۱۶ آذر ۱۴۰۰ |۲ جمادی‌الاول ۱۴۴۳ | Dec 7, 2021
حجت الاسلام و المسلمین رضا رمضانی دبیرکل مجمع جهانی اهل بیت (ع)

حوزہ/اہل بیت عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین رضا رمضانی نے لبنانی مسلم علماء کونسل کے اراکین سے ملاقات کی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین رضا رمضانی نے ایک وفد کے ہمراہ لبنانی مسلم علماء کونسل کے اراکین سے ملاقات اور وحدت اسلامی کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق،لبنانی مسلم علماء کونسل کے سربراہ شیخ غازی حنیہ نے اس ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لبنانی مسلم علماء کونسل کے پلیٹ فارم سے واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ہم ولی فقیہ کے حکم کے تحت ہیں اور جو فیصلہ رہبر انقلاب کا ہوگا ہم اسے قبول کرتے ہیں تاکہ وہ عظیم دن دیکھیں کہ جب فلسطین آزاد ہوگا اور مظلوم مہاجرین اپنے وطن واپس جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دنیا کے مظلوموں کے خلاف استکبار جہاں اور ظلم کے خلاف جدوجہد میں ولی فقیہ کے فرمانبردار ہیں اور ہم ہدایت و بصیرت الہی کی بنیاد پر، اسلامی اتحاد و وحدت اور مزاحمت و مقاومت کے محوروں کے ساتھ ہیں۔

اس ملاقات میں حجۃ الاسلام والمسلمین رضا رمضانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مسئلۂ اتحاد و وحدت ہمارے لئے عقیدے کا مسئلہ ہے اور یہ ہمارے عقیدتی اصولوں میں سے ایک ہے،کہا کہ اتحاد کا مسئلہ ایک انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے لہذا ہمیں اس مسئلے پر زور دینا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد و وحدت کا موضوع تمام مسلمانوں کے لئے اہم ہے اور یہ نشستیں،ملاقاتیں اور اجتماعات ہم میں سے ہر ایک میں ذمہ داری پیدا کرتی ہیں،کیونکہ یہ چیزیں اتحاد و وحدت کو زیادہ خوبصورت اور واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔

اہل بیت(ع)عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید نشاندہی کی کہ یہ اجتماع اور یہ اتحاد مزاحمت کی روح اور مزاحمت پر اس کے ایمان سے اخذ کیا گیا ہے اور اسی طرح یہ اتحاد تمام مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ عمل بھی ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین رمضانی نے مزید کہا کہ ہم میں سے ہر ایک کو اس اتحاد اور اس اجتماع کو اہمیت دینا چاہئے کیونکہ اتحاد ہی نجات کا واحد راستہ،بھائی چارے اور ترقی کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ لبنانی مسلم علماء کا اجتماع اسلامی اتحاد کی حقیقت اور اہمیت کو بیان کرنے والا ایک پلیٹ فارم ہے،کہا کہ میں علماء کرام کو مشورہ دیتا ہوں کہ" فقۂ مقاومت"کے مطابق عمل کریں۔امام خمینی(رح)اور حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای کی تحریک اور فقۂ مقاومت پر مبنی مزاحمت و مقاومت کا نظریہ چار دہائیوں میں پروان چڑھا اور پوری دنیا میں پھیل گیا اور اسے ہم لبنان کی عملی اور حقیقی سطح پر مشاہدہ کر رہے ہیں۔اب اس کی سب سے بڑی مثال سید مقاومت سید حسن نصراللہ ہے۔

مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے آخر میں بیان کیا کہ ہمیں غیر متعلقہ اور متعصب لوگوں کو اپنے درمیان داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ہم ایک ہی دل اور روح کے پیکر ہیں اور ہم اسی اتحاد و وحدت کے سائے میں رہبر انقلاب کی راہ اور سید حسن نصر اللہ کی حمایت میں آگے بڑھیں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 7 =