۱۶ تیر ۱۴۰۱ |۷ ذیحجهٔ ۱۴۴۳ | Jul 7, 2022
علامہ مرید حسین نقوی

حوزہ/ نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ انگریزی میں حضور اکرم کی عظمت پر مشتمل مضمون کو نکالنے کی سفارش کرنا قابل مذمت ہے، اسلامی معارف اور تعلیمات کو فقط اسلامیات کے مضمون تک محدود کرنا اسلامی نظریاتی مملکت کی نفی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر مولانا سید مرید حسین نقوی نے نصاب تعلیم سے اسلامی مفاہیم و تعلیمات نکالنے کی ون مین کمیشن کی سفارشات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی طرف سے انہیںمسترد کرنے کو مستحسن اقدام قراردیا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انگریزی میں حضور اکرم کی عظمت پر مشتمل مضمون کو بھی نکالنے کی سفارش کرنا قابل مذمت تھا، جبکہ دیگر شعبہ ہائے حیات کی کسی غیر مسلم شخصیت کے بارے بھی ایسی کسی پابندی کا ذکرتک نہیں۔ میڈیا سیل کی طرف سے جاری اعلامیہ میں مولانا مرید نقوی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق سے کہیں زیادہ ملک کے اسلامی مسالک کے عقائدو مذہبی مقدسات کا خیال رکھے اوراس کے منافی ہر قانون کا راستہ روکے۔مدارس، مساجد کی وقف املاک کے ایکٹ کو بھی فی الفور واپس لے۔نیز رسول اکرم، اہل بیت اطہار، ازواج مطہرات اور اصحاب ذی وقار کے بارے بھی عقیدت و احترام کی ترتیب کے صدیوں سے رائج ضابطوں میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ سڈل کمیشن کی جانبدارانہ سوچ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری نصابی کتب میں مسلم یا غیر مسلم کسی سائنسدان، کھلاڑی ، فنکار کا ذکر تو ہو سکتا ہے لیکن نجات دھندہءبشریت، وجہئ تخلیق کائنات ،خاتم الانبیاءجیسی ہستی کا نہیں۔حالانکہ کسی اقلیت کو حضور کی عظمت سے انکارہے اور نہ ہی یہ مضمون نفرت انگیز مواد کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

نائب صدر وفاق المدارس نے واضح کیا کہ اسلامی معارف اور تعلیمات کو فقط اسلامیات کے مضمون تک محدود کرنا پاکستان جیسی اسلامی نظریاتی مملکت اور ریاستِ مدینہ کے دعووں کی صریح نفی ہے۔متفق علیہ بزرگان و اسلاف کا تذکرہ اچھے مسلمان اور اچھے شہری بنانے کے لئے ضروری ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 9 =