تحریر: داؤد حسین
لحوزہ نیوز ایجنسی I علیؑ… ایک ایسا نام جو عدل، شجاعت، تقویٰ اور علم کا استعارہ ہے۔ ایک ایسا چراغ جو صدیوں سے جل رہا ہے، لیکن دنیا کی آنکھوں پر پڑے تعصب اور مفاد کے پردے اسے دیکھنے نہیں دیتے۔ علیؑ، جنہوں نے کعبے میں آنکھ کھولی اور مسجد میں سجدہ کرتے ہوئے شہید ہوئے، آج بھی تنہا ہیں، آج بھی مظلوم ہیں۔
نہج البلاغہ… علیؑ کے الفاظ کا وہ مجموعہ جو حکمت، بصیرت اور الٰہی نور سے معمور ہے۔ ایک ایسا صحیفہ جس میں زندگی کے ہر پہلو کا درس ہے، جس میں حکمرانی کے اصول بھی ہیں اور روحانیت کی بلندیوں کا راز بھی۔ لیکن افسوس! جس طرح علیؑ کی ذات کو زمانے نے نظر انداز کیا، ویسے ہی ان کے الفاظ کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ وہی دنیا جو انصاف کے متلاشی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، علیؑ کے عدل سے کتراتی ہے۔ وہی حکمران جو مثالی حکومت کی تلاش میں ہیں، علیؑ کے نظام حکومت کو اپنانے سے گھبراتے ہیں۔
آج کے دور میں بھی علیؑ کی تنہائی کا عالم ویسا ہی ہے جیسا کل تھا۔ کل انہیں خلافت کے حق سے محروم کیا گیا، آج ان کی تعلیمات کو دفن کیا جا رہا ہے۔ کل انہیں میدانوں میں تنہا چھوڑا گیا، آج ان کے نام لیواؤں کو کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے۔ علیؑ کی مظلومیت صرف ان کے قاتل کی تلوار سے نہیں، بلکہ امت کی بے حسی سے بھی ہے۔ آج اگر علیؑ کے ماننے والے ہوتے تو دنیا میں اتنی بے انصافی، اتنی غربت، اتنا استحصال نہ ہوتا۔ آج اگر علیؑ کی حکومت کے اصول اپنائے جاتے تو دنیا میں کوئی مظلوم سسکتا نہ ہوتا، کوئی ظالم دندناتا نہ پھرتا۔
نہج البلاغہ آج بھی ہماری الماریوں میں بند ہے، ہمارے دماغوں سے دور اور ہمارے دلوں سے اوجھل۔ اس کتاب میں حکمرانی کے وہ اصول درج ہیں جو ایک فلاحی ریاست کا سنگ بنیاد ہیں، مگر آج کے حکمران اسے پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اس میں وہ جملے ہیں جو زہد و تقویٰ کی معراج پر لے جاتے ہیں، مگر ہمارے معاشرے کو ان سے کوئی سروکار نہیں۔ علیؑ کی تنہائی صرف کوفہ کے بازاروں میں نہیں تھی، علیؑ آج بھی اسی طرح اکیلے ہیں جیسے کل تھے۔ ان کے ماننے والے کم ہیں اور جو ہیں وہ بھی ان کے راستے پر چلنے میں کمزوری محسوس کرتے ہیں۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جنہوں نے حق کے لیے اپنی جان دی، وہی آج سب سے زیادہ مظلوم ہیں! وہ علیؑ جو ظالموں کے خلاف شمشیر بکف تھے، آج ان کے نام پر ظالم حکومتیں قائم ہیں۔ وہ علیؑ جو یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھتے تھے، آج ان کے ماننے والے اپنے ہی یتیم بھائیوں سے بے خبر ہیں۔
علیؑ آج بھی تنہا ہیں، نہج البلاغہ آج بھی اجنبی ہے۔ دنیا نے نہ کل علیؑ کو سمجھا، نہ آج سمجھ رہی ہے۔ شاید قیامت تک علیؑ اور ان کے الفاظ صرف چند اہلِ دل کے لیے رہیں گے، باقی دنیا اپنی راہ پر بھٹکتی رہے گی۔
آپ کا تبصرہ