۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
مولانا قمی 

حوزہ/ فرانس کی جانب سے اسلام فوبیا کا جو ڈرامہ تیار کیا جارہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے عالم اسلام کے حکمرانوں اور ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدگی کا اظہار کریں اور فرانس کے ساتھ تمام تجارتی سفارتی اور سیاسی رابطے ختم کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیروان ولایت جموں و کشمیر کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے عید میلاد النبی (ص) اور ہفتہ وحدت کے عظیم الشان مناسبتوں امت مسمہ کو مبارکباد پیش کیا ہے اپنے ایک بیان میں مولانا سبط شبیر قمی نے کہا کہ اسوہ رسول(ص) کا بغور مشاہدہ کرکے اور آپسی اتحاد و اتفاق قائم رکے مسلمانان عالم اپنا کھویا ہوا مقام واپس لاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میلاد النبی (ص) منانے کا اصل ہدف اور مقصد یہ ہے کہ ہم دنیا کو بتادیں کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ (ص) امن اتحاد و اتفاق کے علمبردار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیامبر اسلام خلق عظیم کے درجے پر فائز ہیں لہذا ہمارا حق نہیں بنتا کہ ہم ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگائیں یا غلط زبان استعمال کریں انہوں نے کہا کہ آج سامراج کے زرخرید ایجنوں اور نام نہاد مسلمانوں کے ہاتھوں امت واحدہ کو پارہ پارہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔لہذا امت کےباشعور شخصیات اور مخلص افراد کو ایسے فتنہ پرور افراد کے کرتوتوں سے باخبر رہنا چاہئے اور دشمن کے ہر محآذ کے خلاف باہمی اتحاد و اخوت کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینی چاہئے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بارہ سے سترہ ربیع الاول تک کا مقدس اور عظیم ہفتہ ملت منتشرہ کو ملت واحدہ میں تبدیل کرنے کا ایک بہترین موقعہ ہے مسلمانان عالم سے التماس ہیں کہ وہ ہفتہ وحدت کو جوش و جذبہ کے ساتھ منائیں اور منانے کے علاوہ اس پر عمل پیرا ہوجائیں۔

مولانا قمی نے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کی جانب سے رسول اسلام کی مسلسل توہین اور فرانسیسی صدر کی جانب سے ان کی حمایت پر شدید برہی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رسول اسلام (ص) اور دیگر اسلامی شخصیات کی توہین کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ فرانس کی جانب سے اسلام فوبیا کا جو ڈرامہ تیار کیا جارہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے عالم اسلام کے حکمرانوں اور ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدگی کا اظہار کریں اور فرانس کے ساتھ تمام تجارتی سفارتی اور سیاسی رابطے ختم کریں،انہوں نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ۔

آخر میں انہوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ توہین مذہب کے سلسلے میں فرانسیسی حکومت اور جریدے کے خلاف سخت کاروائی کریں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 0 =