۱ تیر ۱۴۰۰ | Jun 22, 2021
زبان و ادب

حوزہ/ ایکو کلچرل انسٹی ٹیوٹ کے صدر محترم ڈاکٹر سرور بختی نے پاکستانی ادب کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی، جبکہ دیگر مہمانوں میں تہران یونیورسٹی شعبہ اردو کے پروفیسر محترم ڈاکٹر علی بیات اور شہرستان ادب پبلیکیشنز کی طرف سے معروف فارسی شاعر محترم ڈاکٹر علی داؤدی شامل رہے، پروفیسر محترم ڈاکٹر علی بیات اور ڈاکٹر علی داؤدی نے احمد شہریار کے فارسی مجموعے ’’پیرہن گم کردہ ام‘‘ کے حوالے سے گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایکو کلچرل انسٹی ٹیوٹ تہران کی طرف سے سوموار/پیر کے روز ایک ویبینار کی صورت میں شاعری، افسانچوں اور اردو قواعد و انشاء پر مشتمل تین تازہ کتابوں کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ پہلی کتاب اردو کے معروف اور سو لفظوں کی کہانیوں کے خالق جناب سید مبشر علی زیدی کی ایک سو تین کہانیوں کے فارسی ترجمے پر مشتمل مجموعہ ’’درخت کلمات‘‘ ہے جسے احمد شہریار نے اردو سے فارسی میں ترجمہ کیا ہے اور نظر ثانی کا کام زہرا اصلانی نے انجام دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ کتاب خود ایکو کلچرل انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔

ایکو کلچرل انسٹی ٹیوٹ تہران کی طرف سے ویبینار کی صورت میں شاعری، افسانچوں اور اردو قواعد و انشاء پر مشتمل تین تازہ کتابوں کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی

اطلاعات کے مطابق دوسری کتاب احمد شہریار کا پہلا فارسی شعری مجموعہ’’پیرہن گم کردہ ام‘‘ ہے جو شہرستان ادب پبلیکیشنز تہران سے شائع ہوا ہے۔ تیسری کتاب ڈاکٹر شاہد چوہدری کی ’’دستور زبان اردو‘‘ ہے جو ایرانیوں کو اردو قواعد و انشاء سکھانے کی غرض سے لکھی گئی ہے۔ اس تقریب رونمائی میں ایکو کلچرل انسٹی ٹیوٹ کے صدر محترم ڈاکٹر سرور بختی نے پاکستانی ادب کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی، جبکہ دیگر مہمانوں میں تہران یونیورسٹی شعبہ اردو کے پروفیسر محترم ڈاکٹر علی بیات اور شہرستان ادب پبلیکیشنز کی طرف سے معروف فارسی شاعر محترم ڈاکٹر علی داؤدی شامل رہے۔

پروفیسر محترم ڈاکٹر علی بیات اور ڈاکٹر علی داؤدی نے احمد شہریار کے فارسی مجموعے ’’پیرہن گم کردہ ام‘‘ کے حوالے سے گفتگو کی۔ تہران یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی پروفیسر محترمہ ڈاکٹر وفا یزدان منش نے جناب سید مبشر علی زیدی کی کہانیوں کے ترجمے کے حوالے سے اپنی اہم آراء بیان کیں، جبکہ تہران یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ محترمہ عنبرین اشرف نے جناب شاہد چوہدری کی کتاب کے حوالے سے اپنے عرائض بیان کیے۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض محترمہ زہرا اصلانی نے انجام دیے جنہوں نے اس سے قبل ’’درخت کلمات‘‘ کی پروف ریڈنگ بھی کی تھی۔ پروگرام کے دیگر حصوں میں فارسی زبان میں حرف سپاس پر مشتمل ’’درخت کلمات‘‘ کے مصنف جناب سید مبشر علی زیدی کے بیانات شامل کیے گئے اور کتاب کے مترجم احمد شہریار نے کتاب کی ایک کہانی اور اس کا ترجمہ پڑھ کر سنایا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان گلوکار جناب علی اصغر آشا کی آواز میں علامہ اقبال کی معروف غزل ’’جوانان عجم‘‘ کی وڈیو بھی پیش کی گئی، جو علامہ اقبال کے نواسے محترم اقبال صلاح الدین کی پیشکش ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 0 =