۳۰ دی ۱۴۰۰ |۱۶ جمادی‌الثانی ۱۴۴۳ | Jan 20, 2022
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

حوزہ/ رسول اکرم کے اجداد مِلّتِ ابراہیم پر تھے،کسی نے بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا،حضور کی شان میں سب سے پہلے نعت لکھنے والے حضرت ابو طالب علیہ السلام ہیں، آلِ نبی سے محبت و حمایت کی وجہ سے محمد بن ابی بکر اور حضرت مالک اشتر کو زہر دی گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ قرآن مجید میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوخطاب کیا گیا کہ آپ کا کام لوگوں کو راستہ دکھانا ہے،راہِ حق پر چلنااُن کا کام ہے ۔ ایک مقام پر ارشاد ہوا کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ خود کو ہلکان کر دیں گے۔رسول اکرم ہر انسان کی ہدایت چاہتے تھے جس کے لئے زحمات برداشت کیں لیکن اُن کی رحلت کے بعد اُن کی دختر کو اپنے حق کے حصول کے لئے خطبہ دینا پڑا۔اُن کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔اہل بیتِ پیغمبر سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے اُنؑ کے ذکر کو چھپانے ہی کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ منفی حربے بھی اختیار کئے گئے۔رسول اکرم کے اجداد مِلّتِ ابراہیم پر تھے،کسی نے بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔حضور کی شان میں سب سے پہلے نعت لکھنے اور کہنے والے حضرت ابو طالب علیہ السلام ہیں ۔ایک مرتبہ قحط کے موقع پر حضرت ابو طالب ؑنے رسول اکرم سے بارش کی دعا کے لئے کہا۔بارش ہوئی تو انہوں نے حضور کی شان میں اشعار پڑھے جن میں آپ کو روشن چہرے والا کہا۔اس کے علاوہ بھی ان کے شانِ رسالت میں کافی اشعار ہیں۔آج تک ہونے والی نعت خوانی کرنے والے حضرت ابوطالب کی پیروی کرتے ہیں۔

علی مسجد جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاﺅن میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ابرہہ کے کعبہ پر حملہ کے وقت حضرت عبد المطلب ؑکا اس یہ کہنا کہ کعبہ کا ایک مالک، رب ہے،اُن کے توحید پرست ہونے کا ثبوت ہے۔اُس وقت حضرت ابو طالب ؑ کی عمر 35 سال تھی۔وفات سے قبل جناب عبد المطلبؑ نے حضرت ابو طالب ؑکو وصیّت کی کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاص خیال رکھیں،ان کی شان بہت بلند ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حضور کا مقامِ رسالت تسلیم کرتے تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضرت خدیجہ علیہا السلام سے نکاح کے خطبے میں حضرت ابو طالب ؑنے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء سے آغاز کیا۔قرآن مجید میں حضور کی مدد کرنے والوں ، پناہ دینے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔اس لحاظ سے بھی حضرت ابوطالب سرِ فہرست ہیں جنہوں نے پرورش بھی کی اور دفاع بھی کیا۔شعبِ ابوطالب میں تین سال تک سختیاں برداشت کی جاتی رہیں۔کئی آدمی کھجور کے ایک دانے پر اکتفا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب حضرت ابو طالب کو امیرالمومنین حضرت علیؑ کے والد ہونے کی بنا پر مخالفین نے ہدف بنایا تو ابتدائی صدیوں میں ہی حضرت ابو طالب ؑکے دفاع میں اہل سنت اور شیعہ علماءنے کتب تحریر کیں۔اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بُغضِ علی کا یہ عالَم تھا کہ سمرہ بن جندب نے شبِ ہجرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے والی مشہور آیت من یشری نفسہ ابتغاءمرضات اللہکو اُن کے قاتل ابنِ ملجم کی شان میں قرار دیا۔اس طرح کے کاموںپر اسے حکومت کی طرف سے انعام واکرام سے نوازا جاتا تھا۔

حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ امیرِ شام نے اپنے گورنروں کو پہلا حکم یہ جاری کیا کہ جو کوئی یعنی صحابہ ، علی اور آلِ نبی کی شان میں کوئی حدیث بیان کرے اس کا نام بیت المال کے وظیفہ کے رجسٹر سے خارج کر دیا جائے۔ دوسرا حکم یہ جاری کیا کہ جن مسلمانوں کے دل میں اہل بیتؑ کی محبت ہے اُن کی گواہی قبول نہ کی جائے۔تیسرا حکم یہ جاری کیا کہ ثبوت کے بغیر محض الزام اور تہمت پر مُحبّانِ اہل بیت کوسخت سزا دی جائے۔اِن حربوں کا مقصد لوگوں کے دلوں سے اہل بیت کی محبت ختم کرنا تھا۔کئی معروف شخصیات کو آلِ نبی سے محبت و حمایت کی وجہ سے شہید کیا گیا۔حضرت محمد بن ابی بکراورحضرت مالک اشتر کو زہر دی گئی ۔70سال تک منبروں سے خطبہ جمعہ میں علیؑ پر سب و شتم کیا جاتا رہاجس حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے دور میں ختم کیا۔ایک طویل عرصہ تک اہل بیتؑ کے ذکر کو محو کرنے کی کوشش کی گئی۔ امام رضا علیہ السلام کی مامون کی ولی عہدی قبول کرنے کی ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ امت کو اہل بیت ؑسے متعارف کرایا جائے۔چنانچہ مختلف اسلامی مسالک کے علماءسے علمی مکالمے، مباحثے،مناظرے ہوتے جس میں امام علیہ السلام اسلامی معارف اور آلِ نبی کے فضائل بیان فرماتے تو اہل بیت ؑ کی عظمت کا پتہ چلتا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 7 =