اتوار 25 جنوری 2026 - 19:11
عالمِ اسلام کے بہت سے موجودہ مسائل کا واحد حل "اتحاد و و حدت" میں ہے

حوزہ / ایران کے علماء کرام جو " ملائیشیا میں وحدت امت اسلامی اور فلسطین" کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، نے ملائیشیا کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق، مولوی اسحاق مدنی صدرِ اعلیٰ کونسلِ مجمع نے حج کے عظیم اجتماع کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کی بڑی علامت قرار دیتے ہوئے امتِ اسلامی کے ہمہ جہت اتحاد کے تحقق کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا: عالمِ اسلام میں وسیع صلاحیتوں اور امکانات کے باوجود مکمل اتحاد کا فقدان امتِ اسلامی کے ستونوں کو کمزور کرنے اور مسلمانوں کی صفوں میں دشمنوں کے نفوذ کا سبب بنتا ہے۔ عالمِ اسلام کے بہت سے موجودہ مسائل کا واحد حل "اتحاد و و حدت" ہے۔

مجمعِ جہانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ نے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے اس فرمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کے تحت مجمعِ جہانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی قائم کیا گیا، کہا: یہ اقدام اسلامی اتحاد کے تحقق کی راہ میں ایک بڑا قدم تھا اور اس سفر کا مقصد مسلم معاشروں میں اتحاد کی ضرورت پر مزید زور دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ایسے حالات میں جب غیر ملکی ذرائع ابلاغ مسلسل مذاہب اسلامی کے درمیان تفرقہ اور نفاق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عالمِ اسلام کے علما اور ممتاز افراد کی ذمہ داری مزید سنگین ہو گئی ہے اور غیروں کو امتِ اسلامی پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

اہلِ سنت کے عالم دین شیخ خلیل افرا نے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی اسی (80) سے زیادہ آیات میں اہلِ ایمان کو "خدا کی رسی" کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کی دعوت دی ہے۔

انہوں نے کہا: مسلمان دینی مناسبتوں جیسے یومیہ نمازیں، نمازِ جمعہ، اسلامی اعیاد اور حج کے مراسم میں ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوتے ہیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے امتِ اسلامی کی عزت اور سربلندی کی دعا کرتے ہیں۔

شیخ خلیل افرا نے جمہوریہ اسلامی ایران میں ہفتۂ وحدت کے انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان تقریبات میں پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے علماء تہران میں جمع ہوتے ہیں اور عالمِ اسلام کے مسائل پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن زمانی رکنِ ہیئتِ امنائے جامعۂ اسلامی نے عالمِ اسلام کی عظیم صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دو ارب سے زائد مسلمانوں کی موجودگی اور وسیع انسانی اور قدرتی وسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امتِ اسلامی اگر حقیقی معنوں میں متحد ہو جائے تو آج کی دنیا میں اس سے کہیں بلند مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha