۱۶ آذر ۱۴۰۰ |۲ جمادی‌الاول ۱۴۴۳ | Dec 7, 2021
مولانا سید حسین مہدی حسینی

حوزہ/ ہفتۂ وحدت نے دشمن کی کمر توڑ دی ہے۔ عالمِ اسلام کی حیثیت ایک جسم کی ہے اور عالمِ اسلام کا اتحادی نکتہ قرآن ہے، کلمہ ہے، کعبہ ہے اور نبی مرسل ہیں۔ جب یہ ساری چیزیں سب کی ایک ہیں تو اسی کو بنیاد بنا کر کے سب کو جمع ہو جانا چاہئے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،صدر مجلس علماء ہند و استاد جامعۃ الامام امير المؤمنين عليہ السلام،ممبئی، ممتاز مفکر حجت الاسلام و المسلمین سید حسین مہدی حسینی نے ایک بیان میں اتحاد بین المسلمین پر بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ اور رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام کا عظیم دشمن اس وقت امریکہ اور اسرائیل ہے۔ اس ہفتۂ وحدت نے سامراج کی ساری سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ لہذا امتِ اسلامی کو ہفتۂ وحدت کو فروغ دینا چاہئے۔ ہفتۂ وحدت نے دشمن کی کمر توڑ دی ہے۔ عالمِ اسلام کی حیثیت ایک جسم کی ہے اور عالمِ اسلام کا اتحادی نکتہ قرآن ہے، کلمہ ہے، کعبہ ہے اور نبی مرسل ہیں۔ جب یہ ساری چیزیں سب کی ایک ہیں تو اسی کو بنیاد بنا کر کے سب کو جمع ہو جانا چاہئے۔ 

انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب ایران نے انہی نکتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہفتۂ وحدت کی داغ بیل ڈالی اور اس وقت ولی امرِ مسلمین آیت اللہ العظمیٰ حضرت سید علی خامنہ ای دامت برکاتہ و دامت ظلّہ نے اسی قرآن، کلمہ، کعبہ اور نبی کو معیارِ وحدت قرار دیتے ہوئے عالمِ اسلام کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے جزوی اختلافات کو ختم کر کے اور بنیادی طور سے ایک بنیانِ مرصوص محکم اور مستحکم دیوار کی طرح سے اسلام کے دشمنوں کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور یہی وجہ ہے کہ آج عالمِ اسلام میں نادان افراد تو ہفتۂ وحدت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن جن کے ذہنوں میں ذرہ برابر شعور اور ضمیر میں بیداری ہے وہ ہفتۂ وحدت کی تائید کریں گے۔

انکا کہنا تھا کہ یہ تو عجیب و غریب اور دردناک مسئلہ ہے کہ عالمِ اسلام کے حکمرانوں میں ضمیر کی بیداری ختم ہو چکی ہے اور وہ آغوشِ امریکہ و اسرائیل میں جا کر اپنا وقار بھی ختم کر رہے ہیں اور اپنے ملک کا وقار بھی ختم کر رہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمِ اسلام کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ ایک محکم اور مستحکم دیوار بن جائیں اور بن کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ اس لئے کہ قرآنِ مجید نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہم تم کو بلند کریں گے اور وہ دن اب دور نہیں ہے کہ جب عالمِ اسلام کے بڑے سے بڑے محکم سے محکم اور مضبوط سے مضبوط حالات کو بھی اب کوئی اور نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے دانشور افراد ہی اس کو سنبھالیں گے اور اس سلسلہ میں میں عالمِ اسلام کو پھر سے ہفتۂ وحدت کی دعوت دوں گا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 2 =