پیر 23 فروری 2026 - 05:45
روزہ انسان کو دنیاوی وابستگیوں سے دور کر کے قربِ الٰہی عطا کرتا ہے، مولانا منظور علی نقوی

حوزہ/ ماہِ مبارک رمضان کے موقع پر منعقدہ “رمضان اسپیشل درسِ نہج البلاغہ — آغازِ سفر” آن لائن پروگرام میں مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے خطاب کرتے ہوئے قربِ الٰہی، دعا کی اہمیت اور دنیا کی عارضی حقیقت پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو نہج البلاغہ کی تعلیمات اپنانے کی تلقین کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان کی مناسبت سے “رمضان اسپیشل درسِ نہج البلاغہ کے عنوان سے ایک آن لائن پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے قربِ الٰہی، دعا کی قبولیت، دنیا کی حقیقت اور نہج البلاغہ کی تعلیمات پر مفصل روشنی ڈالی۔

اپنے خطاب کے آغاز میں مولانا نے قرآنِ کریم کی آیت “وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ” کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان بندے اور خدا کے درمیان قربت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور رحمتِ الٰہی کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ انہوں نے حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رمضان کی پہلی رات سے آخری رات تک اللہ کی رحمت نازل ہوتی رہتی ہے، لہٰذا مؤمنین کو چاہیے کہ وہ دعا، عبادت اور خود احتسابی پر خصوصی توجہ دیں۔

مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے نہج البلاغہ کے نامہ 68 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے دنیا کو سانپ سے تشبیہ دی ہے جو چھونے میں نرم مگر زہر میں مہلک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ظاہری چمک دمک انسان کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے، لیکن اس کی حقیقت عارضی اور فانی ہے۔ انسان کو دنیا کی پسندیدہ چیزوں میں حد سے زیادہ دل نہیں لگانا چاہیے، کیونکہ یہ اشیا دائمی نہیں اور ان سے جدائی یقینی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہج البلاغہ انسان کو زہد، بصیرت اور توازنِ حیات کا درس دیتی ہے، اور رمضان کا مہینہ ان تعلیمات پر عمل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق روزہ انسان کو دنیاوی وابستگیوں سے دور کر کے روحانی پاکیزگی اور قربِ خداوندی کی طرف لے جاتا ہے۔

خطاب کے دوران مولانا نے سلمان فارسی کی عظیم شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے ایسا بلند روحانی مقام حاصل کیا کہ رسول اکرمؐ نے انہیں “منا اہل البیت” قرار دیا۔ انہوں نے جنگ خندق کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سلمان فارسیؒ کی بصیرت اور حکمتِ عملی اسلامی تاریخ میں روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان، اخلاص اور معرفت انسان کو بلند مقام عطا کرتے ہیں۔

مولانا نے کہا کہ جب انسان دنیا کی آسائشوں پر مطمئن ہو جاتا ہے تو دنیا اچانک اسے آزمائشوں میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے مؤمن کو چاہیے کہ وہ دنیا سے محتاط اور آخرت سے وابستہ رہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ رمضان المبارک میں نہج البلاغہ کا باقاعدہ مطالعہ کریں، دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اخلاقی و روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔

پروگرام کے منتظمین کے مطابق “آغازِ سفر” آن لائن سلسلہ پورے ماہِ رمضان جاری رہے گا، جس میں روزانہ درسِ نہج البلاغہ، تفسیرِ آیات، سیرتِ اہلِ بیتؑ اور تربیتی نشستیں شامل ہوں گی۔ پروگرام کا مقصد خصوصاً نوجوان نسل میں دینی شعور، اخلاقی بیداری اور روحانی ارتقا کو فروغ دینا ہے۔

اپنے اختتامی کلمات میں مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے کہا کہ رمضان تبدیلی، توبہ اور ہدایت کا مہینہ ہے۔ اگر انسان نہج البلاغہ کے پیغامات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو رمضان کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کرنے اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha