۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
عباس ثاقب

حوزہ/جلے ہوئے تھے جہاں ظلمتِ جفا کے چراغ،وہ نور بانٹ رہا تھا بجھا بجھا کے چراغ،سکھا رہے ہیں ہمیں جبر و اختیار کا فرق،عجب طرح کے معلّم ہیں کربلا کے چراغ۔

حوزہ نیوز ایجنسیl

کربلا کے چراغ

جلے ہوئے تھے جہاں ظلمتِ جفا کے چراغ
وہ نور بانٹ رہا تھا بجھا بجھا کے چراغ

سکھا رہے ہیں ہمیں جبر و اختیار کا فرق
عجب طرح کے معلّم ہیں کربلا کے چراغ

ابھی تک اس کے تبسّم کا نور باقی ہے
حسین (ع) لائے تھے ہاتھوں پہ جو اٹھا کے چراغ

یہ معجزہ بھی فقط تشنگی دکھاتی ہے
کہ موجِ آب پہ جلنے لگیں وفا کے چراغ

رخِ حسین (ع) کی جب روشنی نظر آئی
تو حُر نے پھینک دیے فوجِ اشقیا کے چراغ

حسین (ع) ساتھ بہتّر چراغ لائے تھے
وہ سب چراغ تھے دہلیزِ مصطفیٰ (ص) کے چراغ

یزیدیت کی ہواؤں سے بجھ نہیں سکتے
ہماری آنکھ میں روشن ہیں جو عزا کے چراغ

سخن کے شہر میں لفظوں کی شکل میں، ثاقب!
جلائے رکھیں گے ہم سامنے ہوا کے چراغ

یزیدیت کی ہواؤں سے بجھ نہیں سکتے/ہماری آنکھ میں روشن ہیں جو عزاء کے چراغ،عباس ثاقب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباس ثاقب
شب عاشور 1443ھ
رات 12:50 
قم المقدسہ

تبصرہ ارسال

You are replying to: .