۵ تیر ۱۴۰۳ |۱۸ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 25, 2024
تصاویر/ حال و هوای حرم مطهر رضوی در آستانه ولادت امام رضا علیه‌السلام

حوزہ/ راقم الحروف کے لئے یہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے کہ امامؑ کی زندگی، ولادت، شہادت، فضیلت، عظمت و کمالات کہاں سے شروع کی جائے اور کس خوبی و خصوصیت پر تحریر کر ختم کرے۔ واقعی میں کسی کے قلم میں قوت، فکر میں وسعت، علمی وجاہت، فصاحت و بلاغت کہاں جو آپؑ کی حیات طیبہ کو دائرہ مضمون میں سمیٹ سکے۔

تحریر: ڈاکٹر شجاعت حسین

حوزہ نیوز ایجنسی|

مختارٍ دین، کعبہ ایماں علی رضاؑ

وجدان علم، قبلہ ایقاں علی رضاؑ

باب شعور، آیت قرآں علی رضاؑ

حکمت کا ماہ، چہرہ یزداں علی رضاؑ

علم و عمل کا پلہ میزان بن گئے

دنیا میں کردگار کی پہچان بن گئے

حضرت امام علی رضا علیہ السلام مالک علم لدّنی، وارث علم نبی، دین کی دلکشی، اسلام کی غنچگی، توحید کی شبنمی، امامت کی چاندنی، عصمت کی روشنی، نام خدا اور رسولؐ کی زندگی، نفس خدا، وارث انبیاءؐ، گلشن رسالت کی جلا، علم و عمل کی صبا، عدل کا میزان، حق کی اذان، ناطق قرآن، کلام الٰہی و حدیث رسولؐ کے ترجمان، فکر کا وجدان، کعبہ ایمان، چہرہ رحمان، ذات خدا کی پہچان، نفس کل ایمان، توحید خدا کا برہان، فرقان کی زبان، مصداق سورۃ رحمان اور وحدت کی دلیل، فضیلت، عظمت و ایقان ہیں۔

علماء، موّرخین، محققین و مدرسین کا بیان ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام بتاریخ 11؍ ذی قعدہ 153 ہجری یوم پنجشنبہ بمقام مدینہ منورّہ متوّلد ہوئے ہیں (اعلام الوریٰ، ص 182؛ جلا العیون، ص 280؛ روضتہ الصفا، جلد 3، ص 13؛ انوار نعمانیہ، 127)۔ آپؑ کی ولادت کے متعلق علامہ مجلسی اور علامہ پارسا تحریر فرماتے ہیں کہ جناب ام البنین کا کہنا ہے کہ جب تک امام علی رضاؑ میرے بطن میں رہے میں اکثر خواب میں تسبیح و تہلیل اور تمجید و تحمید کی آوازیں سنا کرتی تھی۔ جب آپؑ پیدا ہوئے تو آپؑ نے زمین پر تشریف لاتے ہی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک دیئے اور اپنا فرق مبارک آسمان کی طرف بلند کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آپؑ خالق کائنات سے باتیں کر رہے ہیں۔ (مولانا السید نجم الحسن، چودہ ستارے، ص 419)

نور خدا علوم محمد کا ماہتاب

تقدیس، فاطمہ کی یہ زور ابوتراب

خلق حسن یہ عزم حسینی کا آفتاب

وارث ہے انبیائے خدا کا فلک جناب

اس کی رگوں میں خون ہے عمران کی فکر کا

تاویل نطق رب ہے مفسر ہے ذکر کا

راقم الحروف کے لئے یہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے کہ امامؑ کی زندگی، ولادت، شہادت، فضیلت، عظمت و کمالات کہاں سے شروع کی جائے اور کس خوبی و خصوصیت پر تحریر کو ختم کرے۔ واقعی میں کسی کے قلم میں قوت، فکر میں وسعت، علمی وجاہت، فصاحت و بلاغت کہاں جو آپؑ کی حیات طیبہ کو دائرہ مضمون میں سمیٹ سکے۔

مشہد کہوں کہ رشک جنان سما کہوں

مشکل کشاء کہوں اسے عقدہ کشاء کہوں

کشتی دین حق کی اسے ناخدا کہوں

باب مراد، قلب حزیں کی دوا کہوں

فرش زمیں پہ سجدہ دل کا مقام

آرام گاہ اس کی جو ضامن امام

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ہر ایک گوشہ پر ایک ضخیم کتاب تصنیف کی جا سکتی ہے جیسے آپؑ کی پرورش، عرفان، تقویٰ، بلند و بالا اخلاق، زہد، علوم کی وسعت، اقوام زریں: عقل کی فضیلت، محاسبہ نفس، کاروبار کی فضیلت، سب سے اچھے لوگ، آپؑ کی نصیحتیں، مالدار اور فقیر کے درمیان مساوات، وصیت کی اہمیت، کلمات قصار، آپؑ کو تمام زبانوں کا علم ہونا، واقعات و حادثات، کرم و سخاوت، عبادت، ولایت کی عہدی، فضل کا آپؑ کو خط لکھنا، مامون کے ایلچیوں کا آپؑ کی خدمت میں حاضر ہونا، خانہ خدا، خراسان و نیشاپور کے لئے روانگی، مامون کا آپؑ کا استقبال، مامون کی جانب سے امامؑ کو خلافت کی پیشکش، ولی عہد کی پیشکش، ولی عہد قبول کرنے پر مجبور کرنا، آپ کی شرطیں، بیعت اور مامون کا امامؑ سے خوف کھانا وغیرہ۔ یہ سبھی ایسے عنوان ہیں کہ جو آپؑ کے ماننے، چاہنے، آپؑ کے روضہ اقدس کی زیارت کرنے والے یا جو مشتاق ہیں انہیں بھی یہ سب مطالعہ کر چہاردہ پنجتن پاک کے صدقے میں معرفت امام رضا علیہ السلام حاصل ہو اور کم از کم حصول یابی کی تمنا کریں۔

بغیر علم زبان گفتگو کرنا اور اپنی بات کو بیان کرنا ناممکن ہے۔ ہمارے امام علی رضا علیہ السلام کو تمام زبان کا علم تھا۔ ابو اسماعیل سندی سے روایت ہے کہ میں نے ہندوستان میں یہ سنا کہ عرب میں ایک اللہ کی حجت ہے، تو ان کی تلاش میں نکلا، لوگوں نے مجھ سے کہا کہ وہ امام رضاؑ ہیں۔ میں ان کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپؑ کو سندھی زبان میں سلام کیا، امامؑ نے سلام کا جواب سندھی زبان میں دیا۔ میں نے آپؑ سے کئی سوال کئے اور متعدد مسائل دریافت کئے۔ اپؑ نے میری زبان میں ہی ان کا جواب و حل بیان فرمایا۔ (حیاۃ الامام علی بن موسیٰ الرضاؑ، جلد ا، صفحہ 38)۔ اب صلت سے روایت ہے کہ امام رضاؑ لوگوں کی زبان میں کلام کیا کرتے تھے۔ (مناقب، جلد 4، ص 333)۔

امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر کسی کا دوست اس کی عقل اور کسی کا دشمن اس کی جہالت اور نادانی ہے۔ حقیقی عقل ایک نور ہے جو انسان کے وجود میں رکھا گیا ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خالق کو پہچانتا ہے اور یہ عقل انسان کی توجہ کو دوسری چیزوں سے ہٹا کر صرف خداوند متعال کی طرف مرکوز کر دیتی ہے۔ اس اہمیت کو بھی تحریر کر دیا جائے کہ بعض روایات میں عقل کو پیغمبر اور نبی کیا گیا ہے۔ امام رضاؑ کے مذکورہ بالا فرمان کی روشنی میں انسان کے وجود میں پسندیدہ اور قیمتی گوہر عقل ہے۔ پروردگار جب افتخار کرتا ہے تو صرف انسانی عقل پر اور اس کو اپنی قیمتی گوہر کے عنوان سے یاد کرتا ہے جو انسان کے اختیار میں دے دیا گیا ہے۔

خواہشات انسان کی زندگی میں حیوانی زندگی کا سبب بنتی ہیں اور عقل ان خواہشات کو قابو میں رکھتی ہے۔ امام علیؑ کا فرمان ہے کہ عقل کو ہاتھ سے دینا، زندگی کو ہاتھ سے دینے کے مترادف ہے۔ (اصول کافی، جلد 1، صفحہ 27)

امام علی رضاؑ رسول اکرم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا "علم عمل کا پیشوا ہے۔" اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہر کام انجام دینے سے پہلے اس کی تفتیش اور اس کا علم ضروری ہے اور بغیر علم کے ایسے ہی ہے جیسے رات کی تاریکی میں چلنا۔

امام رضاؑ فرماتے ہیں "عقل کا سب سے بڑا رتبہ و درجہ یہ ہے کہ انسان خود کو پہچانے۔" اپنے آپ کو پہچانا خدا کو پہچاننے کا محور و مرکز اور وسیلہ ہے جیسا کہ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا "جس نے اپنے آپ کو پہچانا لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔" (الحیاۃ، جلد 1، صفحہ 212)

المختصر، امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اپنے زمانے کے لوگوں کو پہچانے اور ان کو پہچاننے کے بعد اسی طریقے سے ان سے پیش آئے۔

مدحت کا اس کو مصحف قرآں نہ کیوں لکھوں

ان کی ثنا کو رفعت ایماں نہ کیوں لکھوں

ادراک علم، حاصل عرفاں نہ کیوں لکھوں

اس تحریر کو فکر کا طوفاں نہ کیوں لکھوں

محشر میں نجات کی پختہ امید ہے

خامہ نہیں یہ باب جناں کی کلید ہے

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے چاہنے و مودت رکھنے والے ان علماء کرام، ذاکرین عظام، مقررین، خطباء، شعراء کرام، بانیان مجالس و محافل، منصبدار، عہداداران، مصنفین، صحافی، قلمکار، شہرت یافتہ، سرمایہ دار، قیمتی و نئی ماڈل کی گاڑیوں پر چلنے والے، اچھے و خوبصورت مکان کے مکینوں اور اثر انداز رسوخ والوں کے امام علی رضاؑ کے اقوال ذریں کی طرف ذہن عالیہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے کہ جو شخص کسی غریب کو دیکھے اور اس کو اس طرح سلام نہ کرے جیسا کہ وہ کسی امیر شخص کو سلام کرتا ہے تو جب وہ قیامت کے روز خدا سے روبرو ہوگا تو خالق کائنات و مالک مختار اعمال کے مطابق حساب و کتاب کرے گا اور اس سے اس مختلف و دلسوزی کرنے والے رویہ پر ناراض ہوگا۔ (امام علی رضاؑ، عیون اخبار ال، جلد 2، صفحہ 39)

چونکہ راقم الحروف، ناچیز و حقیر نے امام علی رضا علیہ السلام کے دربار، روضہ اقدس کو بوسہ دیا ہے، دعائیں و مناجات، سلام و زیارت سے مشرف ہوئے ہیں اس لئے میری فکر و احساس پر وزن و دباؤ ہوتا ہے، روح کی پاکیزگی اور آخرت پر نظر اور قلب میں آپؑ کے لئے مودت، معاشرے کے مشاہدات خود بخود قلم روانی اختیار کر لیتا ہے۔ تمام مومنین واضح طور پر مشاہدہ کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا سے مزین افراد، عدم موجودگی و فقدان بالا لوگوں سے سلام و دعا، مصافحہ و معانقہ کرنا، برابر میں کھڑا ہونا تو شان و شوکت کے خلاف، نظر تک ملانا آبرو ریزی سمجھ بیٹھیں ہیں۔ ایسے علم، دولت، منصب، عہدہ، شہرت، ابلیسی تکبر و علامت سے کیا حاصل جب انجام غضب خدا کا سامنا کرنا پڑے اور امام علی رضا علیہ السلام کی نصیحت سے کج روی! صالح توفیق و ہدایت کی دعا ہے۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا قمری کیلنڈر کے مطابق 1292 واں اور انگریزی کیلنڈر کے اعداد و شمار کے مطابق 1259 واں جشن پوری دنیا میں خصوصی طور پر مشہد (ایران) جہاں آپؑ مدفن ہیں بڑے تزک و احتشام سے خوشی منائی جا رہی ہیں۔ اپنے ملک ہندوستان میں کے مختلف شہروں کے امام بارگاہوں میں محفلوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ بہت خوشی و جزبے سے ایک دوسرے کو مبارکباد و تہنیت پیش کر رہے ہیں۔ اب نہایت ضرورت اس بات کی ہے کہ آپؑ کے اقوال ذریں مومنین عملی زندگیوں میں اپنا کر نمونہ عمل قرار پائیں، بے شک مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .