۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
سلمان عابدی

حوزہ/اردو ادب کی خوش قسمتی کہیئے کہ اس وصیت نامے کے منظوم ترجمے کے لیے اور صرف اسی خط کے لیے ہی نہیں بلکہ مکمل نہج البلاغہ کے منظوم ترجمے کے لیے ادیب عصر، محقق دوراں، خطیب بے بدل، دبیر دہر، انیس عصر، فرزدق دوراں شاعر شیریں بیاں، حجۃ الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا سلمان عابدی زید عزہ کی ذات کو صنّاع ازل نے چن لیا ورنہ یہ شعبہ ھل من مبارز کی صدائے بازگشت کو ہی سنتا رہتا۔

حوزہ نیوز ایجنسیl
منظوم ترجمہ:حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سلمان عابدی زید عزہ

امام علیؑ کا امام حسنؑ کے نام خط: یہ اخلاقی اور توحیدی مطالب پر مشتمل خط امیرالمؤمنین(ع) کی طرف سے ہے جسے آپ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں اپنے بیٹے امام حسن مجتبی(ع) کے نام لکھا ہے۔ اس خط میں مذکور اہم نکات: تقوا، دعا، تاریخ کا مطالعہ اور اس سے عبرت لینا اور اپنے زمانے کی پہچان کرنا ہے اور نیز اس میں حکمت آمیز مختصر جملے بھی ہیں۔ نہج البلاغہ کے ترجموں اور شروحات کے علاوہ اس خط کا مستقل ترجمہ بھی بہت ہوا ہے اور ترتیب کے حوالے سے اس خط کا نمبر نہج البلاغہ کے مختلف نسخوں میں مختلف ہے۔

جب امیر المومنینؑ جنگ صفین سے واپس آرہے تھے تو اس وقت یہ خط لکھا گیا ہے۔ لیکن جس جگہ اس خط کو لکھا گیا ہے اس کا نام نہج البلاغہ میں «حاضرین» ذکر ہوا ہے جس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ کسی جگہ کا نام ہے یا جو لوگ حاضر تھے وہ مراد ہیں۔

سید رضی نے اس خط کا مخاطب امام حسن(ع) کو قرار دیا ہے لیکن خط کی بعض عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسنؑ کی عصمت کے ساتھ سازگار نہیں ہے جیسے: «عبد الدنیا» یا «تاجر الغرور»؛ بلکہ امیر المومنینؑ کی عصمت کے شایان شان بھی نہیں ہیں جیسے:«أَوْ أَنْ أُنْقَصَ فِی رَأْیی کمَا نُقِصْتُ فِی جِسْمِی»؛ ابن ابی الحدید کا کہنا ہے کہ یہ جملے شیعوں کے عصمت عقیدۂ کے منافی ہے اور اس عقیدے کو باطل قرار دیتا ہے۔

ابن میثم بحرانی جیسے بعض نہج البلاغہ کے شارحین کا کہنا ہے کہ سید رضی کے نقل کے برخلاف جعفر بن بابویہ سے نقل کے مطابق خط کا مخاطب محمد بن حنفیہ ہیں، بعض اور کا کہنا ہے کہ یہ وصیت نامہ ایک عام دستور العمل اور نصیحت ہے جس میں امام علیؑ نے ایک باپ کی حیثیت سے امام حسن کو ایک بیٹے کی جگہ رکھ کر نصیحت کی ہے اسی لئے وصیت میں ارشاد ہوتا ہے۔ «مِنَ الْوَالِدِ الْفَانِ» «إِلَی الْمَوْلُودِ الْمُؤَمِّلِ مَا لایدْرِک» یہ نہیں کہا ہے «مِنْ علی بن ابی طالب» «الی الحسن بن علی». یا دوسرے لفظوں میں وصیت کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصود باپ اور بیٹے کا رابطہ ہے؛ امام اور اس کے جانشین کا نہیں۔

اس خط کا ترجمہ یوں تو نہج البلاغہ کے ہر مترجم نے کیا ہے لیکن بعض مستقل طور پر بھی اس خط کے ترجمے مختلف زبانوں میں ملتے ہیں۔اور سب سے زیادہ ترجمہ فارسی زبان میں ہوا ہے۔ترجمہ کے علاوہ بہت سارے علماء نے اس خط کی شرح بھی کی ہے جو کہ عربی اور فارسی زبان میں بہت ہیں۔

یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ اچھا محقق اچھا شاعر نہیں ہو سکتا کیونکہ تخلیق اور تحقیق ادب کے دو الگ الگ پیشے ہیں اور ان کے لیے مزاج بھی مختلف چاہئیں تخلیق اور تحقیق کا یہ اختلاف اپنی جگہ بڑی حد تک درست بھی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ صفات  ادیب عصر، محقق دوراں، خطیب بے بدل، دبیر دہر، انیس عصر، فرزدق دوراں شاعر شیریں بیاں، حجۃ الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا سلمان عابدی زید عزہ کی ذات والا صفات میں باہم اپنے تمام تر کمالات کے ساتھ موجود و مشہود ہیں، اردو ادب کی خوش قسمتی کہیئے کہ اس وصیت نامے کے منظوم ترجمے کے لیے اور صرف اسی خط کے لیے ہی نہیں بلکہ مکمل نہج البلاغہ کے منظوم ترجمے کے لیے آپ کی ذات کو صنّاع ازل نے چن لیا ورنہ یہ شعبہ ھل من مبارز کی صدائے بازگشت کو ہی سنتا رہتا۔

نہج البلاغہ؛مکتوب نمبر ۳۱

امام حسن علیہ السلام کے نام وصیت نامہ کی چند جھلکیاں

قسط اول

یہ وصیت اک ایسے باپ کی ہے
جو طریقِ عدم کا راہی ہے

معترف ہے جو رنج دنیا کا
زندگانی ہے جسکی روبہ فنا

جو زمانے کا ہے ستایا ہوا
رنج و غم کا ہے آزمایا ہوا

مرنے والوں میں رہنے والا ہے
کل یہاں سے جو جانے والا ہے

اُس پسر کے لئے جو دنیا میں
ایسی رکھے ہوئے ہے امیدیں

جن کا ملنا ہے ایک امر محال
جن کا بر آنا جان کا ہے وبال

رہرو جادہء عدم ہے جو
تختہ مشق درد و غم ہے جو

جو رہینِ غمِ زمانہ ہے
جو مصائب کا اک نشانہ ہے

موت کا قرض دار اور قیدی
غم کا ناصر ملال کا ساتھی

خواہش نفس کا رہین ہے جو
مرنے والوں کا جانشین ہے جو

میں نے دیکھا کہ تم تو میرا ہی
ایک ٹکڑا ہو اے مرے جانی

بلکہ تم تو مرا سراپا ہو
میرا دل ہو مرا کلیجہ ہو

جس قدر فکر مجھ کو اپنی ہے
اتنی ہی فکر بس تمہاری ہے

اس لئے لکھ دی میں نے یہ تحریر
تاکہ نصرت کی ہو کوئی تدبیر

کوئی امداد بیٹا کر جاوں
پھر میں زندہ رہوں یا مر جاوں

یہ وصیت میں کرتا ہوں بیٹا
رب سے تم اپنے ڈرتے رہنا سدا

اس کے احکام کو بجا لانا
دل کو آباد ذکر سے رکھنا

اس کی رسی سے رہنا وابستہ
دیکھو چھوٹے نہ ریسمان خدا

اس سے محکم نہیں کوئی رشتہ
تیرے اور رب کے درمیاں بیٹا

دین کی سوجھ بوجھ پیدا کرو
سختیاں جھیلنے کے عادی بنو

صرف پروردگار سے مانگو
پورے اخلاص سے سوال کرو

کہ عطا کرنا اور مدد کرنا
اس کے ہی ہاتھ میں ہے رد کرنا

اے مرے لال میں نے دیکھا یہ جب
کہ مری عمر بڑھ چکی ہے اب

دن بہ دن ضعف بڑھ رہا ہے مرا
مضمحل ہورہے ہیں میرے قوی

تو وصیت یہ میں نے لکھ دی بہم
لازمی باتیں اس میں کردیں رقم

کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آجائے
بات دل کی نہ دل سے باہر آئے

یا بدن کی طرح اے ماہ جبیں
رائے میری بھی گھٹ نہ جائے کہیں

دیکھو اک نوجواں کا دل بیٹا
ہوتا ہے خالی اک زمیں جیسا

جس میں جو شئ بھی ڈالی جاتی ہے
اپنے دامن میں ڈھانپ لیتی ہے

بیٹا اتنی تو عمر پائی نہیں
جتنی اگلوں کی عمریں ہوتی تھیں

پھر بھی ان کے عمل میں غور کیا
ان کے اخبار کو پڑھا ، دیکھا

ان کے آثار میں سیاحت کی
گویا ان میں کا ایک ہوں میں بھی

ان کے حالات کا ہے مجھ کو پتہ
ایسا محسوس ہوتا ہے گویا

ان کے اول سے ان کے آخر تک
ان کے نقطے سے ان کے محور تک

زندگی ان کے ساتھ کاٹی ہے
ان کے ہی بیچ عمر گذری ہے

صاف کیا ہے سڑا ہوا کیا ہے
منفعت کیا ہے کیا خسارہ ہے

میں نے ہر امر کو کھنگالا ہے
اس کے خالص کو پھر نکالا ہے

خوبیاں سب نچوڑ لیں میں نے
بے تکی باتیں چھوڑ دیں میں نے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 9 =