تحریر: حسین حامد
حوزہ نیوز ایجنسی|
آج ہم نے اپنے اشکوں کے ساتھ آپ کے جسد مطہر کو آپ کی ابدی آرام گاہ کے سپرد کیا۔ مگر آپ کی فکر، آپ کا کردار، آپ کا عزم اور آپ کا پیغام کبھی محو نہیں ہوں گے۔
آپ کی پوری زندگی فکر حسینی ؑ، کردار حسینی ؑ، بصیرت حسینی ؑ اور استقامت حسینی ؑکی ایک زندہ تفسیر تھی۔ آپ نے امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ کو اپنا عملی نمونہ بنایا۔ صبر و استقامت اور ایثار و وفا کے ساتھ اپنے اہل و عیال اور اپنے مخلص باوفا رفقا سمیت مسلمانان عالم کی سربلندی، حق کے تحفظ اور امت کی بیداری کے لئے وہ عظیم قربانی پیش کی جسے تاریخ عالم ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ ظلم و استبداد اورجبر و سفاکیت کے طوفان کے سامنے آپ نے کبھی سر تسلیم خم نہیں کیا اور باطل قوتوں کے سامنے ثابت قدمی کی وہ مثال قائم کی جو ہمارے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔ امام عالی مقام حضرت حسین علیہ السلام کی طرح آپ نے نہ ذلت کو قبول کیا نہ استعمار و استکبار کی غلامی کو، بلکہ عزت کی موت کو ترجیح دے کر آزادی اور بندگی خدا کے پرچم کو سربلند رکھا۔
آپ نے اپنے کردار، رفتار اور گفتار سے یہ ثابت کیا کہ کربلا ہر دور میں زندہ رہنے والا ایک الٰہی مکتب ہے۔ آپ نے عصر حاضر کی یزیدی فکر، استکباری قوتوں اور ظلم و جبر کے خلاف حسینی عزم کے ساتھ قیام کیا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ پیغام دیا کہ حق کی راہ میں شہادت ابدی کامیابی اور ہمیشہ رہنے والی حیات کا نام ہے۔
اے شہید رہبر!
آپ پر ہمارا سلام، آپ کی قربانیوں پر ہمارا خراج عقیدت۔
اللہ آپ کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے۔









آپ کا تبصرہ