حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام دارالعلوم ندوۃ العلماء کے علامہ حیدر حسن خان ٹونکی ہال میں منعقدہ دو روزہ “تفہیمِ شریعت” ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی، جس میں علماء، دانشوروں، ماہرینِ قانون اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ورکشاپ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ دور میں اسلام اور مسلمانوں کے خاندانی و سماجی نظام کے تعلق سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو حکمت، مثبت اندازِ گفتگو اور عملی نمونہ پیش کرکے دور کرنے کی ضرورت ہے۔

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے بورڈ کے صدر مولوی خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ آج میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ دین کی صحیح تعلیمات کو آسان اور مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح کے لیے خاندانی استحکام، باہمی احترام، انصاف اور اخلاقی قدروں کا فروغ ناگزیر ہے۔
ورکشاپ میں مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی تعلیمات کو صرف کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کنوینر ورکشاپ مولوی سید بلال عبدالحی حسنی ندوی نے کہا کہ مساجد، تعلیمی ادارے اور سماجی اجتماعات عوامی رہنمائی اور مثبت فکری بیداری کے مؤثر مراکز بن سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ جمعہ کے خطبات اور عوامی نشستوں کے ذریعے انسانیت، عدل، خاندانی استحکام، خواتین کے احترام اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات کو عام کیا جائے۔
مختلف نشستوں میں ماہرینِ قانون نے آئینی حقوق، مذہبی آزادی، خاندانی قوانین اور سماجی انصاف سے متعلق امور پر اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور اخلاقی بحران کا حل مضبوط عائلی نظام، باہمی ذمہ داری اور اخلاقی تربیت میں پوشیدہ ہے۔ اس موقع پر نوجوانوں اور خواتین کے درمیان بیداری پیدا کرنے اور جدید ذرائع ابلاغ کے مثبت استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

ورکشاپ کے دوران سوال و جواب کی متعدد نشستیں بھی ہوئیں، جن میں شرکاء نے سماجی، خاندانی اور قانونی مسائل سے متعلق سوالات کیے۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاشرے میں ہم آہنگی، انصاف، برداشت اور انسان دوستی کے فروغ کے لیے مسلسل علمی و فکری مکالمہ ضروری ہے۔
اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولوی فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ عوام تک صحیح اور مستند معلومات پہنچانے کے لیے منظم اور مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔ آخر میں مولوی حکیم عمار عبدالعلی حسنی ندوی نے جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں فکری رہنمائی اور سماجی اصلاح ایک مشترکہ اجتماعی ذمہ داری بن چکی ہے۔ ورکشاپ کا اختتام دعا پر ہوا۔









آپ کا تبصرہ