۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
پارے

حوزہ/قرآن مجید کے تیس پاروں کا اجمالی جائزہ؛اکیسویں پارے کا مختصر جائزه۔

حوزہ نیوزایجنسیl
ترتیب و تحقیق: سیدلیاقت علی کاظمی الموسوی

اکیسویں پارے کا مختصر جائزه

اس پارے کے ضمن میں سورهٔ الروم، لقمان ،السجدہ، الاحزاب کا ذکر کیا جائے گا۔

30۔سوره روم کا مختصر جائزه

سوره روم قرآن کی تیسویں (30ویں) سورت ہے جو ۲۱ویں پارے میں واقع ہے اور اسے مکی سورتوں میں شمار کرتے ہیں اس سورت میں مستقبل میں ایرانیوں کے ہاتھوں رومیوں کی شکست کی خبر کی وجہ سے اسے روم کا نام دیا گیا ہے اس سورت میں حروف مقطعات کے بعد لفظ روم آیا ہے۔یہ سورت نصرت الہی کے وعدے، نفوس اور آفاق کی سیر، تکوینی اور تشریعی قوانین کے متعلق گفتگو کرتی ہے نیز ازدواج، مودت، انسانوں میں فطری رحمت، محتاجوں کی دستگیری اور سودخوری سے ممنوعت اس کے مضامین ہیں آیت فطرت اس کی مشہور آیات میں سے ہے جس میں سرشت الہی اور خلقت انسان کے موضوع کو بیان کرتی ہے اور انسان کے خدا اور دین کی طرف رجحان کو اس کی فطرت کا حصہ قرار دیتی ہے۔

مضامین

خدا کی طرف سے دین اور مومنین کی حمایت کا قطعی وعدہ، انفس اور آفاق کی سیر، گروہوں کی جدائی اور ان کی سرنوشت، دعوت توحید، فطرت انسان، کائنات میں رونما ہونے والے واقعات اور لوگوں کے اعمال کا بلا واسطہ ارتباط، انسانی روش و رفتار کی فتنہ و فساد کے ظہور میں تاثیر، مسألہ اختلاف، تفرقہ اور گروہبندی کے نقصانات اور ان کے دین اور معاشرے پر منفی اثرات اس سورت کے اصلی مضامین ہیں،کچھ قوانین خلقت اور سُنن الہی جیسے مسألۂ زوجیت، مودت اور انسانوں کے درمیان فطری رحم کا ہونا، اختلاف شب و روز، انسانوں کی زبانیں اور انکے رنگ، نزول باران،احیائے زمین مردہ، فضام میں زمین و آسمان کا قائم رہنا کی بھی وضاحت دی گئی ہے اسی طرح رباخوری کی ممنوعیت،اپنے عزیزوں اور محتاجوں دستگیری جیسے عناوین کی تاکید کی گئی ہے۔

فضائل اور خواص

اس سورت کی تلاوت میں مروی ہے۔ جو بھی سورہ روم کی تلاوت کرے گا زمین و آسمان میں خدا کی تسبیح کرنے والے فرشتوں کی تسبیح سے دس گنا زیاہ اجر اسے دیا جائے گا اور شب و روز میں کھو جانے والی چیز کو پا لے گا[1]،ثواب الاعمال میں امام صادقBسے منقول ہے۔ سوره روم اور عنکبوت کی تئیسویں ماہ رمضان کی رات کی تلاوت کا اجر بہشت ہے پھر فرمایا۔ مجھے اطمینان ہے کہ یہ دو سورتیں خدا کے نزدیک بہت قیمتی  ہیں[2]۔

بعض حدیثی کتب میں آیا ہے کہ جو کوئی اس سورت کی ۱۸-۱۷ آیات عصر کے وقت تلاوت کرے گا اس رات اس شخص کوئی خیر اور اچھائی اس سے فوت نہیں ہو گی اور تمام برائیاں اس سے دور رہے گیں اور جو انہیں صبح کے وقت تلاوت کریگا یہی فوائد اسے دن کو حاصل ہوں گے[3]۔ سورہ روم کی (۱۸-۱۷) کی تلاوت کرنے والے سے بہشت کا وعدہ دیا گیا ہے[4]۔

31۔سوره لقمان کا مختصر جائزه

سوره لقمان قرآن کی اکتیسویں سورت ہے جو ۲۱ویں پارے میں واقع ہے حضرت لقمانB کے نام اور ان کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحتوں کے ذکر کی وجہ سے اس کا نام سوره لقمان رکھا گیا ہے اس سوره میں حضرت لقمان کی زندگی، ان کی حکیمانہ اور اخلاقی نصیحتوں کے ضمن میں توحید، نیک لوگوں کے احوال، مستکبرین اور منکرین کی خصوصیات، تقوا کی نصیحت اور قیامت کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔

مضامین

مجموعی طور پر اکثر مکی سورتوں کی مانند توحید الہی کے ذیل میں حکمت اور اخلاق، معاد پر ایمان اور دینی مذاہب پر عمل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ہدایت بشر میں قرآن کی عظمت و اہمیت؛مغرور اور نیک انسانوں کے دو گروہ اور ان کا انجام؛مخلوقات خداوند کے متعلق گفتگو؛توحید اور شرک نہ کرنے کے متعلق لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں اور مواعظ، احترام والدین اور ان کی اطاعت، اقامۂ نماز، نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا، صبر، تواضع، عدم تکبر اور نیک خوئی سے پیش آنا؛موجودات کی ابتدا اور قیامت پر ایمان کے دلائل؛خدا سے مخصوص علوم جیسے موت اور قیامت کا علم۔

فضیلت اور خواص

اس سورے کی تلاوت میں مروی ہے کہ اس کے تلاوت کرنے والے قیامت کے روز حضرت لقمانB اس کے دوست ہونگے نیز اجر کے لحاظ سے اسے نیکیاں انجام دینے اور برائی سے دور رہنے والے شخص کو ملنے والے اجر سے دس گنا زیادہ اجر دیا جائے گا[5]۔ اسی طرح منقول ہے کہ جو شخص اس سورت کی ہر رات تلاوت کرے گا اللہ اس رات اس شخص کو صبح تک شیطان اور اس کی افواج کے سے محفوظ رکھنے کیلئے فرشتے مقرر فرمائے گا۔ دن میں اس سورت کی تلاوت کی بنا پر رات تک اسے شیطان اور اس کے ساتھیوں سے محفوظ رکھے گا[6]۔

32۔سوره سجده کا مختصر جائزه

سوره سجدہ یا الم سجدہ یا الم تنزیل قرآن 32ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے اور 21ویں پارے میں واقع ہے اس سورت کی 15ویں آیت جس کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے، کی وجہ سے اس سورت کا نام "سوره سجدہ" رکھا گیا ہے سوره سجدہ میں معاد، چھ مرحلوں میں کائنات کی خلقت اور مٹی سے انسان کی خلقت کے بارے میں گفتگو کے ساتھ ساتھ قیامت کے منکرین کو عذاب اور مؤمنین کو انسان کی تصور سے ماوراء ثواب کی بشارت دیتے ہیں

علماء،اس سورت کی آیت نمبر 16 اور 18 کو امیر المؤمنین حضرت علیB کی شان میں قرار دیتے ہیں اس کی تلاوت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص ہر شب جمعہ سوره سجدہ کی تلاوت کرے، خدا قیامت کے دن اس کے نامۂ اعمال کو اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور اس کے گذشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور یہ شخص محمدؐ اور آل محمدF کے دوستوں میں سے ہو گا۔

مضامین

علامہ طباطبائیؒ سوره سجدہ کا اصلی ہدف مبدأ و معاد پر استدلال اور ان سے مربوط شبہات کا ازالہ قرار دیتے ہیں، اس کے علاوہ قرآن، نبوت، آیات الہی پر ایمان لانے والے مؤمنین اور خدا کی عبودیت سے خارج ہونے والے فاسقین کا فرق نیز مومین کو ان کی تصور سے ماوراء ثواب اور فاسقین کو دنیا اور آخرت میں عذاب کی بشارت ایسے موضوعات ہیں جن کے بارے میں اس سورت میں گفتگو ہوتی ہے۔تفسیر نمونہ میں سوره سجدہ کا مقصد مبداء و معاد پر ایمان کی تقویت اور تقوا اور پرہیزگاری کی طرف حرکت میں نشاط پیدا کرنا اور سرکشی اور طغیان سے دوری اختیار کرتے ہوئے انسان کی حقیقی مقام و مرتبے کی طرف دھیان دینا قرار دیتے ہیں اور اس کے مباحث کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

قرآن کی عظمت اور خدا کی طرف سے اس کا نازل ہونا؛زمین و آسمان میں خدا کی نشانیاں اور اس کائنات کی تدبیر؛انسان کی خلقت میں مادی اور معنوی پہلو اور اسے بے انتہاء علم و دانش کے اوزار (حواس خمسہ) سے نوازنا؛موت اور اس کے بعد کا عالم؛مومنین کو جنہ الماوی اور فاسقین کو جہنم کے عذاب کی بشارت؛بنی‌اسرائیل اور گذشتہ امتوں کی مختصر تاریخ؛توحید اور لجوج دشمنوں کی تہدید۔

فضیلت اور خواص

سورہ سجدہ کی تلاوت کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ جو شخص سورہ الم تنزیل (سورہ سجدہ) اور سورہ ملک کی تلاوت کرے تو گویا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے شب قدر کو شب بیداری کی ہو۔ اسی طرح احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص ہر شب جمعہ سورہ سجدہ کی تلاوت کرے خدا اس کے نامۂ اعمال کو اس کے دائیں ہاتھ میں دیگا اور اس کے گذشتہ گناہوں کو بخش دے گا ور یہ شخص محمدؐ و آل محمدF کے دوستوں میں شمار ہو گا[7]۔ اس سورت کے خواص کے بارے میں بھی منقول ہے کہ اگر کوئی شخص اس سورت کو لکھ کر اپنے ساتھ رکھے تو وہ بخار اور سر درد سے محفوظ رہے گا[8]۔

33۔سوره اَحزاب کا مختصر جائزه

سوره اَحزاب قرآن کی 33ویں سوره ہے جو قرآن کے 21ویں اور 22ویں پارے میں واقع ہے یہ سوره مدنی سوتوں کا حصہ ہے اس سورت کا عمدہ حصہ جنگ احزاب یا جنگ خندق کے متعلق ہونے کی وجہ سے اس سورت کا نام "سوره احزاب" رکھا گیا ہے سوره احزاب میں کافروں کی کی پیروی نہ کرنے، خدا کی اطاعت کرنے، دوران جاہلیت کے بعض قوانین، وظائف ازواج پیغمبر، پیغمبر اکرم1کا زینب بنت جحش سے نکاح کی داستان اور حجاب کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔

سوره احزاب کی بہت سی آیتیں مشہور ہیں من جملہ ان میں وہ آیت ہے جس میں ازواج پیغمبر1 کو اُمَّہات المؤمنین یا پیغمبر اکرم1 کو نمونہ عمل قرار دیا گیا ہے اسی طرح آیت تطہیر، آیت خاتمیت، آیت صلوات اور آیت امانت اس سورے کی مشہور آیات میں سے ہیں۔

مضامین

سوره احزاب میں گوناگون اعتقادی اور فقہی مسائل، داستانوں، عبرتوں خاص کر غزوہ احزاب یا جنگ خندق کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے، تفسیر نمونہ کے مطابق اس سورت کے بعض موضوعات درج ذیل ہیں۔

خدا کی اطاعت اور کافروں کی پیروی سے ممانعت؛دور جاہلیت کے بعض قوانین مانند ظِہار اور لے پالک؛جنگ احزاب اور مسلمانوں کا معجزانہ فتح؛

وظائف ازواج پیغمبر؛پیغمبر اکرم1 کا زینب بنت جحش کے ساتھ ازدواج کی داستان؛حجاب اورمعاد۔

فضیلت اور خواص

کتاب مجمع البیان کی ایک حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص سورہ احزاب کو اپنے اہل و عیال کے لئے تعلیم دے تو یہ شخص عذاب قبر سے محفوظ رہے گا[9]۔ امام صادقB سے نقل ہے کہ وہ لوگ جو اس سورت کی بہت زیادہ تلاوت کرتے ہیں قیامت کے دن پیغمبر اکرم1 اور آپ1کے ازواج مطہرات کے ہمراہ ہونگے[10]۔

اکیسویں پارے کےچیدہ نکات

وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ۖ  ﴿٤٦﴾ سورة العنكبوت

جدالِ احسن میں ظالمین کا استثناء دليل ہے کہ جہاں شرافت اور نرمی میں مخالف کے غرور کا اندیشہ پیدا ہو جائے وہاں متکبیر کے ساتھ تکبر ہی عبادت ہوتا ہے اور نرمی کا برتاوؤاپنی کمزوری کی علامت بن جاتا ہے ۔

 وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّـهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٦٠﴾ سورة العنكبوت

اس روئے زمین پر کتنی مخلوقات ایسی پائی جاتی ہیں جو اپنا رزق فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اپنا بوجھ بھی خودنہیں اٹھا سکتی ہیں؛ دوسروں کا کیا ذکر ہے خود انسان ہی جب تک شکم مادر یاا آغوش مادر میں رہتا ہے تورزق کا بار اٹھانے کے قابل نہیں ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی انتظام کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود پروردگار عالم اسے رزق عطا کرتا ہے اور کسی نہ کسی صورت سے اس تک پہنچا دیتا ہے، ایسی صورت میں اتنے واضح تجربہ کے بعد انسان دشمنوں سے مرعوب ہو جائے کہ وہ معاشی نا کہ بندی کر دیں گے یا تبلیغ دین ترک کر دے کہ معیشت خطرہ میں پڑ جائے گی یا احکام الہیہ بیان نہ کرے کہ بانیان مجلس دوبارہ نہ بلائیں گے تو یہ ایمان کی ایسی کمزوری ہے جو انسان کو جانوروں سے بدتر بنا دیتی ہے کہ جانور صبح سویرے صحرا کی طرف اس اعتماد کے ساتھ نکل جاتا ہے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ رزق ضرور فراہم کرے گا اور انسان رازق حقیقی کو چھوڑ کر بندروں کی خوشامد کرتا ہے اور انہیں کو رازق العبادتصور کر لیتا ہے ۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٢١﴾ سورة الروم

 آیت کریمہ نے اسلام کے پورے فسلفہ ازدواج کو واضح کر دیا ہے کہ اولاً تو اس کی بنیاد سکون زندگی ہے ، اس لئے ہر ایک کا جوڑا اسی کی نوع سے قرار دیا گیا ہے ورنہ انسانی زندگی وحشت کا شکار ہو جاتی اور اس کا گھر وحشت کدہ بن جاتا ،دوسری طرف خدا نے دونوں کے درمیان مودّت اور رحمت کا سلسلہ قائم کر دیا ہے جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ عقد میں کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے جو مودّت و رحمت کے منافی ہو اور ظاہر ہے کہ اگر عقد کی بنیاد مال یا جمال پر ہو گی تو مال کے ختم ہو جائے اور جمال کے ڈھل جانے کے بعد مودّت کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس طرح فریقین کے اخلاق اور  کردار میں نقص ہوگا تو رحمت کا ماحول قائم نہ رہ سکے گا، لہذا ضرورت ہے کہ عقد کی بنیا دعقیدہ اور ایمان کو بنایا جائے اور برتاؤبھی قانون اسلام کی روشنی میں کیا جائے تا کہ نہ مودّت میں فرق آ سکے اور نہ رحمت کا خاتمہ ہو سکے ۔

جنسی روابط اور اولاد پیدا کرنا ایک ثانوی مسئلہ ہے، بنیادی طور پر عورت اور مرد ایک دوسرے کی زندگی کی ضرورت ہیں اور انہیں ایسا جامع الشرائط ہونا چاہیے جو سکون ، مودّت اور رحمت کیلئے مناسب ہو اور نظام خانوادگی تباہ و برباد نہ ہونے پائے ۔

وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ﴿٣٩﴾ سورة الروم

 معاشیات کی دنیا میں سب سے بڑی مصیبت کا نام ہے سود، سود وہ جال ہے جس میں غریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، سود وہ فریب ہے جس سے قوموں کو کاہل بنایا جاتا ہے، سود وہ حربہ ہے جس سے قوموں کی صلاحیتوں کو ضائع اور برباد کیا جاتا ہے، اور وہ راستہ ہے جس سے قوموں کا استحصال کیا جاتا ہے

سود کے بارے میں ظاہری تصور یہ ہے کہ اس سے مال میں اضافہ ہو جاتا ہے حالانکہ بے برکت اضافہ کبھی اضافہ کہے جانے کے قابل نہیں ہوتا ہے،اضافہ زکوٰۃ کے ذریہ ہوتا ہے جس میں بظاہر مال ہاتھ سے نکل جاتا ہے لیکن واقعاً اس میں برکت ہو جاتی ہے ۔

برکت کا پہچاننا بھی ہر انسان کے بس کا کام نہیں ہے، شیطان اس نکتہ کی طرف متوجہ ہونے کا موقع ہی نہیں دیتا ہے کہ زکوٰۃ وصدقات سے مال میں برکت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک انسان حلال وحرام کو ایک کر کے یا بخل و کنجوسی سے کام لے کر ایک لاکھ روپیہ اکٹھا کر لیتا ہے اور اس کے بعد کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اپنے طرز عمل اور بخل کی تعریف کرتا ہے کہ ہم نے یہ سرمآیت نہ جمع کیا ہوتا تو آج کیا ہوتا اور یہ بھول جاتا ہے کہ اگر اس نے اس طرح کا سرمآیت نہ جمع کیا ہوتا تو شاید خدا اس کے نکلنے کا انتظام بھی نہ کرتا اور شائد یہ بیماری ہی قریب نہ آتی لیکن انسان کو اس اسلامی فکر کی تو فیق کہاں حاصل ہوتی ہے؛ وہ تو بالکل بندهٔ دنیا ہو کر رہ گیا ہےاور اسی بندگی میں مست ومگن ہے ۔

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ﴿١٨﴾ سورة لقمان

امیر المؤمنینB نے کس قدر بلیغ جملہ ارشاد فرمایا ہے جو مغرور اور متکبر افراد کے لیے تازیانۂ عبرت ہے آپ فرماتے ہیں کہ غرور سے زیادہ وحشت ناک کوئی تنہائی نہیں ہے اور تواضع سے زیادہ وسیع کوئی رشتہ نہیں۔

ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ ﴿٩﴾ سورة السجدة

 یہ روح حیات ہے جس نے ایک حقیر اور ذلیل قطرۂ نجس کی پیداوار کو اشرفیت کا لباس عطا کر دیا ہے ورنہ روح خداوندی سے علیحدگی اختیار کر لی جائے تو انسان ایک قطرهٔ نجس سے زیادہ کچھ نہیں ہے؛ اے کاش انسان اس کرم اور اس رابطہ کی قدرو قیمت کا اندازہ کرتا اور بہر صورت اس رابط کو برقرار رکھنا ۔

أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُونَ﴿١٨﴾ سورة السجدة

 مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت علیBاور ولید بن عتبہ کے درمیان کسی موضوع پر بحث ہوگئی ولید نے کہا کہ میری زبان آپ سے زیادہ فصیح ہے اور میرا نیزه آپ سے زیادہ تیز تر اور میری قوت دفاع آپ سے زیادہ مستحکم ہے تو آپ نے اس پُر غرور اندازِ بیان کے جواب میں فرمایا کہ’’اسکت یا فاسق ‘‘تو آیت کریمہ نازل ہوئی کہ مومن اور فاسق ایک جیسے نہیں ہو سکتے جس کا مقصد یہ ہے کہ مؤمن کی شان تواضع اور انکساری ہے اور اس کا کام غرور اور تعلیٰ نہیں ہے، یہ فاسقوں کا کاروبار ہے اور انہیں کو زیب دیتا ہے ۔

مَّا جَعَلَ اللَّـهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ۚ  ﴿٤﴾ سورة الأحزاب

 دنیا کی تمام مکاریوں اور سیا سی چالوں کا واحد جواب یہ آیت کر یمہ ہے کہ اللہ نے کسی مرد یا عورت کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے ہیں کہ ایک سے مذہب اختیار کرے اور ایک سے مذہب کے خلاف سیاسی اور دنیا داری کے نظریات اپنائے، یا ایک دل سے ایک مذہب کو قبول کرے اور دوسرے دل سے دوسرے مذہب کو اختیار کر لے یا ایک دل سے دینداری کا کام انجام دے اور دوسرے دل سے دنیا داری کا کاروبار کرتا رہے ۔

قرآن کریم کا واضح فیصلہ ہے کہ انسان دو متضاد خیالات کا حامل نہیں ہوسکتا ہے، اسے ایک ہی راستہ اختیار کرنا ہوگا؛ ایک شخص نے امیر المؤمنینBسے عرض کی کہ میں آپ کو بھی دوست رکھتا ہوں اور معاویہ کو بھی تو آپ نے فرمایا کہ تو کانا ہے؛ یا بالکل اندھا ہو جایا مکمل طور سے بینائی اختیار کر لے اور پورے طور سے مجھ سے محبت کر کہ میری محبت جزوِ ایمان ہے ۔

محبت امام1 کا دعوی کرنے کے بعد احکام اسلام سے انحراف کرنے والے یا حق امام کے کھا جانے والے درحقیقت اسی کانے پن کا شکار ہیں اور انہیں مکمل بینائی نصیب نہیں ہوتی ہے ۔

وَأَنزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُم مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا ﴿٢٦﴾ سورة الأحزاب

 اس مقام پر اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام 1نے یہودیوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے وہ ایک طرح کا غیر انسانی برتا ؤہے اور ایسی شخصیت کے شایان شان نہیں ہے، لیکن اس کا واضح سا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ کہ یہ یہودیوں کی عہد شکنی کی سزا ہے کہ انہوں نے معاہدہ کر کے عین وقت پر دھوکہ دیا اور دھوکہ دینے والا رعایت کا حقدار نہیں ہوتا ہے ۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان لوگوں نے اپنے آپ کو پیغمبر اسلام 1کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہوتا تو شائد اس طرح کا برتاؤ نہ کیا جاتا لیکن یہ ان کی شقاوت اور بدبختی تھی کہ انہوں نے پیغمبر اسلامؐ کے فیصلے کو برداشت نہیں کیا اور سعد بن معاذ کو حکم بنالیا تو ظاہر ہے کہ جو فیصلہ ہوگا وہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا اس کی کوئی ذمہ داری اسلام پر نہ ہوگی ۔

تیسری بات یہ ہے کہ سعد کا یہ فیصلہ توریت کی تعلیمات کے عین مطابق تھا جہاں ایسے افراد کیلئے اس سے بھی سخت سزا کا تذکرہ موجود ہے اور یہ صراحت ہے کہ سارے مخالفین کو تہ تیغ کر دیا جائے چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں، بوڑھے ہوں یا بچے اور اس کے بعد بستی کو آگ لگا دی جائے یہ تو سعد کی شرافت نفس تھی کہ انہوں نے توریت کی سزا میں تخفیف کر دی جس کے بعد ایسی صورت میں اسلام پر اعتراض کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔


[1] طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۵۹.

[2] صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۹۔

[3] صدوق،امالی، ۱۳۵۸ش، ص۶۷۴

[4] طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۶۸۔

[5] طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۸۸۔

[6] طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۸۸۔

[7] طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۵۰۸۔

[8] بحرانی، البرہان، ۱۴۱۶ق، ج۴، ص۳۸۵۔

[9] طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۵۲۴۔

[10]  شیخ صدوق، ثواب الأعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۰۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 2 =