۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
اردو فکشن

حوزہ/قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام'اردو فکشن:عورت کی کہانی عورت کی زبانی'کے زیرِ عنوان آن لائن مذاکرہ

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،دہلی:آج قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام 'اردو فکشن:عورت کی کہانی عورت کی زبانی'موضوع پر ایک آن لائن مذاکرہ کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں اردو فکشن میں خواتین کے کردار اور موجودہ صورت حال پر بھرپورمباحثہ ہوا۔ پروگرام کے شروع میں تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ دنیا بھر کے دوسرے ادب کے مانند اردو ادب میں بھی خواتین کا ایک مضبوط کنٹری بیوشن رہا ہے، اردو ادب کی تاریخ کا کوئی گوشہ اور شعبہ ان کے ذکر و اعتراف کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔انھوں نے کہا کہ اردو فکشن کے موضوعات،مواد ،اس کے عناصر و اجزا کو دائمی تحرُّک اور ترقی عطا کرنے میں خواتین افسانہ نگاروں کااہم کردار رہا ہے۔ڈاکٹر عقیل نے اردو افسانے کے موجودہ منظرنامے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اردو افسانے کے حوالے سے کئی نئے نسوانی نام منظرِعام پر آئے ہیں،جن کے افسانوں کو غور سے پڑھا جارہا ہے اور انھیں قارئین و ناقدین کی خاصی توجہ حاصل ہورہی ہے۔ آج کا یہ مذاکرہ ماضی سے لے کر عصر حاضر تک کی سرگرم خواتین افسانہ نگاروں اور ان سے متعلق مباحث و مسائل پر گفتگو کے لیے خاص کیا گیا ہے ۔
مذاکرے میں حصہ لیتے ہوئے محترمہ ذکیہ مشہدی نے کہا کہ ہر ادیب اور تخلیق کار اپنے گردوپیش کے حالات سے اثر قبول کرتاہے اوراسی کے زیر اثر لکھتا ہے،البتہ عورت ان حالات کو مختلف انداز سے دیکھتی ہے اور اس کا طریقۂ اظہار بھی مختلف ہوتا ہے۔ خصوصاً عورت جب عورت کے بارے میں لکھتی ہے تو وہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کی خواتین فکشن نگاروں کے ہاں موضوعات اور مواد کی بہتات ہے اور وہ عورتوں کے مسائل کے علاوہ دیگر سماجی و سیاسی موضوعات پر بھی لکھ رہی ہیں اور بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔
محترمہ قمرجمالی نے کہا کہ خواتین کی فکری و تخلیقی آزادی کا دور اٹھارویں صدی سے شروع ہوتا ہے جب خواتین نے باقاعدہ اپنے وجود اور تشخص کے اظہار کا اعلان کیا اور اس کے بعد بتدریج سماج کے دیگر شعبوں کے ساتھ ادب میں بھی ان کی مضبوط حصے داری کا سلسلہ شروع ہوا۔ اردو کی خواتین فکشن نگاروں کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'تہذیبِ نسواں' سے شروع ہونے والا خواتین قلم کاروں کا قافلہ مسلسل آگے بڑھتا رہا اور آج وہ بہت اہم مقام پر ہے۔ آج خواتین کے ادب کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،وہ سماج کے دیگر شعبوں میں مردوں کے دوش بدوش چلنے کے ساتھ ادب کے میدان میں بھی ان کے کندھے سے کندھا ملا کر چل رہی ہیں۔
محترمہ رینو بہل نے کہا کہ خواتین کے جذبات و احساسات کی ترجمانی خاتون ادیب و فکشن نگار زیادہ بہتر طریقے سے کرسکتی ہے کیوں کہ وہ ان کے مسائل اور حالات کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی خواتین اچھا لکھ رہی ہیں،کہانی کے کرداروں کو حقیقی انداز میں پیش کر رہی ہیں اور عورتوں کے اصل کیرکٹر کو بلا کسی جھجھک کے اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت پیش کررہی ہیں۔
محترمہ صادقہ نواب سحرنےکہا کہ خواتین افسانہ نگاروں کی ایک پوری تاریخ اور نفسیات ہے۔ انھوں نے نہ صرف عورتوں کے مسائل پر بہت اچھالکھا ہے بلکہ مردوں کی نفسیات کے تعلق سے بھی انھوں نے خوب صورت افسانےلکھے ہیں۔ قلمکار کے طورپر عورت اور مرد میں کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی،ان کی تخلیقات میں بھی وہ تمام اوصاف و خصوصیات پائی جاتی ہیں جو مرد تخلیق کار اور ادیبوں کے یہاں پائی جاتی ہیں۔
محترمہ عذرا نقوی نے اس پروگرام کی نظامت کا فریضہ خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا اور موضوع کے تعلق سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بنیادی طورپر عورتوں کی تخلیق کا مقصد ماضی سے لے کر آج تک اظہارِ ذات رہا ہے، کسی کی مخالفت ان کے پیش نظر نہیں رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کی افسانہ نگاری مختلف مراحل سے گزر کر آج اپنی بلندی پر پہنچ گئی ہے اور آج کی خواتین پہلے سے زیادہ بولڈ ہیں اور وہ ہر قسم کے مسائل پر کھل کر لکھ رہی ہیں۔ ان کے سامنے نہ موضوعات کا بحران ہے اور نہ اظہارِ خیال کی راہ میں انھیں کسی بندش کا سامنا ہے۔
اخیر میں کونسل کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر(اکیڈمک)ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقعے پرکونسل کی جانب سے ڈاکٹر کلیم اللہ(ریسرچ آفیسر)، اجمل سعید(اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)، محمد فیاض، نوشاد منظر، کونسل کے دیگر اسٹاف موجود رہے اور ویب ماسٹر محمد افروز نے ٹیکنکل سپورٹ فراہم کی،جبکہ کونسل کے فیس بک پیج کے ذریعے سیکڑوں اسکالرز اور دانشوران نے اس مذاکرے میں شرکت کی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .