تحریر: محترمہ معصومہ شیرازی
حوزہ نیوز ایجنسی| آج دنیا نے عالم عیسائیت کے پوپ لیو کا بے گناہ ایرانی مسلمانوں کے قتل اور غارت کے خلاف احتجاج سنا؛ میں ٹرمپ سے نہیں ڈرتا جنگ اور قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا۔ عین اسی لمحے تاریخ کا ایک الم انگیز مکالمہ سماعت سے ٹکرایا دل بار ندامت سے ہول اٹھا اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
ایک دل خراش تذکرہ جہاں علی زین العابدین علیہ السّلام رندھے گلے کے ساتھ دلگیر لہجے میں کہہ رہے تھے کہ کوفہ و شام کے کڑے اور المناک مصائب اپنی جگہ مگر جس مصیبت نے جگر پارہ پارہ کیا وہ لوگوں کی بے حس اور خاموشی تھی، امت ذلت بھری زندگی جیتی رہی اور توحید پرست پامال جسموں کے ساتھ بارگاہ عشق میں حاضر ہو گئے۔ آج پھر مؤرخ سر جھکائے اسی المیہ پر دوبارہ قلم اٹھا رہا ہے جہاں آج بھی امت خاموش تماشائی بنی خیانت کا نیا باب لکھ رہی ہے۔۔ ظالموں کے تیر و تفنگ کی امین بن کر فرعونی تکبر کی ہمنوائی میں خاموش تماشائی ہے۔
ڈاکٹر علی لاریجانی اپنے تاریخی خط میں نام نہاد امت کو مخاطب کر کے اس صدی کا مرثیہ لکھ کر رخصت ہوا؛ بے شک اس سرخرو شہید کے تذکرے کے ساتھ تاریخ اس عظیم بیانیے کو اپنے سینے میں محفوظ رکھے گی اور زمانے اس تلخ سچائی پر اور حق کی تنہائی پر گریہ کناں رہیں گے۔
مقام شکر ہے کہ ملت پاکستان ان مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز احتجاج بلند کر رہی ہے۔شہدائے حق کو سلام پیش کر رہی ہے جس کے جواب میں یہ مظلوم ملت پاکستان کے لیے تشکر تشکر کے نعرے بلند کر رہی ہے یہ نعرے بھی تاریخ نے قلم بند کر لیے ہیں۔
عالم ِ عیسائیت تک اس ظلم پر تڑپ اٹھا اور مسلمان اپنی روایتی بے حسی میں ظالمین کے سہولت کار رہے۔ کل تاریخ انہیں مجرموں کی صف میں کھڑا کرے گی۔اس المیہ پر مجھے ایک عبرت انگیز مکالمہ یاد آ رہا ہے جہاں ایک شخص امام زین العابدین کے سامنے عرقِ ندامت سے آب آب ہو کر کہہ رہا تھا کہ بے شک میں نے ایک تنکا تک آل رسول کی طرف نہیں پھینکا مگر جرم یہ کہ میں سپاہِ یزید میں موجود تھا کیا میرا گناہ قابل معافی ہے ؟؟ فرزند رسول نے اداس نظروں سے اسے دیکھا اور رندھے ہوئے گلے کے ساتھ گویا ہوئے کہ جب کوفہ کی جانب سے گرد اڑاتے ،خنجر لہراتے، چنگھاڑتے، یزیدی خزانے پر رالیں ٹپکاتے ہوئے گروہوں کے گروہ اپنے سروں کی خوفناک سیاہی کے ساتھ لشکر یزید کی طرف بڑھ رہے تھے تو ان کے سروں کی سیاہی نبی زادیوں کے دل ہولا رہی تھی۔۔ تمہارے سر کی سیاہی بھی ان میں شامل تھی یہ کہہ کر فرزند رسول نے سر جھکا لیا اور آنکھوں سے اشک جاری ہوئے۔
کربلا تاریخ کی سب سے بڑی عبرت ہے جہاں عیسائی آبادیوں نے فوجِ شام کے خلاف احتجاج کیے اور کئی مقامات پر کوفہ و شام کے راستے میں شامی فوجوں سے مقابلہ کیا رسول زادیوں کو چادریں پیش کی گئیں یہاں تک کہ ایک دیر کے راہب نے اپنے کلیسا کا سارا خزانہ دے کر سرِ حسین کو فقط ایک رات کے لیے مستعار لے کر غسل دیا، تکریم کی ،روتا رہا اور پھر اسکی زندگی میں ایسی صبح طلوع ہوئی جہاں وہ ایمان کی روشنی سے اپنا دل منور کر چکا تھا اور ہزاروں دینار کے یزیدی انعام کے لالچ میں حریص مسلمانوں کو (اب بھی یہی المیہ جاری ہے)رو رو کر احساس دلاتا رہا کہ یہ تمہارے رسول کی اولاد ہے تم کس قدر بدبخت اور شقی ہو..! کہ مال دنیا کے بدلے میں غضب الٰہی خرید رہے ہو۔
تاریخ پھر کروٹ بدل کر ایک اور منظر کی طرف متوجہ کرتی ہے یہ دربار یزید ہے جہاں یزید ابن معاویہ آبِ کوثر سے دھلی لہو لہان جبینِ حسین کو طشت میں رکھ کر اپنی عارضی فتح کا جشن منا رہا ہے دوسرے ملکوں کے سفراء بھی مدعو کیے گئے ہیں یہاں تک کہ ایک نصرانی سفیر جو روم کی سلطنت کی نمائندگی کر رہا ہے حیران کن لہجے میں گویا ہوتا ہے۔۔ کیا واقعی یہ سر تمہارے نبی کے فرزند کا ہے؟؟ یزید اس سوال پر تلملاتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہیں اس سر سے کیا مطلب تم ہمارے ساتھ فتح کا جشن منانے کے لیے شریک ہوئے ہو دادِ عیش دو اور رخصت ہو جاؤ۔
جواب میں عیسائی سفیر وضاحت کرتا ہے کہ میں واپس جا کر بادشاہ تک فتح کی تفصیلات پہنچانے کا پابند ہوں۔۔۔! ہاں یہ فرزندِ فاطمہ بنت محمد ص کا سر ہے یہ کہنا تھا کہ سفیر روتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا رخساروں پر ہاتھ مارےاور کہا وائے ہو تم پر !! میرے اور حضرت داؤد کے درمیان کئی سو نسلوں کا فاصلہ ہے مگر تمام نصرانی میرے قدموں کی خاک اٹھا کر بطور تبرک اپنے پاس رکھتے ہیں کیا تم نے گرجا حافر کی داستان سنی ہے؟؟ عمان اور چین کے درمیان ایک دریا ہے جہاں ایک شہر آباد ہے جو عیسائیت کے قبضے میں ہے اس گرجا گھر میں سونے کے ایک برتن میں حضرت عیسیٰ کے گدھے کا سُم موجود ہے۔ ہر سال عیسائی اس کی زیارت کو آتے ہیں اور اس شہر میں ننگے پاؤں داخل ہوتے ہیں گریہ و زاری کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔۔ یزید نے اس المیہ کی نزاکت محسوس کر کے اس سفیر کے قتل کا حکم جاری کیا عیسائی سفیر نے تڑپ کر کہا کہ اے یزید کل رات تیرے ہاں میں نے تیرے پیغمبر کو خواب میں دیکھا جنہوں نے مجھے بشارت دی کہ اے عیسائی بے شک تو اہل بہشت میں سے ہے میں نے خواب میں ہی تمہارے نبی کا کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا سفیر آگے بڑھا سرِ حسین کو بوسہ دیا اور پھر اس سفیر کو قتل کر دیا گیا اسی لمحے بریدہ سر سے آواز بلند ہوئی لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں امریکی عوام کو ایک خط لکھا ہے جس میں عوامی عیسائیوں کو اپنے احوال سے مطلع کیا ہے یہ خط پڑھنے کے لائق ہے مسعود کہتے ہیں کہ تم اپنی ٹویٹ کی پوسٹ شیئر کرنے کے عادی ہو اور ہم ملٹری پوسٹوں پر اپنے لہو سے اپنی تاریخ لکھ رہے ہیں بے گناہ سرخ لہو کی طاقت جان لو کہ یہ لہو ہمیشہ تاریخ میں فاتح رہتا ہے ایک فکر انگیز خط ہے جو عیسائیوں کی تعلیمات کے مطابق ان کے ضمیر جھنجوڑنے کے لیے کافی ہے۔
میرے نزدیک یہ دو خط اس پوری جنگ کا وہ بیانیہ ہیں جسے صدیوں تک جھٹلایا نہ جا سکے گا اور دنیا داری کے نشے میں لڑکھڑاتے ڈگمگاتے تخت نشین نام نہاد مسلمان حشر کے دن آقا سے منہ چھپاتے پھریں گے۔









آپ کا تبصرہ