جمعرات 18 جون 2026 - 01:44
واقعۂ کربلا ہر دور میں حق و باطل کی پہچان اور ظلم کے خلاف قیام کا درس دیتا ہے: خدیجہ زہرا

حوزہ/ جامعہ بنت الہدیٰ دارالقرآن نسواں جونپور کے زیر اہتمام عشرۂ مجالس کی پہلی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ خدیجہ زہرا نے کہا کہ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق، استقامت اور ظلم کے خلاف جدوجہد کا دائمی پیغام ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو اپناتے ہوئے نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جونپور/ جامعہ بنت الہدیٰ دارالقرآن نسواں جونپور کے زیر اہتمام عشرۂ مجالس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جس کی پہلی مجلس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور حدیثِ کساء سے ہوا، جس کی سعادت محترمہ ڈاکٹر عالیہ فاطمہ صاحبہ نے حاصل کی۔ حاضرین نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ تلاوت اور حدیثِ کساء سماعت کی۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ خدیجہ زہرا نے فضائلِ اہلِ بیتؑ، سیرتِ معصومینؑ اور محرم الحرام کے پیغام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک دائمی معرکہ ہے، جو ہر دور کے انسان کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور حق و صداقت پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔

واقعۂ کربلا ہر دور میں حق و باطل کی پہچان اور ظلم کے خلاف قیام کا درس دیتا ہے: خدیجہ زہرا

انہوں نے کہا کہ خواتین نے کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ بالخصوص حضرت زینب کبریٰؑ کی عظیم قربانیوں اور بے مثال استقامت نے ثابت کر دیا کہ باطل کے مقابلے میں حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنی نسلوں کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت میں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو اپنا شعار بنائیں۔

محترمہ خدیجہ زہرا نے ملتِ اسلامیہ کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اتحاد، بیداری اور استقامت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو امام حسینؑ کے پیغامِ حریت اور قربانی سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے دین، عقیدے اور اقدار کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جرات، استقامت اور ملتِ اسلامیہ کے دفاع کے لیے انجام دی گئی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، عزت اور تحفظ کے لیے جدوجہد کی اور کربلائی فکر کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت کے رہنما اپنے عمل اور کردار کے ذریعے قربانی، استقامت اور حق گوئی کا درس دیتے ہیں، جو آج کے دور میں پوری امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مجلس کے اختتام پر شہدائے کربلا کے مصائب بیان کیے گئے، جس پر حاضرینِ مجلس اشک بار ہو گئے۔ بعد ازاں نوحہ خوانی اور عزاداری کا سلسلہ جاری رہا اور عالمِ اسلام کی سلامتی، اتحادِ امت اور مظلومانِ عالم کی نصرت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha