حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، ایران کے شہر گناوہ کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین سید عبدالہادی رکنی حسینی نے ماہ شوال اور عید سعید فطر کی پیشگی تبریک پیش کرتے ہوئے زکوۃ فطرہ کو اسلام کے اہم مالی و سماجی واجبات میں شمار کیا اور اسے تزکیہ نفس، اموال کی طہارت، ضرورت مندوں کی مدد اور اسلامی معاشرے میں اجتماعی یکجہتی کے فروغ کا سبب قرار دیا۔
انہوں نے قرآن مجید کی سورہ اعلیٰ کی آیت نمبر 14 "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: حقیقی کامیابی واجبات کی ادائیگی اور حقوق الٰہی و انسانی کی پاسداری میں مضمر ہے۔
امام جمعہ گناوہ نے زکوۃ فطرہ کی مقدار اور ادائیگی کے احکام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اس کی مقدار تین کلوگرام کسی بھی غالب غذائی جنس (جیسے گندم، چاول، کھجور یا مکئی) یا اس کے مساوی نقد رقم ہے جسے ہر سال مراجع کرام اور ان کے دفاتر کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: خاندان کا سربراہ اپنی اور زیر کفالت افراد کی زکوۃ فطرہ ادا کرنے کا پابند ہے جبکہ اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات کسی اور کے ہاں مہمان ہو تو اس کی زکوۃ فطرہ میزبان کے ذمے نہیں ہوگی۔ سوائے اس کے کہ وہ مکمل طور پر میزبان کے زیر کفالت ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین رکنی حسینی نے کہا: زکوۃ فطرہ کو (عید پڑھنے والے کے لئے) نماز عید سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص بروقت ادائیگی نہ کرے تو اسے قضا کی نیت سے جلد از جلد ضرورت مندوں تک پہنچانا چاہیے۔
انہوں نے روزے کے کفارات اور چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کے احکام پر بھی گفتگو کی اور سورہ اسراء کی آیت 9 "إِنَّ هَذَا ٱلْقُرْءَانَ یَهْدِی لِلَّتِی هِیَ أَقْوَمُ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: قرآن کریم انسان کی ہدایت کے لیے بہترین رہنما اور دنیا و آخرت کی سعادت کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔
آپ کا تبصرہ