پیر 16 فروری 2026 - 22:44
مجاہد اسلام 

حوزہ/ آیہ اللہ العظمی رہبر معظم سید علی حسینی خامنہ ای دامت برکاتہ ایک مجاہد ہیں جو وقت کے فرعون سے موسی جیسے نبردآزما ہیں ظلم و استبداد کے مقابلے میں کوہ ہمالیہ جیسے استقامت و استوار ہیں ان کی شخصیت ہر ظالم و جابر حکومت کے خلاف ڈٹ کر لڑنے کا ہمیں پیغام دیتی ہے۔

تحریر: مولانا ڈاکٹر ذوالفقار حسین

حوزہ نیوز ایجنسی | آیہ اللہ العظمی رہبر معظم سید علی حسینی خامنہ ای دامت برکاتہ ایک مجاہد ہیں جو وقت کے فرعون سے موسی جیسے نبردآزما ہیں ظلم و استبداد کے مقابلے میں کوہ ہمالیہ جیسے استقامت و استوار ہیں ان کی شخصیت ہر ظالم و جابر حکومت کے خلاف ڈٹ کر لڑنے کا ہمیں پیغام دیتی ہے وہ کربلا والوں کو اپنا رہنما مانتے ہیں اور شہادت ہی کو سعادت سمجھتے ہیں وہ امام حسین علیہ السلام کی طرح وقت کے یزید کے سامنے نہیں جھکیں گے ۔ اسلام کی تضحیک و تذلیل نہیں ہونے دیں گے شرپسند عناصر کو خاک میں ملا کر رکھ دیں گے ایسے مجاہد تزویرکے سر چشموں سے برسرپیکار ہیں اسلام کے مضبوط و مستحکم قلعہ کی دل وجان سے حفاظت کر رہے ہیں جبکہ دشمنان اسلام ، اسلام کے مضبوط قلعہ کی دیواریں پھاند کر چپکے چپکے نگہبانوں سے بچتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اثر و نفوذ پیدا کرکے جھوٹ اور کینہ توزی کے کھولتے ہوئے پانی سے اسلام کی جڑیں سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے دشمنوں سے ہاتھ ملائے بیٹھے ہیں صد آفرین ہے ایسے مجاہد پر جو لائق تحسین ہیں جن کی پاکیزہ زندگی سے ظلم و تشدد کے بھی پیشانی پر پسینے آجاتے ہیں وہ قید و بند کی ہر صعوبتوں کو گلے لگا کر اسلام کے پرچم کو سربلند کرنے کی انتھک کوششیں کرتے ہیں ان کے حوصلوں کو ہر مجاہد سلام کرتا ہے ان کے ارادوں میں کمزوری کا شائبہ بھی نہیں ہوتا ان کی پیش قدمی میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی وہ ہر محاذ پر ظلم و ستم کا پوری طاقت سے مقابلہ کرتے ہیں ان کے ثبات قدم میں کبھی لغزش نہیں ہوتی وہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ، اب چاہے وہ دشمن امریکہ کی شکل میں ہو یا اسرائیل کی ، دنیائے غرور کو زانو پر لانے کی قوت رکھتے ہیں وہ ایمان کی دولت سے ایسے آراستہ ہوتے ہیں کہ دنیا ان کے ایمان سے گھبرا جاتی ہے وہ جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں ان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا راز یہی کوشش ، جہاد ، ثبات قدم ہے " يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ ..."

ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قولِ ثابت کی بنیاد پر دُنیا اور آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے...( سورۂ ابراہیم ، 27) ان کی نصرت کے لئے خدا ہی کافی ہوتا ہے اور جب یہ خدائی طاقت سے سرشار ہوتے ہیں تو ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا { إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ } ( سورۂ آل عمران ، 160)

اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے { وَجَٰهِدُواْ فِي ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦۚ هُوَ ٱجۡتَبَىٰكُمۡ ... } ( سورۂ حج، 78)

اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تمہیں اپنے کام کےلیے چُن لیا ہے وہ مجاہد ایسا ہے جو حقائق کو فطرت ، عقل و شعور اور ماحول کے ترازو میں تول کر کوئی فیصلہ کرتا ہے اس کو اپنے پروردگار پر پورا بھروسہ ہے اور وہی اس کی مدد کرنے کرنے کے لئے کافی ہے، { وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ فِينَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ } (سورۂ عنکبوت ، 69)

جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اللہ حسن عمل والوں کے ساتھ ہے ۔

اور پروردگار عالم کیوں نہ اس کے ساتھ ہو جس نے کربلا کے راستے کو اپنا مشعل راہ بنا لیا ہو جو ظالم نظام کے سامنے نہیں جھکتا جس کی آواز میں "هیهات منا الذله" ہو وہ کبھی ذلت سے سمجھوتا نہیں کرسکتا کل حسین ابن علی علیہما السلام بھی یزیدیت کے سامنے نہیں جھکے اور آج حسینی بھی ، حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نہیں جھکیں گے کل فرعون کے سامنے موسی علیہ السلام نہیں جھکے اور اپنے پروردگار کی امداد کے منتظر تھے اور اللہ نے ان کی نصرت فرمائی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ پروردگار ان کے ساتھ ہے { قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ } ( سورۂ شعراء ، 62)

موسیٰؑ نے کہا”ہر گز نہیں۔ میرے ساتھ میرا ربّ ہے۔ وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔“

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha

تبصرے

  • Aleena rizvi IN 14:32 - 2026/02/18
    Wazeergunj Faizabad Madarsa Nurul islam