منگل 24 فروری 2026 - 03:53
ایپسٹن فائلز: مغربی مادی اخلاقیات کے زوال اور الٰہی بیانیے کی سچائی

حوزہ/ ایپسٹن فائلز اسکینڈل نے مغربی سیاسی و اشرافی نظام کے انسانی حقوق، جمہوریت اور اخلاقی قیادت کے دعوؤں کو سخت سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ انکشافات محض ایک فوجداری معاملہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے ڈھانچے، مغربی منافقت، اور اخلاقی سیاست کے بیانیے کے درمیان جاری نظریاتی کشمکش کو نمایاں کر رہے ہیں، جس نے امریکہ اور مغربی بلاک کی ساکھ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی | ایپسٹن فائلز کا اسکینڈل اب محض چند افراد کی لغزش یا ایک اخلاقی بدعنوانی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی طاقت، اخلاقیات اور سیاست کے دعووں کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ یہ انکشافات اس پورے مغربی سیاسی و اشرافی نظام کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں جو برسوں سے انسانی حقوق، جمہوریت اور اخلاقی قیادت کے بلند بانگ دعوے کرتا آیا ہے۔ آج انہی دعوؤں کے پیچھے چھپے دوہرے معیار، منافقت اور تہذیبی کھوکھلاپن بے نقاب ہو رہا ہے۔

ایپسٹن فائلز نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسئلہ محض چند افراد کا نہیں، بلکہ یہ پورے عالمی استعماری نظام کی اخلاقی باختگی اور نفسانی بے راہ روی کے لئے ہر ہتھکنڈے کے جواز کا اظہار ہے۔ مغربی بلاک، امریکہ اور صیہونی حکومت کے نام نہاد انسانی حقوق کے بیانیے، خواتین اور بچوں کے تحفظ کے دعوے اب خود اپنی سچائی کھو بیٹھے ہیں۔ جن اقدار کو مغرب نے دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی، وہی اقدار آج ان کے اپنے ہاتھوں بے توقیر ہو رہی ہیں۔

یہ حقیقت کوئی نئی نہیں۔ رہبر کبیر امام خمینی رح نے دہائیوں پہلے امریکہ و یورپ کے دوغلے اور منافقانہ کردار کو بے نقاب کیا تھا۔ اسی طرح شہید قائد علامہ عارف حسین حسینی نے امت کو امریکہ و یورپ کے فکری و سیاسی تسلط سے آزاد ہونے کا درس دیا، مگر اُس وقت بہت سے لوگوں کو یہ باتیں مبالغہ آمیز لگتی تھیں۔ آج وہی حقائق ایپسٹن فائلز جیسے انکشافات کے ذریعے دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔

برصغیر کے عظیم مفکر علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے بھی مغربی استعمار کے دوہرے کردار کو سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو فکری خودمختاری اور تہذیبی آزادی کا سبق دیا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لبرل اور کمیونسٹ ذہن رکھنے والے حلقے مشرق و مغرب کی اندھی تقلید کو ہی ترقی کا معیار سمجھ بیٹھے۔ ان کے نزدیک اسلام بطور نظامِ حیات اور تہذیبی برتری ایک ناقابلِ قبول تصور رہا۔

ایپسٹن فائلز نے اس فکری اندھے پن کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ مغرب کے حقوقِ بشر، خواتین اور بچوں کے حقوق کے نام پر کیے جانے والے دعوے اب محض ڈرامہ دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اسکینڈل اس بات کی علامت بن چکا ہے کہ عالمی نظام کو ایسے طاقتور مگر اخلاقی طور پر کھوکھلے عناصر نے جکڑ رکھا ہے جو اپنے مفادات اور حیوانی جذبات کی تسکین کے لیے مسلمہ انسانی اقدارکو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

یہاں معاملہ صرف اخلاقی بدعنوانی کا نہیں، بلکہ نظریات کی جنگ کا ہے۔ ایک طرف شیطانی مفادات کا نظام ہے، جو طاقت، سرمایہ اور سازش کے بل پر دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

اور دوسری طرف وہ الٰہی و اخلاقی بیانیہ ہے جو تقویٰ، انسان دوستی اور عدل پر مبنی ہے۔ رہبرِ انقلاب، مراجعِ تشیع اور مزاحمتی قیادت جس “اخلاقی سیاست” کا تصور پیش کرتی ہے، وہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک متبادل ماڈل ہے جو عالمی سیاست میں ایک نیا رخ متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایپسٹن فائلز نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ عالمی طاقت کے مراکز اخلاقی اعتبار سے شدید کمزور ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں عام انسان، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مغربی منافقت کو پہچاننے لگا ہے۔ فطرتاً عامۃ الناس پاکیزہ اور حق کے متلاشی ہوتے ہیں، اسی لیے وہ بالآخر حق کی طرف مائل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ بحران ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ عالمی سطح پر جاری جنگ صرف عسکری یا معاشی نہیں، بلکہ یہ خیر و شر، حق و باطل، اور اخلاقی و شیطانی نظاموں کے درمیان نظریاتی جنگ ہے۔ قرآنی وعدے کے مطابق بالآخر صالح اور الٰہی نظام کو ہی غلبہ حاصل ہونا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حق کے متلاشی ہونے کے دعویدار محض تماشائی نہ بنیں، بلکہ حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔

ایپسٹن فائلز کا اسکینڈل تاریخ میں ایک موڑ ثابت ہو سکتا ہے—ایسا موڑ جہاں مغربی تہذیب کے کھوکھلے دعوے ٹوٹتے نظر آتے ہیں اور دنیا ایک ایسے متبادل اخلاقی و نظریاتی نظام کی طرف متوجہ ہو رہی ہے جو انسانیت، عدل اور الٰہی اصولوں پر مبنی ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha