حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین رضا برنجکار نے مرحوم آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپایگانی کے کلامی افکار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس مرجعِ فقید کی تصانیف کے دائرۂ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مرحوم آیت اللہ صافی گلپایگانی نے تقریباً ایک سو علمی آثار تحریر کیے جن میں سے لگ بھگ نصف آثار کی نوعیت کلامی ہے، تاہم ان کی فقاہت اور سماجی و سیاسی موجودگی کے باعث ان کا یہ کلامی پہلو کم نمایاں ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا: آیت اللہ صافی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے سے لے کر اپنی عمر کے آخری برسوں تک مسلسل علمِ کلام کے میدان میں علمی کام کیا اور ان میں سے بہت سے آثار کی نظرِ ثانی اور تجدیدِ اشاعت بھی کی۔ ان کی کتابوں کا ایک قابلِ ذکر حصہ عوام کے اعتقادی سوالات سے متعلق ہے اور یا تو سوال و جواب کی صورت میں مرتب ہوا ہے یا پھر معاشرے کے حقیقی مسائل کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین برنجکار نے آیت اللہ صافی کے استدلالی منہج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ اپنی تنقیدات میں عقل اور نقل دونوں سے استفادہ کرتے تھے اور ان کے آثار میں عقل اور وحی کا متوازن تعامل واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ قرآنِ کریم، روایات اور نہج البلاغہ سے استناد کے ساتھ عقلی استدلال ان کے کلامی منہج کی نمایاں خصوصیت ہے۔
انہوں نے دینی متون سے عقلی دلائل کے استخراج پر زور دیتے ہوئے مزید کہا: مرحوم آیت اللہ صافی نے نہج البلاغہ میں موجود بہت سے عقلی معارف کی نشاندہی اور توضیح کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ کتاب و سنت کے معارف محض نقلی نہیں بلکہ گہری عقلی بنیادیں رکھتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ