۵ تیر ۱۴۰۳ |۱۸ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 25, 2024
س

حوزہ/ عالم بشریت کی تاریخ میں متعدد ماؤں نے پیغمبروں، انبیاء، مرسلین، آئمہ معصومین، اولیاء، اوصیاء علیہم السّلام، اصحاب اور بزرگانِ دین کو جنم دیکر اس طرح سے پرورش کی کہ جنھوں نے اللہ کو پہچانوایا، مقصد خلقت سے آشنا کیا، آسمانی صحائف کی تعلیم دی، علم، حلم، عقل، زہد، تقوی، پرہیزگاری، انسانیت، مساوات، حقوق، امن اور محبت کا پیغام دیا۔

تحریر: ڈاکٹر شجاعت حسین

حوزہ نیوز ایجنسی | عالم بشریت کی تاریخ میں متعدد ماؤں نے پیغمبران، انبیاء، مرسلین، آئمہ معصومین، اولیاء، اوصیاء علیہم السّلام، اصحاب اور بزرگانِ دین کو جنم دیکر اس طرح سے پرورش کی کہ جنھوں نے اللہ کو پہچانوایا، مقصد خلقت سے آشنا کیا، آسمانی صحائف کی تعلیم دی، علم، حلم، عقل، زہد، تقوی، پرہیزگاری، انسانیت، مساوات، حقوق، امن اور محبت کا پیغام دیا۔

اگر ماؤں کا ذکر ہوگا تو اس میں بی بی ہاجرہ، بی بی مریم، بی بی آمنہ، حضرت خدیجتہ الکبری، حضرت فاطمہ بنت اسد، حضرت فاطمتہ الزہؑرا، حضرت شہر بانو، حضرت اُمّ عبداللہ فاطمہ، حضرت اُمّ فروہ، حضرت حمیدہ خاتون، حضرت نجمہ، بی بی سبیہ(خیزران/ریحانہ)، حضرت سمانہ مغربیہ، حضرت نرجس خاتون، حضرت زینب بنت فاطمتہ الزہؑرا، حضرت ہاجرہ آغا خانم (والدہ ماجدہ حضرت رہبرکبیر، آیت اللہ روح اللہ امام سیدالموسوی خمینی رحہ)، حضرت خدیجہ میر دامادی (والدہ ماجدہ رہبر معظم آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای دام ظلہ)، حضرت سیدہ عصمت خداداد حسینی (والدہ ماجدہ شہید خدمت آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی طاب ثراہ) اور مہدیہ صفی الدین والدہ ماجدہ (حزب اللہ کے سکریٹری جنرل، حجت الاسلام والمسلیمین حاج سید حسن نصراللہ دامت توفیقاتہ) جیسی صابرہ، شاکرہ، زاہدہ، عالمہ، صدیقہ، طاہرہ، عاقلہ ماؤں کا ذکر ہونا لازمی ہے۔

جب ایک ماں بچے کی پرورش کرتی ہے، تو یہ بچے کو زندگی کے لیے ایک بہترین بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ایک ایسی بنیاد جو نہ صرف اعتماد اور سیکھنے کی خواہش پیدا کرتی ہے بلکہ بچے خود آگاہی اور دوسروں کے لیے غور کرنے کا ایک صحت مند احساس بھی دیتی ہے۔

جب وہ چار مائیں جیسے حضرت ہاجرہ آغا خانم، حضرت خدیجہ میر دامادی، حضرت سیدہ خداداد حسینی اور سیدہ مہدیہ صفی الدین نے اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہیں، عظیم اور تاریخ ساز شخصیت بناتی ہیں، زمانے کو نمونہ عمل بنا کر پیش کرتی ہیں۔ یہ لوگ ظلم و بربریت، بدترین تہذیب و تمدن سے نجات دہندہ، دین اسلام پر کامل ایمان رکھنے والے، عزم محکم و پیہم کے مجسمہ، ہمالیائ حوصلے کے حامل، اعلٰی افکار کے مالک، انصاف و انسانیت کے علمبردار، عظیم فقیہ، منفرد رہبر، ممتاز سیاستدان قرار پائے۔ ان ماؤں کے فرزند ہیں رہبر کبیر آیت اللہ روح اللہ سید الموسوی خمینی، رہبر معظم انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای دام ظلہ، شہید خدمت آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی الساداتی طاب ثراہ اور حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلیمین حاج سید حسن نصراللہ دامت توفیقاتہ ہیں۔ ایسی والدہ ماجدہ پر لاکھوں سلام جو اپنے فرزند کی پرورش اس انداز سے کرتی ہیں، ایسے بلند و بالا مقام تک پہنچایا جو اپنے زمانے اور مستقبل میں عالم بشریت کے لیے انقلابی فکر، جذبہ خدمت و مقاومت انسان، کمزور، اتحاد و محبت و امن کے لیے فداکاری کے عزم مستحکم میں ایسی حیات پیوست کر ڈالی ہے کہ ظہور امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی الفرجک الشریف تک باطل قوتوں سے برسر پیکار ایمانی، انسانی، اسلامی و اخلاقی اقدار کے پرچم کو بلند رکھیں گے اور تادیر سر مشق عمل بن کر نسلوں کو فکری تربیت و آگاہی اور نظریاتی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ ان فرزندوں کی فکر کے تابعداری کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا ہے کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین حاج سید حسن نصر اللہ دامت توفیقاتہ کی والدہ گرامی مہدیہ صفی الدین بروز ہفتہ 25 مئی 2024 کو مالک حقیقی سے جا ملیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حزب اللہ کی ایگزیکٹیو کونسل کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید ہاشم صفی نے مرحومہ کی نماز میت پڑھائی اور جنوبی لبنان کے الغبیر قصبے میں واقع "روضتہ الشہیدین" میں مرحومہ کو سپرد خاک کیا گیا۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت العظمٰی سید علی خامنہ ای نے سید حسن نصراللہ کی والدہ گرامی کے انتقال پر ملال پر دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ کی عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ مزاحمت سے کبھی نہ تھکنے والے سید، ان کے دامن سے نکلے ہیں۔ خدا کی رحمت و رضا ان کے شامل ہو اور اللہ کا سلام اور اس کی برکتیں آپ پر اور مزاحمت کے عظیم محاذ کے آپ کے مجاہد ساتھیوں پر ہو!

سید حسن نصر اللہ دامت توفیقاتہ کی والدہ کی رحلت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے آیت اللہ العظمٰی نوری ہمدانی نے کہا بے شک آپ جیسے فاضل اور مجاہد کی تربیت مرحومہ کے لئے ہمیشہ باقی رہنے والی نیکی شمار ہوگی۔

آیت جنتی اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آپ کی مخلص اور پرہیزگار والدہ کے انتقال کی خبر انتہائی غم و افسوس کا باعث بنی۔ عظیم ہستی جس نے آپ جیسے مجاہد اور انقلابی فرزند کی پرورش میں نمایا کردار ادا کیا وہ بلا شبہ صبر زینبی، شجاعت فاطمی اور کردار حمیدہ کی اعلٰی مظہر تھیں۔

آیت اللہ حسن نصر اللہ نے لبنان، عراق، فلسطین، ایران، شام، ہندوستان، پاکستان، ترکی، یمن، بحرین، کویت، مصر، تیونس، موریطانیہ، اور دیگر افریقی ممالک، اردن، جبوتی، اور بیرونی ممالک میں مقیم لبنانیوں کی جانب سے تعزیت کے اظہار پر ان سب کا شکریہ ادا کیا۔

مرحومہ سیدہ مہدیہ صفی الدین جہاد اور تقوی کی نمونہ قرار پائیں۔ وہ ایک وفادار، نیک، پاکیزہ اور پرسکون خاتون کردار کی مظہر ہیں۔ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تھیں اور کسی کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ سبھی سے محبت و شفقت سے پیش آئیں۔ خاندان کی تربیت اور مدد کے لئے ہمیشہ منہمک رہیں۔ مرحومہ سیدہ مہدیہ صفی الدین اپنے شوہر کی مشکلات کو برداشت کرنے میں مدد فراہم کی۔ صبر و تحمل کے ساتھ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا۔ سید حسن نصراللہ دامت توفیقاتہ کے سب سے بڑے فرزند یعنی مرحومہ کے نوہ پسر، شہید سید ہادی حسن نصراللہ سے بہت پیار کرتی تھیں جن کی شہادت پر بہت غمگین ہوئیں۔

افسوس کی بات ہے کہ حسن نصراللہ دامت توفیقاتہ اپنی والدہ مرحومہ کی تشیع جنازہ میں سکیورٹی وجوہات سے شرکت نہیں کر سکے، لیکن ان کی تشیع جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت رہی۔ حزب اللہ اور امل موومنٹ کے عہدیداروں، عوام، سیاسی سماجی شخصیات اور علمائے کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروردگار مرحومہ کو جوار رحمت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے!

اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ دور میں حضرت ہاجرہ آغا خانم، حضرت خدیجہ میر دامادی، حضرت سیدہ عصمت خداداد حسینی اور حضرت سیدہ مہدیہ صفی الدین جیسی ماؤں کا اپنے وطن و معاشرے میں شدت سے کمی کا احساس کیا جا رہا ہے۔ احساس کو فکر، فکر کو عمل، عمل کے ساتھ پاک غذا اور پھر قرآن، احادیث رسول اکرم اور اقوال آئمہ اطہار علیہم الاسلام کا صدق دل سے اتباع کرنے سے بے شک مثبت نتیجہ نمودار ہوگا۔ ان شاءاللہ ویسی ماؤں کا ظہور ہوگا جیسا مذکورہ بالا تحریر میں ذکر ہے۔ اے ماں تجھے سلام!

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .