حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجتالاسلام والمسلمین اکبر صبر آمیز نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ایک حدیث کی روشنی میں ان 6 گروہوں کا ذکر کیا ہے جن کے لیے جنت میں داخلے کی قطعی ضمانت بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے اعمال کی قدر و قیمت میں نیت کی بنیادی اہمیت پر زور دیا۔
حجتالاسلام صبر آمیز نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حدیث معتبر کتاب «من لا یحضره الفقیه» (شیخ صدوق) میں نقل ہوئی ہے، جس میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “میں 6 گروہوں کے لیے جنت کا ضامن ہوں”۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خالص نیت کے ساتھ کسی نیک عمل کی طرف بڑھنا، چاہے وہ عمل مکمل نہ ہو سکے، انسان کو عظیم اجر کا مستحق بنا دیتا ہے۔
انہوں نے ان 6 گروہوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
اوّل، وہ شخص جو صدقہ دینے کی نیت سے گھر سے نکلے اور راستے میں وفات پا جائے۔
دوم، وہ جو مریض کی عیادت کے لیے جائے مگر منزل تک پہنچنے سے پہلے اس کی موت واقع ہو جائے۔
سوم، وہ جو راہِ خدا میں جہاد (چاہے نفسانی، فکری یا عملی) کی نیت سے نکلے اور راستے میں جان دے دے۔
چہارم، بیتاللہ الحرام کی زیارت کے لیے روانہ ہونے والا حاجی جو راستے میں وفات پا جائے۔
پنجم، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے نکلنے والا مومن جو راستے میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
ششم، وہ شخص جو کسی مومن کے جنازے میں شرکت کے لیے جائے اور اسی حال میں وفات پا جائے۔
استادِ حوزہ علمیہ نے کہا کہ ان تمام اعمال کا مشترک نکتہ خالص نیت ہے۔ اسلام کے نزدیک اصل قدر نیت کی ہے، اور اگر نیت خدائی ہو تو راستہ خود منزل بن جاتا ہے اور انسان قربِ الٰہی حاصل کر لیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ