ہفتہ 11 اپریل 2026 - 16:12
صدائے ابابیل: تختِ رے

حوزہ/قرآنی اسلوب میں دنیا دو گروہوں میں تقسیم کی گئی ایک وہ جو خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی کثرت یعنی کوثر کے وارث اور نمائندے قرار پائے اور دوسرے طالب دنیا جو مال دنیا کی ہوس میں اہل تکاثر کہلائے گئے یعنی مال دنیا جمع کرنے والے حریص اور لالچی لوگ!!

تحریر: محترمہ معصومہ شیرازی

حوزہ نیوز ایجنسی| قرآنی اسلوب میں دنیا دو گروہوں میں تقسیم کی گئی ایک وہ جو خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی کثرت یعنی کوثر کے وارث اور نمائندے قرار پائے اور دوسرے طالب دنیا جو مال دنیا کی ہوس میں اہل تکاثر کہلائے گئے یعنی مال دنیا جمع کرنے والے حریص اور لالچی لوگ!!

تاریخ نسیان میں مبتلا نہیں ہوتی نہ فرعون کی نخوت بھولتی ہے اور نہ موسیٰ کی شجاعت نہ ابرہہ کی نیت(کہ جس میں معاشی طاقت کو مکہ سے نکال کر عیسائیت کی طرف لے جانا مقصود تھا) اور نہ ہی عبد المطلب کی استقامت اور توکل!! تاریخ مباہلہ میں نصاری کی خیانت (کہ رسالت ال اسحاق سے ال اسماعیل میں آنے پر ان سے مال دنیا اور وجاہت ظاہری چھن جائے گی) کو بھی یاد رکھتی ہے اور مصطفی کی صداقت کی گواہ بھی بنتی ہے۔ یہ تاریخ ہی ہے جو پچھلی عبرتوں کو من و عن بیان کر کے آنے والوں کو ابدی حقائق سے باخبر کرتی رہتی ہے۔

تاریخ نہ مال دنیا اور تخت دنیا پر نظر رکھے ہوئے اس عمر سعد سے صرف نظر کرتی ہے جو فقط رے یعنی ایران کے تخت کے لیے دنیا کے قیمتی ترین انسان کو تہہ تیغ کرنے کے لیے تیار تھا۔ تاریخ یہ بھی نہیں بھولی کہ جب زیر خنجر کوثر کے نمائندے نے خبر دی کہ اے عمر سعد تو جس لالچ میں تلوار سونتے کھڑا ہے خدا تمہیں اس رے کی گندم تک کھانا نصیب نہیں کرے گا۔

پاک لہو میں ڈوبی تلوار لیے دنیا کا یہ بدبخت ترین کردار رے کے تخت کے خواب دیکھتے دیکھتے ذلتوں کی وادیوں میں اتر گیا آج پھر تاریخ اسی مقام پر کھڑی ہے اور وہی منظر دوبارہ دنیا کے سامنے ہے۔ مورخ گواہی دے رہا ہے کہ اس شہر رے نے کل بھی ظالم ہوس پرست کو اپنی سرزمین سے روٹی کا ایک ٹکڑا تک میسر نہ کیا اور آج بھی زمانے کا عمر سعد (ٹرمپ) ایک بار پھر اسی سر سبز قیمتی اور حسین سرزمین پر اپنی شیطانی نظریں گاڑے کھڑا ہے۔ اس کی حریص انکھوں میں تکبر کی سرخی ہے اور ہاتھوں میں بارود کے الاؤ!! اور اس کی فرعونی تلوار اسی سلسلے کے ایک اور کردار کے لہو سے اپنی ذلت کی داستان لکھ چکی ہے۔

تاریخ کی مسکراتی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے 1400 سال پہلے فیصلہ ہو چکا کہ یہ شہر رے کسی ظالم غارتگر کو روٹی کا ایک ٹکڑا تک دینے پر امادہ نہیں ہوگا۔۔یہ فیصلہ تاریخی حقیقت نہیں، بلکہ خدائی بیانیہ ہے کہ ہمیشہ اہل کوثر اہل تکاثر پر فتح پاتے رہیں گے، کیونکہ کوثر کے ہاں لہو مقصد کی طاقت کو بڑھاتا اور نعمتوں کو خیر میں تبدیل کرتا رہتا ہے اور خیر کبھی نہیں مرتا!! کبھی نہیں جھکتا!!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha