۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
بن سلمان

حوزہ/مکۂ مکرمہ میں 2018 میں دو ہم جنس پرستوں کی شادی کے اسکینڈل کے بعد، اسی سال جدہ میں ہم جنس پرستوں کی ریلی اور ریاض میں ہم جنسوں کی شادی کے بعد آج ریاض میں ہم جنس پرستوں کی ریلیوں اور ان کے غیر اخلاقی سلوک کے مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شائع کی گئیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سعودی عرب میں بن سلمان کی اصلاحات کے تناظر میں یہ رجحان وسیع ہوگیا ہے اور ہم جنس پرست اور دو جنسی افراد حکومت کی حمایت سے ایسی حرکتیں کررہی ہیں۔

یہ لوگ دسیوں اور سیکڑوں افراد کے گروہوں میں، سعودی معاشرے کے مذہبی اور اخلاقی معاشرے کی اقدار، رواج اور روایات سے قطع نظر، اور یہاں تک کہ کسی بھی قسم کی سزا کا خوف محسوس کیے بغیر، سڑکوں پر نامناسب اور ناشائستہ اقدامات میں ملوث ہورہے ہیں۔ حالات کچھ اس قدر خراب ہیں کہ  سعودی خاندان بن سلمان کی اصلاحات کے سائے میں اپنے بچوں، نوعمروں اور نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں بہت پریشان اور تشویش میں مبتلا ہیں۔

عوام بن سلمان کو اس خطرناک فعل کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جو معاشرے اور سعودی عرب میں کنبہ کی بنیادوں کو خطرے کی زد پر لانے کا سبب بن رہا ہے، اور وہ مانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو آزادی دینے کا مقصد نوجوانوں میں اخلاقی بدعنوانی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ سیاسی، معاشرتی اور دیگر مسائل کے ساتھ ہی معاشی طور پر، وہ بن سلمان کی غلط پالیسیوں کے بارے میں کچھ سوچ سجھ نہ سکیں اور آواز بلند نہ کرسکیں، اس کا بہترین ثبوت مکہ اور مدینہ میں بھی موسیقی اور رقص کے گروپوں کے ذریعے ہم جنس پرستی کو فروغ دینا ہے۔

دوسری طرف، بن سلمان کو اپنے جبر اور اپنے مخالفین کی گرفتاری اور قتل کا جواز پیش کرنے کے لئے نوجوانوں کو منحرف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیاست کے میدان میں آگے نہ آنے پائیں اور انہیں ایک آزاد فضا فراہم کرکے مفکرین، دانشور ، شعراء اور سول سوسائٹی کے کارکن جیسے  لجین الهذلول اور سلمان العوده سے دور رکھا جائے جس سے یہ لوگ بھی آگاہ ہیں کہ یہ رسوائے زمانہ حرکات کس لیے کی جارہی ہیں اور وہ اس سے اچھی طرح سے واقف ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 5 =