حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولوی خالد سیف اللہ رحمانی نے اجین کے مسلمانوں، بالخصوص پردہ نشیں خواتین، کی جانب سے شاہی مسجد کے تحفظ کے لیے کیے گئے پُرامن احتجاج اور ان کے حوصلے کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
مولوی خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ روز اجین میں بڑی تعداد میں مسلمان، جن میں پردہ نشیں خواتین بھی شامل تھیں، انتظامیہ اور پولیس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور مسجد کو مکمل طور پر منہدم کرنے کی کوشش کے خلاف مضبوط مزاحمت کی۔ ان کے پُرامن اور جمہوری احتجاج کے نتیجے میں مسجد کی مکمل مسماری کی کوشش بڑی حد تک ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق بعض سرکاری اور حکومت نواز افراد نے مسجد کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر اسے مسجد کے تقریباً تین فٹ حصے کو خود منہدم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ انہیں بتایا گیا کہ اگر یہ حصہ خود نہیں گرایا گیا تو پوری مسجد کو منہدم ہونے سے نہیں بچایا جا سکے گا۔ تاہم وہاں موجود مسلمانوں نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی اور احتجاج کیا۔
مولوی رحمانی کے مطابق، احتجاج ختم کرانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ کئی نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ چاہتی تو مسجد کی مسماری کو روکا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی اجین میں مسلمانوں کی بستی نظام الدین کو مہاکال کوریڈور کے نام پر اجاڑا گیا اور وہاں موجود تکیہ مسجد کو منہدم کر دیا گیا، جبکہ اس سے متصل گنیش کالونی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ ان واقعات سے انتظامیہ کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں
مولوی خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ یہ ایک تشویش ناک رجحان بنتا جا رہا ہے کہ کبھی سڑک کی توسیع اور کبھی کسی دوسرے عذر کی بنیاد پر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں برسوں سے قائم مدارس اور مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ایسے اقدامات میں نہ تو Places of Worship Act, 1991 کی روح اور تقاضوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور نہ ہی وقف املاک کی قانونی حیثیت کا۔
انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اجین کے مسلمانوں، بالخصوص نوجوانوں اور پردہ نشیں خواتین کے عزم، حوصلے اور پُرامن جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر حکومت اور انتظامیہ کی حمایت کرنے والا طبقہ درمیان میں نہ آتا تو ممکن ہے کہ مسجد کا کوئی حصہ بھی منہدم نہ کیا جاتا۔
مولوی رحمانی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ ایسے تمام معاملات میں جذباتی ردِعمل کے بجائے پُرامن، جمہوری، دستوری اور قانونی طریقے اختیار کیے جائیں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں دستیاب تمام ذرائع کا بھرپور استعمال کیا جائے۔










آپ کا تبصرہ