تحریر: مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی
حوزہ نیوز ایجنسی | اسلامی تعلیمات میں دعا کو عبادت کی روح اور بندگی کا جوہر قرار دیا گیا ہے۔ دعا انسان کے فقر اور خدا کی غنائے مطلق کا عملی اظہار ہے۔ قرآن کریم میں دعا کو قبولیت کا وعدہ دیا گیا اور اسے تکبر کے مقابل بندگی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
اہل بیت علیہم السلام نے دعا کے ذریعے معارفِ توحید، اخلاقی تربیت اور عرفانی سلوک کے بلند ترین نکات سکھائے۔ انہی نورانی دعاؤں میں سے ایک عظیم دعا، دعائے ابو حمزہ ثمالی ہے، جو امام علی بن الحسین علیہما السلام سے منقول ہے اور ماہِ مبارک رمضان کی سحر گاہوں میں پڑھی جاتی ہے۔
یہ دعا محض حاجات طلب کرنے کا متن نہیں بلکہ ایک جامع تربیتی اور معرفتی نصاب ہے۔اس مقالے میں دعائے ابو حمزہ کا اعتقادی، عرفانی اور تربیتی زاویوں سے علمی مطالعہ پیش کیا جائے گا۔
تعارف اور سند
دعائے ابو حمزہ کے راوی ابو حمزہ ثمالی (ثابت بن دینار) ہیں، جو ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے جلیل القدر اصحاب میں شمار ہوتے ہیں۔ روایات میں انہیں زہد و تقویٰ کے لحاظ سے "سلمانِ عصر" اور بعض کلمات میں "لقمانِ زمان" قرار دیا گیا ہے۔
یہ دعا معتبر کتب میں نقل ہوئی ہے، جن میں سے شیخ طوسی نےمصباح المتهجد ، سید ابن طاؤس نے اقبال الاعمال ، کفعمی نے البلد الامین ،علامہ مجلسی نے بحار الانوار اور شیخ عباس قمی مفاتیح الجنان میں نقل کیا ہے۔سند کے اعتبار سے یہ دعا معتبر اور مفہوم کے لحاظ سے قرآن و سنت عمیق معارف سے ہم آہنگ ہے۔
توحید اور خدا شناسی
دعائے ابو حمزہ کا بنیادی محور توحید ہے۔ بندہ اپنی عاجزی اور خدا کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے اس دعا میں خداوند متعال کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا» : إِلَهِي ! لا تُؤَدِّبْنِي بِعُقُوبَتِكَ، وَ لا تَمْكُرْ بِي فِي حِيلَتِكَ، مِنْ أَيْنَ لِيَ الْخَيْرُ يَا رَبِّ وَ لا يُوجَدُ إِلّا مِنْ عِنْدِكَ، وَ مِنْ أَيْنَ لِيَ النَّجَاةُ وَ لا تُسْتَطَاعُ إِلّا بِكَ، لا الَّذِي أَحْسَنَ اسْتَغْنَى عَنْ عَوْنِكَ وَ رَحْمَتِكَ، وَ لا الَّذِي أَسَاءَ وَ اجْتَرَأَ عَلَيْكَ وَ لَمْ يُرْضِكَ خَرَجَ عَنْ قُدْرَتِكَ « اے میرے ﷲ! مجھے اپنے عذاب میں گرفتار نہ کر اور مجھے اپنی قدرت کے ساتھ نہ آزما مجھے کہاں سے بھلائی حاصل ہوسکتی ہے اے پالنے والے جب کہ وہ تیرے سوا کہیں موجود نہیں جس سے نجات مل سکے گی جبکہ اس پر تیرے سوا کسی کو قدرت نہیں نہ ہی کو ئی نیکی کرنے میں تیری مدد اور رحمت سے بے نیاز ہے اور نہ ہی کوئی برائی کرنے والا تیرے سامنے جرأت کرنیوالا اور تیری رضا جوئی نہ کرنیوالا تیرے قبضہ قدرت اور قابو سے باہر ہے ۔
"إِلَهِي لَا تُؤَدِّبْنِي بِعُقُوبَتِكَ" یہ فقرہ انسان کی عاجزی اور خوفِ خدا کی عکاسی کرتا ہے۔ انسان اعتراف کرتا ہے کہ وہ سزا کا مستحق ہے، مگر اللہ سے رحمت کا طلبگار ہے۔یہاں تین نکات واضح ہوتے ہیں: گناہ کا اقرار، عدلِ الٰہی کا اعتراف اور رحمت کی التجا۔
"مِنْ أَيْنَ لِيَ الْخَيْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِكَ" یہ جملہ توحیدِ افعالی کی اعلیٰ تعبیر ہے۔ انسان تسلیم کرتا ہے کہ ہر خیر کا سرچشمہ اللہ ہے۔ خداوند عالم بھی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: "مَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ" انسان کی ہر نعمت، ہر کامیابی اور ہر نجات خدا کی طرف سے ہے۔
توبہ اور استغفار
دعائے ابو حمزہ کا ایک بنیادی پہلو توبہ ہے۔ بندہ اپنے گناہوں کا کھلے الفاظ میں اعتراف کرتا ہے اور رحمتِ الٰہی کی امید رکھتا ہے۔ یہ دعا انسان کو مایوسی سے نکال کر امید کا چراغ روشن کرتی ہے۔یہی روحِ توبہ ہے: اعتراف + ندامت + رجوع۔
امام سجاد علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: خدایا ! ہمیں ہماری گناہوں کی وجہ سے سزا نہ دے اور ہم پر عذاب نہ کر! ہمیں ہمارے مکر و فریب ، ہماری بے ادبی اور برے برتاو کی وجہ سے اپنی حمایت اور اپنی تدبیروں سے دور نہ کر ! کیوں کہ کوئی بھی اپنے مقصد کو نہیں پہنچتا ہے مگر تیری عنایت سے، کوئی بھی نجات نہیں پایا ہے مگر تیری رحمت کے زیر سایہ اور کوئی بھی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکا ہے مگر تیری عنایتوں کے زیر سایہ ۔
خوف و رجاء کا توازن
اسلامی تربیت کا ایک بنیادی اصول خوف اور امید کا توازن ہے۔ دعائے ابو حمزہ میں بندہ اللہ کے عذاب سے خوف بھی رکھتا ہے اور اس کی رحمت سے امید بھی۔ یہ توازن انسان کو نہ غرور میں مبتلا ہونے دیتا ہے اور نہ مایوسی میں۔
حضرت امام سجاد علیہ السلام اس دعا کے بعد کے فقروں فرماتے ہیں "اللَّهُمَّ إِنِّي أَجِدُ سُبُلَ الْمَطَالِبِ إِلَيْكَ مُشْرَعَةً، وَ مَنَاهِلَ الرَّجَاءِ إِلَيْكَ [لَدَيْكَ] مُتْرَعَةً، وَ الاسْتِعَانَةَ بِفَضْلِكَ لِمَنْ أَمَّلَكَ مُبَاحَةً، وَ أَبْوَابَ الدُّعَاءِ إِلَيْكَ لِلصَّارِخِينَ مَفْتُوحَةً " اے معبود ! میں اپنے مقاصد کی راہیں تیری طرف کھلی ہوئی پاتا ہوں اور امیدوں کے چشمے تیرے ہاں بھرے پڑے ہیں ہر امید وار کے لئے تیرے فضل سے مدد چاہنا آزاد و روا ہے اور فریاد کرنے والوں کی دعائوں کیلئے تیرے دروازے کھلے ہیں ۔
موت، قبر اور قیامت
دعائے ابو حمزہ ثمالی کا ایک نہایت مؤثر اور بیدارکن پہلو موت، قبر اور قیامت کی یاد دہانی ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام انسان کو غفلت سے نکال کر انجامِ کار کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ انداز محض خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اصلاحِ نفس اور بیداریِ قلب کے لیے ہے۔
دعا میں بارہا اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ انسان دنیا کی مشغولیات میں ایسا محو ہو جاتا ہے کہ موت کو بھول بیٹھتا ہے، حالانکہ قرآن کریم واضح اعلان کرتا ہے: " كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ " ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ امامؑ کا اسلوب یہ ہے کہ وہ بندے کو خود احتسابی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ موت اچانک آتی ہے، مہلت نہیں دیتی، اور انسان کو اس کے اعمال کے ساتھ تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں "وَ أَنَّ الرَّاحِلَ إِلَيْكَ قَرِيبُ الْمَسَافَةِ، وَ أَنَّكَ لا تَحْتَجِبُ عَنْ خَلْقِكَ إِلّا أَنْ تَحْجُبَهُمُ الْأَعْمَالُ [الْآمَالُ ] دُونَكَ" ؛ تیری طرف آنے والے کی منزل قریب ہے اور تو اپنی مخلوق سے اوجھل نہیں ہے مگر ان کے برے اعمال نے ہی انہیں تجھ سے دور کر رکھا ہے "
دعائے ابو حمزہ میں قبر کی وحشت اور تنہائی کا نہایت دلگداز بیان ملتا ہے۔ انسان جو دنیا میں دوستوں، خاندان اور مال و اسباب کے درمیان رہتا ہے، اچانک ایسی جگہ منتقل ہو جاتا ہے جہاں نہ کوئی مونس ہوتا ہے اور نہ کوئی مددگار، نہ کوئی ظاہری سہارا ہوتا ہے، نہ آل و اولاد ،صرف وہاں انسان کے اعمال ساتھ ہوتے ہیں جن کو وہ لیکر اس قبر میں آیا ہے۔ یہ تصور انسان کے غرور کو توڑتا اور اسے عاجزی کی طرف مائل کرتا ہے۔
قیامت کا تصور بھی دعا میں خوف و خشیت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ انسان میدانِ حشر میں اپنے اعمال کے ساتھ حاضر ہوگا۔ قرآن میں ارشاد ہے:" يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ " جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد سوائے اس کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر آئے ۔دعائے ابو حمزہ میں بارہا اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اصل کامیابی قلبِ سلیم کے ساتھ خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔
شفاعت اور مقام اہل بیتؑ
دعائے ابو حمزہ میں بندہ اپنی کمزوری اور گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ کی رحمت اور اولیائے الٰہی کی شفاعت کی امید رکھتا ہے۔ شفاعت کا تصور قرآن و سنت دونوں میں موجود ہے، لیکن اس کی بنیاد ایمان، توبہ اور اصلاح پر ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کا مقام قرآن کریم کی آیات سے ثابت ہے، جن میں آیتِ تطہیر نمایاں ہے: " إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " دعائے ابو حمزہ دراصل اہل بیتؑ کی تربیت کا مظہر ہے۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی خطاؤں کا اعتراف کریں ، رحمتِ الٰہی سے مایوس نہ ہوں اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی رہنمائی اختیار کریں۔
عرفانی نکات
دعائے ابو حمزہ کو عرفانی ادب کا شاہکار کہا جا سکتا ہے۔ اس میں بندہ خود کو فقیر اور محتاج دیکھتا ہے،خدا کو مطلق غنی اور رحیم سمجھتا ہے اور اپنے وجود کو سراسر احتیاج قرار دیتا ہے ، امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں " وَالْفَقِیْرُ الَّذِیْ ٲَغْنَیْتَہٗ " میں وہ محتاج ہوں جسے تو نے غنی بنایا۔یہ فقرہ عرفانی ادب میں انتہائی بلند مقام رکھتا ہے۔ اس جہاں میں جو کچھ بھی ہے وہ سب کا سب خداوند متعال کی ذات لایزال کا صدقہ ہے ، قدرت مطلق فقط اس کی ذات ہے کوئی اسے عاجز و ناتوان نہیں کرسکتا جبکہ وہ جسے چاہے امیر اور جسے چاہے فقیر بنادے "يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ " اے لوگو ! تم خدا کے نیازمند اور وہ تم سے بے نیاز و غنی ہے۔
انسان حتیٰ کہ اپنی ظاہری خوشحالی میں بھی محتاج ہے، تو فقر و تنگدستی میں کس قدر محتاج ہوگا! یہی احساس، عبودیت کی روح ہے۔اسی لیے معروف ہے کہ عرفانِ حقیقی، خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر ہے۔
تربیتی و اخلاقی اثرات
دعائے ابوحمزہ ثمالی محض چند الفاظ یا روایتی مناجات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک جامع روحانی و عملی تربیتی نصاب ہے جو انسان کی باطنی اصلاح، فکری بیداری اور اخلاقی تزکیہ کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس دعا کے عملی اثرات کو درج ذیل نکات میں واضح طور پر بیان کیا جا سکتا ہے:
1. محاسبۂ نفس اور خود احتسابی: یہ دعا انسان کو اپنے باطن کا جائزہ لینے اور اعمال کی جانچ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں " وَٲَرٰی نَفْسِیْ تُخَادِعُنِیْ، وَٲَیَّامِیْ تُخَاتِلُنِیْ" میں دیکھتا ہوں کہ نفس مجھے دھوکہ دیتا ہے اور حالات مجھے فریب دیتے ہیں۔ یہ جملہ انسان کو غفلت سے بیدار کرکے مسلسل احتسابِ ذات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
2. تواضع اور انکساری کی پرورش: اس دعا کے مضامین انسان کے دل سے غرور اور خود پسندی کو ختم کرکے عاجزی، خشوع اور بندگی کا شعور پیدا کرتے ہیں، جس سے شخصیت میں توازن اور وقار پیدا ہوتا ہے۔
3. امید اور مثبت طرزِ فکر: اگرچہ دعا میں گناہوں کا اعتراف ہے، لیکن اس کے ساتھ خدا کی رحمت پر کامل اعتماد بھی ہے۔ یوں بندہ مایوسی کا شکار نہیں ہوتا بلکہ امید اور رجاء کے ساتھ اصلاح کی راہ اختیار کرتا ہے۔
4. عبادت میں روحانی لذت: خصوصاً ماہِ رمضان کی سحریوں میں اس دعا کی تلاوت عبادت میں خشوع و خضوع اور قلبی کیفیت پیدا کرتی ہے، جس سے بندگی محض رسمی عمل نہیں رہتی بلکہ روحانی تجربہ بن جاتی ہے۔
5. اخلاقی و معاشرتی اصلاح: دعائے ابوحمزہ فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرتی کردار کی تعمیر بھی کرتی ہے۔ جب انسان اپنے نفس کی اصلاح کرتا ہے تو اس کے اثرات اس کے اخلاق، معاملات اور سماجی روابط میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔
اس طرح دعائے ابوحمزہ ثمالی ایک ہمہ جہت تربیتی مکتب ہے جو انسان کو خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر طے کرنے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
نتیجہ
دعائے ابوحمزہ ثمالی اسلامی اخلاق و تربیت کا ایک جامع مکتب ہے، جو فرد کی باطنی تعمیر اور معاشرتی کردار سازی دونوں میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ دعا انسان کو مایوسی سے نکال کر امید کی طرف، غرور سے نکال کر عاجزی کی طرف، اور غفلت سے نکال کر بیداری کی طرف لے جاتی ہے۔
اس کے مضامین عصرِ حاضر میں بھی اسی قدر مؤثر اور رہنما ہیں جتنے ابتدائی اسلامی دور میں تھے۔ اگر اس دعا کو فہم و تدبر کے ساتھ اپنایا جائے تو یہ فرد کی روحانی بالیدگی، اخلاقی اصلاح اور اجتماعی ذمہ داری کے شعور کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
یوں دعائے ابوحمزہ ثمالی نہ صرف ماہِ رمضان کی سحریوں کی مناجات ہے بلکہ ایک ہمہ گیر تربیتی دستور ہے، جو انسان کو خود شناسی سے خدا شناسی تک کے سفر میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
11:36 - 2026/02/24









آپ کا تبصرہ