حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ/ ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز (AMP) کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی زکوٰۃ کانفرنس منعقد ہوئی۔ افتتاحی اجلاس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا، جس میں علی گڑھ، لکھنؤ، دہلی اور قریبی علاقوں سے 300 سے زائد علماء، پیشہ ور افراد، سماجی رہنما، مہمانانِ گرامی اور طلبہ نے شرکت کی۔
کانفرنس کا مقصد زکوٰۃ کے نظام کو مضبوط بنانا، شفافیت کو فروغ دینا اور زکوٰۃ کو تعلیم، خود کفالت اور پسماندہ طبقات کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے پر غور و فکر کرنا تھا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولوی محمد فضل الرحیم مجددی مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ کا بنیادی مقصد معاشرے میں انصاف اور استحکام قائم کرنا ہے اور اجتماعی و منظم زکوٰۃ نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلامی اسکالر مولوی اشہد جمال ندوی نے مقاصدِ شریعت (عدل، وقار اور دولت کی گردش) پر خطاب کرتے ہوئے زکوٰۃ کے قرآنی فریم ورک کی وضاحت کی اور کہا کہ زکوٰۃ معاشرے میں توازن اور انصاف کا خدائی نظام ہے۔
ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز کے صدر عامر ادریسی نے AMP کی گزشتہ 18 سالہ خدمات اور IndiaZakat پلیٹ فارم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایک شفاف، قابلِ توسیع اور ٹیکنالوجی پر مبنی زکوٰۃ نظام قائم کرنا ہے جو خاندانوں کو باوقار انداز میں خود مختار بنائے۔
زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر ظفر محمود نے مثالی زکوٰۃ انتظامی فریم ورک پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی سطح پر منظم زکوٰۃ نظام کمیونٹی کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تعلیم کے شعبے میں زکوٰۃ کے استعمال سے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔

ملتِ تشیع کی نمائندگی کرتے ہوئے بزرگ عالمِ دین و خطیب مولانا ظہیر عباس رضوی سینئر نائب صدر، آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ، ممبئی نے زکوٰۃ کے اجتماعی نظام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے استعمال پر سنجیدگی سے غور و فکر ہونا چاہیے تاکہ اسے درست مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور انہیں کچھ نہ کچھ دے دیا جاتا ہے، لیکن اس طرح کا طریقہ کار افراد کو خود کفالت کے بجائے مزید غربت کی طرف دھکیل دیتا ہے، کیونکہ اس سے محنت اور مشقت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ مولانا رضوی نے کہا کہ “روز مچھلی دینے سے بہتر ہے کہ مچھلی پکڑنا سکھایا جائے”، لہٰذا ضروری ہے کہ زکوٰۃ کے تقسیمی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اور خود کفالت پر مبنی نظام پر سنجیدہ غور و فکر کیا جائے تاکہ مستحق افراد مستقل طور پر خود مختار بن سکیں۔
اے ایم پی نیشنل کور ٹیم کے رکن ڈاکٹر عبد الاحد نے IndiaZakat کے اثرات اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی، جبکہ اے ایم پی نیشنل کوآرڈینیشن ٹیم کے سربراہ فاروق صدیقی نے زکوٰۃ کو پیشہ ورانہ تعلیم اور کیریئر سازی کے لیے مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ تقریب کی میزبانی اے ایم پی علی گڑھ چیپٹر کے سربراہ شہزاد حسین نے کی اور کانفرنس کے انعقاد کے لیے مہینوں کی تیاری اور وژن پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کی کامیابی میں ڈاکٹر کوثر کنین، ڈاکٹر ایم سہیل اختر، ڈاکٹر محمد یوسف انصاری، محمد عامر اور متعدد رضاکاروں کا اہم کردار رہا۔

واضح رہے کہ دو روزہ کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ اجتماعی زکوٰۃ نظام کو مضبوط بنایا جائے گا، شفافیت کو فروغ دیا جائے گا اور اجتماعی وسائل کو تعلیم، خود کفالت اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ یہ بین الاقوامی زکوٰۃ کانفرنس،ملک ہندوستان میں ایک منظم، مؤثر اور کمیونٹی پر مبنی زکوٰۃ نظام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔









آپ کا تبصرہ