۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
خواتین میں قرآنی تعلیمات اور قرآن کلچر کے فروغ کے لئے قرآنی پروگرام کا انعقاد

حوزہ/ وجودِ زن کی بنا پر عالمِ کائنات صفاتِ انسان سے مزین، مرتب و حاملِ زیبائی ہے۔ 

تحریر: لائبہ بنت علی

حوزہ نیوز ایجنسی اولین حمد و ستائش خدائے مہربان کیلئے کہ جس نے تخلیقِ آدم و تخلیقِ انسانیت کے بعد اس مخلوقِ جالب کو نائبۃ اللہ فی الارض قرار دیکر اس کی فطرتِ بے مثل میں اسماء و انواع و اقسام کے علوم رکھ کر تقسیمِ نر و مادہ کے بعد ان دو اجناس میں صنفِ زن کو رونقِ ھستی , مربئ انسان , آغوش پُر مھر , رنگ کائنات, مھم ترین عضو معاشرہ, و ریحانۂ خانہ قرار دیا۔و قال الامام المتقین (ع): اِنَّ المراَۃُ ریحانَۃ

کارخانۂ قدرت میں عورت وہ صنفِ باعظمت ہے کہ اگر عورت پاکیزہ ہوتو اسکی آغوش مہربان میں بندگانِ خدا , عابدینِ خدائے لم یزل, محافظ و تشنہ و طالبِ علومِ اسلامی, پاسدارِ اقدارِ انسانی , افتخارِ مخلوقاتِ عالَم, و حتی مقدم بر مقامِ ملائک انسان تربیت یافتہ ہو کر یہی انسان حقیقتِ انسانیت کے پاسدار بن کر خدائے بر حق کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر افتخارِ پروردگار بن جاتے ہیں اور اساساً ان تمام کرشموں اور قابل تحسین چشمۂ تربیت کا نام "عورت کی پاکیزہ آغوش" ہے۔

پس وجودِ زن کی بنا پر عالمِ کائنات صفاتِ انسان سے مزین، مرتب و حاملِ زیبائی ہے۔

زنِ طیبہ وہ مھدِ نورانی ہے کہ جسمیں ننھے ننھے, نرم و نازک, کارِ بد و خوب سے ناآشنا پر صلاحیت و پر ظرفیت نومولود انسان اس اولین درسگاہ سے سیراب ہوکر معاشرے میں نکھر کر پر از عطر, گل کی مانند اپنے نورِ تربیت سے معاشرے میں موجود بد انسانوں کی سفاکی, و صفات بد کہ جو پُر از تاریکی و بدی ہوتی ہیں ان سے نبرد آزما ہو کر حقیقت و دین لم یزل میں موجود انبیائے ربانی, و خلاصۂ انبیا یعنی ولایت آئمہ اطہار ع کی نمائندگی کرکے و معاشرے میں موجود ظلم و ستم کے سامنے سینہ سپر ہو کر عدل و انصاف کے لئے کوشاں ہوکر بارگاہ ایزدی میں سرخرو ہوجاتے ہیں۔ ہاں یہ وہی برکتِ وجودِ زن ہے کہ جس نے انسان کو مقام و مرتبۂ بلند تک پہنچایا، چونکہ یہ وہی وجودِ پاکیزۂ زن ہے کہ جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا :

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

تبصرہ ارسال

You are replying to: .