۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی

حوزہ/ وفاق المدارس شیعہ پاکستان کے صدر: نصاب میں مکتبِ تشیّع کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور مسلّمہ عقائد کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،واضح رہے کہ ملت جعفریہ اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہیں کرے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے واضح کیاہے کہ ملت جعفریہ ہرگز اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہ کرے گی ۔جبکہ شیعہ عقائد کونظر انداز کر کے کوئی نصاب مسلّط نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا تمام طبقات کے لئے ”یکساں نصاب“ اچھا اقدام ہے لیکن متعصب افراد نے اسے متنازعہ بنا دیا ،بالخصوص نصاب میں مکتبِ تشیّع کو نظر انداز کیا گیاہے۔ حالانکہ ہم نے نصاب کی تدوین میں تعاون کیا لیکن ہماری تجاویز شامل نہ کی گئیں۔متعلقہ افسران سے لے کر وزیرِ تعلیم اور وزیراعظم تک سب کو خطوط بھیجے گئے لیکن ہمیں تسلی بخش جواب نہ دیا گیا۔ یہاں تک کہ حتمی مسودہ بھی فراہم نہ کیا گیا۔

جامعتہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے نصاب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیتؑ کے ذکر کو نکالا جارہا ہے۔صدیوں کے مسلّمہ عقائد کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جیسا کہ درود میں تمام صحابہ کو شامل کرنے پر غیر ضروری زور دیا جا رہا ہے جس پر خود اہل سنت کے اکابر علماءبھی متفق نہیں۔اس کے لئے جعلی احادیث کا سہارا لیا جارہا ہے ۔تمام صحابہ کو درود میں شامل کرنے پر اصرار بھی درست نہیں کیونکہ نہ توکوئی صحابی معصوم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور نہ ہی ان کے معصوم ہونے پر کوئی اور دلیل ہے۔ قرآن مجید میں مسجد ضرّار کا واقعہ ہے جو بعض صحابہ نے بنائی تھی لیکن قرآن نے اسے مومنین کے مابین تفرقہ قرار دیا اور حکم خُدا سے گرا دی گئی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر اجازت کسی کی ملکیت پر یا کسی اور غلط طریقہ یا مقصد سے بنائی گئی مسجد کو گرایا جاسکتاہے۔

واضح رہے کہ صحابہ کی کئی اقسام ہیں جن میں مجاہد، جانثارو مخلص شہداءبھی ہیں۔اُن کا احترام لازم اوراُن کے خلاف بات کرنا جائز نہیں لیکن ایسے صحابہ بھی ہیں جن کی سنگین غلطیوں کا ذکر قرآن و روایات میں موجود ہے۔ خالد جیسے بھی ہیں جس نے ذاتی عناد کی بنا پر بے گناہوں کو قتل کیا۔ مالک بن نویرہ کو ناحق قتل کرنے کے بعد اس کی بیوی سے عدت کی شرط کے بغیر اُسی رات نکاح کیا گیا۔ کئی جنگوں میں ایک طرف علی علیہ السلام تھے تو ان کے مدمقابل کچھ صحابہ تھے۔ دونوں تو حق پر نہیں ہو سکتے پھر کیسے سب صحابہ کو درود میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ لہٰذا”اجمعین“کہنا درست نہیں۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کی آل کی تیرہ ہستیاں معصوم ہیں۔صحابہ کے بارے غیر ضروری اصرار دین کے مطابق نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .