حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات میں ایرانی ٹیلی ویژن صوبہ فارس کے ڈائریکٹر جنرل امیر رئوف نے امریکی میڈیا کارکن کینتھ اوکیف کا استقبال کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایران، صوبہ فارس اور شہر شیراز میں ان کی موجودگی حماسی، بہادر اور ملت ایران کی خصوصیات کو بہتر طور پر سمجھنے کا باعث بنے گی۔
انہوں نے صوبہ فارس کی تہذیبی، تاریخی اور ثقافتی حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس صوبے کو ہخامنشی، ساسانی اور اسلامی تہذیبوں کے ملاپ کی جگہ قرار دیا اور کہا: شیراز اور صوبہ فارس کے عوام نے پوری تاریخ میں، خاص طور پر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد کے سالوں میں، تقریبا ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹی ہیں۔
امیر رئوف نے شہید رہبر انقلاب کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: صوبہ فارس اور شہر شیراز کو دین، حماسہ اور ہنر کے امتزاج میں خصوصی مقام حاصل ہے اور یہ عظیم تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی صلاحیت، میڈیا کارکنوں کی حقیقت کی عکاسی میں ذمہ داری کو دوچند کر دیتی ہے۔
امریکی میڈیا کارکن اور جبهہ مقاومت کے حامی کینتھ اوکیف نے بھی اس ملاقات میں ایرانی ٹیلی ویژن صوبہ فارس کی جانب سے شیراز میں ان کی موجودگی کے دوران مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور کہا: انہوں نے اپنے قیام کے دوران کئی اجتماعات میں بھی شرکت کی اور شیراز کے سماجی اور میڈیا ماحول کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے الہی مذاہب کے درمیان گہرے اشتراکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایک اہم نکتہ جسے دنیا کی عوامی رائے کے لیے مزید واضح کیا جانا چاہیے وہ اسلام میں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا بلند مقام ہے۔ ان کے بقول، یہ موضوع دنیا کے بہت سے لوگوں کے لیے اسلام کی حقیقت کو بہتر طور پر سمجھنے کا ایک روشن دروازہ ہو سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کارکن نے کہا: مسلمانوں کا حضرت مریم سلام اللہ علیہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ احترام اور قرآن کریم میں ان دو مقدس شخصیات کا مقام، ان حقیقتوں میں سے ہے جنہیں عالمی مخاطبین کے لیے واضح اور قابل فہم زبان میں بیان کیا جانا چاہیے کیونکہ بعض دھارے ان حقائق کو تحریف یا مخفی کر مسیحی مقدسات کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کی غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کینتھ اوکیف نے جمہوریہ اسلامی ایران کے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران نے ہمیشہ مذاہب کے پیروکاروں بشمول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں احترام کے ساتھ بات کی ہے لیکن ساتھ ہی کسی مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ احترام اور انتہا پسند، استعماری اور تشدد پرست جریانات پر واضح تنقید کے درمیان فرق کرنا چاہیے۔
اس امریکی میڈیا کارکن نے مزید کہا: غیرملکی مخاطبین تک پیغامات پہنچانے میں ایرانی میڈیا کا کردار انتہائی مثبت رہا ہے۔ تخلیقی طریقوں، قابل فہم زبان اور یہاں تک کہ طنزیہ اور کنایہ دار انداز اور ایرانی لوگو کے استعمال نے ایرانی میڈیا کے بہت سے پیغامات کو مغربی مخاطبین تک پہنچا دیا ہے اور وہ پیچیدہ حالات اور موجودہ بحرانوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
انہوں نے آخر میں امریکہ اور مقبوضہ علاقوں میں انتہا پسندانہ فکری اور مذہبی رجحانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، میڈیا کے ذریعے روشنی ڈالنے، حقائق کی درست تشریح اور عالمی عوامی رائے کے ساتھ گفتگو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔









آپ کا تبصرہ