بدھ 22 اپریل 2026 - 21:30
صدائے ابابیل: ایرانی شاہ راہوں پر اترتے فرشتے

حوزہ/ایک ایرانی دانشور کہتے ہیں کہ جس طرح خدا نے غزوۂ بدر میں فرشتوں کو بھیج کر فرزندانِ توحید کی مدد فرمائی اسی طرح ایران کی سڑکوں پر بھی خدائی فرشتوں نے حزب خدا کی کمر مضبوط کی۔ گویا یہ خدائی فرشتے تھے جو آسمان سے خدا کی طرف سے بطور مدد نازل ہوئے یعنی امت کو خدا نے صفت ملکوتی عطا کر دی جنہوں نے ایک انوکھا انسانی حماسہ ترتیب دیا اور اخلاقی و تہذیبی میدان میں دشمن کا سر نیچا کر دیا۔

تحریر: محترمہ سیدہ معصومہ شیرازی

حوزہ نیوز ایجنسی| بے شک قرآن انسانی سماج کے لیے ایک مکمل آئین اور زندگی کا ایک منافع بخش ایجنڈا ہے جسے ہم نے ایک مذہبی کتاب قرار دے کر رنگ برنگے جزدانوں میں لپیٹ دیا اور ذہنوں میں مخاطبِ قرآن بننے کی بجائے قاری قرآن بننے کی دھن سوار کر لی۔ مولوی صاحبان نے تجوید کا علم اپنی تحویل میں لیا اور قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنا اس کا مقصد اعلیٰ قرار دے دیا اور اس کتاب زندگی کو (جو مولوی اور مدرسے کی کتاب نہیں، بلکہ ہر انسان کی اپنی ذاتی کتاب تھی) کتابِ استخارہ اور کتابِ فال بنا دیا۔

یہ پورا ایک آئین زندگی تھا جو باکمال ،مضبوط اور ناقابلِ شکست انسان کو تعمیر کرنے آیا تھا اور انسان کو نائبِ الٰہی بننے کا ہنر سکھانا چاہتا تھا۔ انسان کو توحیدی فکر میں ڈھال کر دنیا کی طنابیں اس کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا۔

اس لیے یاد رکھنا چاہیے کہ عقیدہ توحید صرف زبان کا اظہار نہیں، بلکہ ایک عملی عقیدہ ہے جس کا حقیقی منظر دنیا کی ماڈل ریاست مدینہ میں ہوا جہاں پہلی منزل انقلاب، یعنی منقلب قلوب کے ساتھ آمادگی۔

دوسری منزل نظام، یعنی آئین الٰہی کا مکمل ڈھانچہ ترتیب دیا گیا۔

تیسری منزل حکومت، یعنی اس نظام کا اجراء

اور چوتھی منزل معاشرہ سازی تھا۔

ان منازل کے بعد ایک توحیدی امت وجود میں آئی جو قرآن کے حقیقی منشور کی نمائندہ بنی۔جہاں دینے والے بہت تھے مانگنے والا کوئی نہیں تھا جہاں سماجی عدل، معاشرتی اخلاق، اخوت، بھائی چارہ، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کی محافظت گویا معراج انسانیت کا پورا منظر روشن ہوا۔

حالیہ دنوں میں ایرانی عوام کے استقلال، بہادری اور قوت ارادی کے معجزے دیکھ کر مدینہ بہت یاد آیا۔ یہ عظیم الشان مزاحمت اسی نظام کا تحفہ ہے جو نظام قرآنی آئین کے تحت برپا کیا گیا۔

ایران میں بھی پہلے امام خمینی نے موروثی بادشاہت کے خلاف آواز بلند کر کے دلوں کو منقلب کیا اس میں کامیابی کے بعد قرآنی نظام اور آئین کو لاگو کر کے ایک حکومت کو قیام دیا؛ پھر اس حکومت کے زیرِ اثر معاشرہ سازی کی گئی، سماج کو ان خطوط میں ڈھال کر ایک توحیدی امت کا وجود عمل میں لایا گیا۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے 34 سالہ دورِ رہبری میں دو چیزیں اس امت کے لیے ایک عظیم اسلحہ کی صورت میں کامیابی کا نشان بن کے ابھریں؛ جن کی طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتی ہوں:

شہید امام خامنہ ای نے اپنے دور میں قرآن کو معاشرے کی رگوں میں اتارا، حفاظ قرآن کی ایسی تکریم کی کہ جس طرح ہمارے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کو اعزازات دیئے جاتے ہیں۔ وہاں پر حفاظ قرآن کے لیے ایسے شاندار اعزازات مقرر کیے کہ جس سے پورے گھر کی کفالت ہو سکتی ہے خود آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای ہفتے میں دو مرتبہ قرآنی اجتماعات میں شریک ہوتے اور قرآنی مفاہیم کو بیان فرماتے۔ اس طرح الٰہی قانون اور آئین جو تمام مسلمان قوموں کے ہاں معطل ہے ایران میں جاری کیا گیا جس سے ایک امت توحیدی وجود میں آئی جو اس وقت بھی زمینی خداؤں سے ٹکرانے کے لیے امادہ و تیار ہے۔

اس کے علاوہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے دور میں مساجد کو اس طرح سے آباد کر دیا گیا کہ اگر آپ ایران کی مساجد کو دیکھیں تو وہ مولوی کا گھر نہیں، بلکہ خدا کا گھر معلوم ہوتی ہیں وہ گھر جو تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہے سب کا سانجھا اشیانہ ہے جہاں روحیں سکھ کی لمبی سانسیں لیتی ہیں، جو سب کی مشترکہ پناہ گاہ اور جائے سکون ہے؛ جہاں پر بچوں کے لیے ٹک شاپس ،کھیلنے کی جگہ، چھوٹے بچوں کے لیے نگہداشت کے کمرے موجود ہوتے ہیں۔ نماز کے وقت تمام لوگ گھروں کو چھوڑ کر مسجدوں کی طرف دوڑتے ہیں جس کی وجہ سے نماز کے وقت مسجدیں آباد اور گھر خالی ہو جاتے ہیں۔

نمازِ باجماعت کا فلسفہ بھی بہت شاندار ہے؛ شریعت میں گھر میں پڑھی ہوئی تنہائی کی نماز سے 70 گنا زیادہ ثواب نماز باجماعت کا ہے، گویا وہاں انسان کندھے سے کندھا ملا کر اللہ کے حضور قیام کرتا ہے اور رکوع میں جا کر اپنا سر خدا کے ہاں پیش کرتا ہے یہ اجتماعی قیام اور اجتماعی قول و قرار عشق خدا کے میدانوں میں اترے ہوئے انسانوں کے لیے بہترین تربیت ہے۔ جسے ایرانی معاشرے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے سماجی مصروفیت بنا دیا گیا۔

ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ بچوں اور عورتوں کا مسجد میں داخلہ مشکل ہے۔ مولوی صاحبان یہ کہہ کر کہ بچے مسجد کو گندا کریں گے، شور مچائیں گے اور عورتیں اپنے گھروں میں ہی نمازیں پڑھیں مساجد کو جنہیں خود رسول اللہ نے مرد و زن کے لیے کمیونٹی سینٹر کی حیثیت دی اسے فقط مردوں کی عبادت گاہ بنا دیا گیا۔

قوم کو اس عاشقانہ تجربے سے محروم کر دیا گیا جہاں محبوب آواز دیتا ہے آؤ فلاح کی طرف اور عاشق دوڑتے قدموں کے ساتھ اس جائے پناہ کی طرف دوڑتے ہیں جہاں محبوب ان پر نظر کرم کرنے کے لیے بے قرار ہے۔

ایرانی معاشرے میں مساجد میں مسلسل خدا کے حضور قیام کے اس عملی اظہار نے ان کو ایسی حرارت دے دی ہے کہ پچھلی 40 روزہ جنگ میں ان تمام لوگوں نے سڑکوں اور شاہراہوں پر چوبیس گھنٹے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے مذاکرات کاروں کو ،جنگ میں لڑتے ہوئے جیداروں کے حوصلوں کو اتنی طاقت عطا کر دی کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کو ان کے ارادوں کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک ایرانی دانشور کہتے ہیں کہ جس طرح خدا نے غزوۂ بدر میں فرشتوں کو بھیج کر فرزندانِ توحید کی مدد فرمائی اسی طرح ایران کی سڑکوں پر بھی خدائی فرشتوں نے حزب خدا کی کمر مضبوط کی۔ گویا یہ خدائی فرشتے تھے جو آسمان سے خدا کی طرف سے بطور مدد نازل ہوئے یعنی امت کو خدا نے صفت ملکوتی عطا کر دی جنہوں نے ایک انوکھا انسانی حماسہ ترتیب دیا اور اخلاقی و تہذیبی میدان میں دشمن کا سر نیچا کر دیا۔

کاش ہم بھی کم از کم اپنے گھروں میں انقلاب لا کر ایک الٰہی آئین ترتیب دیں(جس میں افراد خانہ کی پسند و ناپسند نہیں، بلکہ خدائی پسند ناپسند کا نظام موجود ہو) اور پھر اسے نظامِ حکومت کی صورت اس گھر پر لاگو کریں جس میں نمازِ باجماعت اور قرآن کا منافع بخش معیار زندگی ہماری تقدیر بدل دے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha