین و اہلبیتہ و انصارہ کیا امام حسین (ع) اور ان کے اہل بیت اور انصار کا قتل کرنا تیرے نزدیک کافی نہیں ہے کہ اب ان کے بچوں کو جلا رہا ہے ۔ ارے اب یہ چاہتا ہے کہ ہم لوگوں کے لئے زمین دھنس اور ہم سب ہلاک ہو جائیں۔اس کے بعد تمام لوگ خیموں کو لوٹنے لگے اورہنگامہ عظیم برپا کر دیا انہوں نے حضرت زینب وام کلثوم(س)کے سروں سے نہایت بے دردی کے ساتھ چادریں چھین لیں ۔حضرت زینب(س) ارشاد فرماتی ہیں کہ میں خیمہ میں کھڑی تھی ناگاہ ایک کبود چشم شخص خیمہ میں داخل ہو گیا ۔

اور جو کچھ خیمہ میں تھا سب کچھ لوٹ لیا۔پھر امام زین العابدین (ع) کی طرف بڑھا جو سخت علیل تھے ان کے نیچے سے وہ چمڑا گھسیٹ لیا۔جس پر وہ لیٹے ہوئے تھے ۔اور انہیں زمیں پر ڈال دیا ۔پھر وہ میری طرف بڑھا اور اس نے میرے سر سے چادر چھین لی۔پھر میرے گوشواروں کو اتارنے لگا ۔اور ساتھ روتا بھی تھا۔جب گوشوار اتار چکا تو میں نے کہا ظلم بھی کرتا ہے اور روتا بھی ہے ۔اس نے کہا کہ میں تمہاری بے بسی پر روتا ہوں ۔قلت لہ قطع اللہ یدیک ورجلیک واحرقک اللہ بنارالد نیا قبل نارالاخر ة میں نے کہا خداوند عالم تیرے ہاتھ اور پاؤں قطع کرے اور تجھے آخرت کی آگ سے پہلے دنیا کی آگ میں جلائے ۔

یہ ظاہر ہے کہ حضرت زنیب کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ رائگان نہیں جاسکتے تھے ۔بالآخر وہ وقت آگیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں بھی کاٹے گئے اور وہ آگ میں بھی جلایا گیا ۔موٴرخ ابو مخنف لکھتے ہیں کہ حضرت زینب کے اس فرماتے کو ابھی چند ہی یوم گزرے تھے کہ حضرت مختار ابی عبیدہ ثقفی نے کوفہ میں خروج کیا اور دیگر ملعونوں کی طرح یہ شخص بھی جس کا نام خولی ابن یزید اصبحی تھا ۔حضرت مختار کے ہاتھ آ گیا ۔آپ نے اس سے پوچھا کہ ما صنعت یوم کربلا تو نے کربلا میں کون کونسی حرکتیں کی ہیں اس نے کہا میں نے امام زین العابدین (ع)کے نیچے سے کھال کا بستر کھنچا تھا اور حضرت زینب کی چادر اتاری تھی ۔اور انکے کانوں سے گوشوارے لیے تھے ۔فبکی المختار یہ سن کر حضرت مختار زارو قطار رونے لگے ۔جب گریہ کم ہوا تو فرمایا کہ اچھایہ بتا کہ انہوں نے اس وقت کیا فرمایاتھا اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ خدا تیرے ہاتھ پاؤں قطع کرے اور تجھے آخرت سے پہلے دنیا میں نذرآتش کرے ۔ یہ سن کر حضرت مختار نے فرمایا ۔خداکی قسم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی دہن مبارک کے نکلے ہوئے الفاظ کی میں تعمیل وتکمیل کروں گا ۔اس کے بعد آپ نے اس کے ہاتھ پاؤں کٹوا دئیے اور اسے آگ میں جلوادیا۔(دمعۃ ساکبہ ص348،ص350

اہلبیت رسول کا دربار ابن زیاد میں داخلہ اورحضرت مختار کی پیشی

۔لیکن اس واقعہ کے بعد جو رات آئی جسے آج کل( شام غریباں ) سے یاد کیا جاتا ہے ۔وہ بھی کچھ کم تکلیف دہ نہ تھی ۔تمام اعزا کا شہید ہو جانا دشمنوں کا زبر دست گھیرا کسی وارث مرد کا موجود نہ ہونا ۔

جنگل کا واسطہ خیام تک کا نہ ہونا مخدرات عصمت کے لیے ناقابل اندازہ مصیبت کا پتہ دیتا ہے ۔خدا خدا کر رات گزری ،صبح کا ہنگام آیا ، شمر ملعون حضرت امام زین العابدین کے پاس آپہنچا اور کہنے لگا کہ حکم امیر ہے کہ تم پھو پھیوں ، اپنی عورتوں اور اپنے بچوں سمیت شتران بے کجاوہ پر بیٹھا کر دربار ابن زیاد میں چلو حالات ایسے پیدا ہو چکے تھے ۔کہ ان کا کوئی محل ہی نہ تھا تاہم حضرت زینب کو غیظ آگیا اور فرمانے لگیں یہ کبھی نہیں ہو سکتا مگر معاً حضر ت امام حسین کا ارشاد سامنے آگیا بہن اسلام کے لیے مصیبت کا خندہ پیشانی سے استقبال کرنا ۔حضرت زینب تیار ہو گئیں ۔شتران بے کجادہ اور بے مجمل پر بیٹھ کر بہزار دقت و دشواری اور بہزار تکلیف و مصیبت جا بجا تقریریں فرماتی ہوئیں اور خطبہ کہتی ہوئیں ابن زیاد کے دربار میں داخل ہو ئیں چھوٹے چھوٹے بچے بیمار بھیجتا اور دیگر بنات رسول خدا ساتھ ہیں ۔ موٴرخین کا بیان ہے کہ جس وقت سرہائے شہداء اور بنات رسول خدا داخل دربار ہوئے تو ابن زیاد بساط شطرنج پر تھا اور وہ محونا شتہ وشراب تھا سروں کے دربار میں پہنچے کے بعد ابن زیاد نے سر امام حسین علیہ السلام کو طشت طلا میں پیش کرکے زیر تخت رکھوا دیا تھا ۔اہلبیت رسول رسن بستہ دربار کے ایک گوشہ میں کھڑے ہوئے تھے کہ ابن زیاد نے حکم دیا کہ قید خانہ سے مختار کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں حاضر دربار کیا جائے لوگوں نے حکم ابن زیاد کے مطابق حضرت مختار علیہ الرحمہ کوزنجیروں میں جکڑا ہوا دربار لاحاضر کیا ۔علما لکھتے ہیں کہ ابن زیاد نے مختار سے کہا اے مختار تم ابن ابو تراب حسین کا بڑا دم بھرتے تھے ۔لو یہ دیکھو کہ ان کا سر یہاں آیا ہوا ہے ۔حضرت مختار کی نگاہ جونہی سر امام حسین پر پڑی بے اختیار ہو گئے آپ نے کہا کہ اے ابن زیاد تو نے جو کچھ کیا سب برا کیا اگر خدا نے چاہا توبہت جلد اس کا نتیجہ دیکھ لے گا ۔اس کے علاوہ آپ نے کچھ منہ سے نہ کہا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت مختار نے جونہی سر حسین پر نگاہ کی جوش میں آکر زنجیروں میں بند ھے ہوئے ہونے کی حالت میں ہی ابن زیاد پر حملہ کر دیا اور ایک روایت کی بنا پر انہوں نے اپنے ہاتھوں کی زنجیر توڑ ڈالی اور جھپٹ کر حملہ کرنا چاہا لیکن لوگوں نے پکڑ لیا ۔ اس کے بعد فرمانے لگے ایک ہزار مرتبہ موت آنے سے زیادہ مجھے اس وقت سرحسین دیکھ کر تکلیف پہنچی ہے ۔حضرت مختار ابھی دربار ہی میں تھے کہ اہل بیت رسول خدا کے رونے کی صد ا بلند ہوئی واجداہ واحسینا ہ اے نانا رسول اور اے حسین غریب ،حضرت مختار یہ منظر دیکھ کر خون کی آنسو رونے لگے ۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ مختار کی زنجیریں اور کس دی جائیں اور انہیں قید خانہ میں لے جاکر ڈال دیا جائے ۔ چنانچہ لوگوں نے زنجیریں اور کس دیں اور انہیں لے جا کر قید خانہ ڈال دیا۔ (رو ضۃ المجاہدین علامہ عطا الدین حسام الواعظ ص10طبع ایران ۔و۔ ریاض القد س جلد ص136طبع ایران)

اہل حرم کی شام کی طرف روانگی

اہل حرم کی شام کی طرف روانگی اور دمشق کارنامہ مختار کے جرنیل ابراہیم ابن مالک اشتر کی بہن کا نعرہ انتقام حضرت مختار کو قید میں ڈالو دیا گیا اور انہیں سات سال کی مزید سزا کا حکم دے دیا گیا ۔اور اہل حرم کو یزید کے سامنے پیش کیے جانے کے لیے شام کی طرف روانہ کردیا گیا اس خبر سے اہل بیت حسین دمشق میں پہنچ رہے ہیں سارے شہر میں جشن عام کا اعلان ہو گیا ۔خواجہ حسن نظامی دہلوی لکھتے ہیں کہ دمشق میں دھوم دھام تھی کربلا میں حضرت امام حسین (ع)اور ان کے لڑکے اور خاندان نبوت کے طرف داروں کے یہاں قیامت آگئی ۔وہ زبان سے اف نہ کر سکتے تھے مگر اس خبر نے ان کے کلیجے پاش پاش کر دئیے ے تھے اور وہ گھروں کے اندر زاروقطار رو رہے تھے اس دن انہوں نے اور ان کے بچوں نے کھانا کھایا نہ پانی پیا۔ ہر ایک ایک دوسرے کو دیکھتا تھا اور آنسو بہاتا تھا ۔یزید اور بنی امیہ کے خوف سے کسی کی ہمت نہ تھی کہ آواز نکالتا یا ماتم کی صدا بلند کرتا خاوند بیوی کو دیکھ کر کلیجہ تھام لیتا اور آنکھوں سے آنسوؤں کا منہ برساتا اور بیوی خاوند کو دیکھتی اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتی اور پھوٹ پھوٹ کر روتی ۔بچے اپنے ماں باپ کو دیکھ کر سہمے ہوئے کھڑے تھے اور انہیں جانتے تھے کہ کیوں وہ اس قدر بے چین ہیں 

ایک بچے نے اپنی ماں سے کہا کہ اماں ہمیں بھوک لگی ہے اس کی ماں نے رو کر جواب دیا ۔بیٹا تمہیں خبر بھی ہےکہ جن کا کلمہ ہم سب پڑھتے ہیں ان کے نواسے بھوکے پیاسے ذبح کر ڈالے گئے اور اب ان کے بچے رسیوں سے بندھے ہو ئے دمشق میں آنے والے ہیں جن کو خبر نہیں کھانا پانی میسر ہو گا یا نہیں۔تم کس منہ سے روٹی مانگتے ہو ۔آج کا دن روٹی کھانے کا نہیں ہے ۔وہ بچہ یہ سن کر چپ ہو گیا اور کچھ دیر کے بعد وہ پھر رونے لگا ۔ دوسری طرف بنی امیہ کی عورتوں نے عید کی طرح بناؤ سنگار کیا ۔اور بالاخانوں پر سیر دیکھنے بیٹھیں۔ عذرہ،دروہ،خضرا،فرحہ وریحانہ کے پاس آئیں کہ ان کو تماشہ کے لیے لے چلیں مگر انہوں نے دیکھا کہ رو رہی ہیں اور روتے روتے ان کا عجب حال ہو گیا ہے ۔ خضرا نے کہا ہائیں فاطمہ آج کا دن خوشی کا ہے خدانے بنی امیہ کے سب سے بڑے دشمن کا کٹا ہوا سر دکھایا۔تم روتی کیوں ہو؟فرحہ نے کہا کہ میرے شوہر کے مرنے کی خبر آئی ہے مجھے تو اس کا غم ہے کہ ہائے میں اب کہاں جاؤں کون میری خبر لے گا ۔عذرہ اور دروہ نے کہا افسوس ہے ہم کو تمہارے صدمہ سے دلی ہمدردی ہے ۔مگر تقدیر پر کچھ علاج نہیں ۔خضرا نے کہا دیکھو کہ تم لوگوں کا خدا کیسا ظالم ہے اس نے بیچاری عورتوں پر ذرا رحم نہ کیا اور ان کے وارث کو مار ڈالا۔ فرحہ بولی خضراء میرا دل نہ دکھاؤ خدا ظالم نہیں ہے ۔وہ ملک الموت کو بھی ایک دن موت دے گا ۔اور میں دعویٰ کرتی ہوں کہ میرے ہاتھ سے دے گا ۔عذراء نے کہا کہ بے چاری فاطمہ کا دل غم سے قابومیں نہیں ہے بھلا موت کے فرشتے کو بھی آئی آدمی ہلاک کر سکتا ہے ۔ریحانہ عرف امینہ نے کہا ہاں ہم اس کوہلاک کر سکتے ہیں اور کریں گے ۔عذرا ودروہ وغیرہ اس فقرے پر مسکرانے لگیں اور انہوں نے کہا کہ اچھا تم موت کو ضرور سزا دینا چلو اب تو ہمارے ساتھ چلو اور قیدیوں کو سیر دیکھو فرحہ نے کہا بس بیویومجھے معاف کرو میں اپنے حال میں مبتلا ہوں مجھے تماشہ کی ضرورت نہیں ۔ یہ سن کر سب لڑکیاں فرحہ کے پاس چلی آئیں اور اس گھر میں پھر وہی شور ماتم بپا ہو گیا جب قیدی بازار میں سے گذر رہے تھے ۔فرحہ نے اپنے جھروکے سے دیکھا کہ امام زین العابدین اونٹ پر بیٹھے ہیں ۔چہرہ زرد ہے ۔رسی سے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔قیدیوں کا نیلا کرتا گلے میں ہے اونٹ جھروکہ کے پاس آیا تو فرحہ نے کہا:السلام علیکم یابن رسول اللہ ۔ امام نے جواب دیا علیک السلام یا امة اللہفرحہ نے آہستہ سے رو کر کہا۔ میں مالک بن اشتر کی بیٹی ہوں ۔اور آپ کا انتقام لوں گی۔ امام کا اونٹ ذرا آگے بڑھ گیا تھا مگر انہوں نے یہ فقرہ سنا اور مڑکر فرحہ کو دیکھا اور بے اختیار رونے لگے فرحہ بھی روتے روتے بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ (طمانچہ بر رخسار یزید 93باب17طبع دہلی1940ءء)

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 8 =