حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی کریمی جہرمی نے ایران کے صوبہ فارس کے علماء، مبلغین اور تبلیغی گروہوں کے سربراہان کے ایک وفد سے ملاقات میں فعال اور خدمت گزار حوزوی شخصیات سے ملاقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: «مبلغ» اور «تبلیغ» جیسے عناوین دینی مفاہیم میں نہایت مقدس ہیں کیونکہ رمضان المبارک، محرم اور صفر جیسے مختلف مذہبی ایام میں علما اور مبلغین الٰہی تعلیمات کی تبیین کے لیے مختلف شہروں اور دیہات کا سفر کرتے ہیں اور لوگوں کو معارفِ الٰہی سے آشنا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ایک مبلغ کی سب سے اہم اور اعلیٰ ترین جذبہ الٰہی رسالت کی ادائیگی اور خدا کے پیغامات بندگانِ خدا تک پہنچانا ہونا چاہیے، نہ کہ خدانخواستہ شہرت کی خواہش یا خود نمائی۔
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے سورۂ احزاب کی آیت ۳۹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: «الَّذینَ یُبَلِّغُونَ رِسالاتِ اللَّهِ وَ یَخْشَوْنَهُ وَ لا یَخْشَوْنَ أَحَداً إِلاَّ اللَّهَ وَ کَفی بِاللَّهِ حَسیباً» خوفِ خدا اور نیت کی خالص نگرانی ہی دینی تبلیغ کا حقیقی جوہر ہے اور ہر مبلغ کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داری خدا کے سامنے محسوس کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا: علمائے اخلاق کے نزدیک تبلیغ کا مقصد صرف خوش بیانی نہیں بلکہ مبلغ کی اصلاح اور تزکیۂ نفس، آراستہ اندازِ بیان سے مقدم ہے۔ خدا کا پیغام صرف منبر اور لاؤڈ اسپیکر سے نہیں بلکہ عمل، اخلاق اور بندگانِ خدا کے احترام کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ لوگ محض الفاظ یا مسلسل گفتگو سے نہیں بلکہ ہمارے عمل، اخلاق اور اخلاص کو دیکھ کر درست راستہ پاتے ہیں۔
آیت اللہ کریمی جہرمی نے مبلغین پر زور دیا کہ قرآنِ مجید کی آیات میں گہری توجہ کے ساتھ اور اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات بیان کرتے ہوئے خصوصا نہج البلاغہ سے استناد کے ساتھ، ہدایت اور مکالمے کے اسلوب کو اپنی عملی زندگی کا محور بنائیں۔
انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے اس ارشاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: «فَلَمَّا رَأَی اللَّهُ صِدْقَنَا أَنْزَلَ بِعَدُوِّنَا الْکَبْتَ وَ أَنْزَلَ عَلَیْنَا النَّصْر» یعنی اگر نیت خالص ہو اور اخلاص محقق ہو جائے تو لطفِ الٰہی و نصرت یقیناً مبلغ کے ساتھ ہوگی۔









آپ کا تبصرہ