۳۰ خرداد ۱۴۰۰ | Jun 20, 2021
کرگل میں لیلۃ القدر کے پر رونق مجالس منعقد

حوزہ/ ملک میں کورونا کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر محکمہ صحت کے طرف سے جاری احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے صرف 50 فیصد مومین کو شبہائے قدر کے مجالس میں شرکت کی اجازت دی گئی اور جمعیت العلماء اثنا عشریہ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر سے گھر بیٹھے لوگوں نے شب ہائے قدر کے اعمال انجام دئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کرگل/ اعمالِ شب ہائے قدر اور شب ہائے ضربت و شہادت مولائے متقیان، امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سلسلے میں جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے زیر اہتمام احاطہ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ کرگل میں 19, 21 اور 23 شب کو پر رونق مجالس کا اہتمام کیا گیا،ملک میں کورونا کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت نے ضلع کے مذہبی تنظیموں کے ساتھ میٹنگ کے بعد ایس او پی جاری کیا تھا جس کے تحت شب ہائے قدر کے مجالس میں سوشل ڈسٹینسنگ یعنی سماجی دوری کا خاص خیال رکھا جائے جس کے بعد جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل نے صرف پچاس فیصد مومنین کو ان مجالس میں شرکت کی اجازت دی اور جمعیت العلماء اثنا عشریہ کے صدر حجتہ الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی نے جمعیت العلماء اثناء عشریہ کے شعبہ نشریات اثناء عشریہ نیٹورک کے مسئولین کو یہ ہدایت دیا کہ شبہائ قدر کے براہ راست نشریات آفیشل YouTube Channel پر گھر بیٹھے مومنین و مومنات تک پہنچانے کیلئے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے جس کے تحت شبہائ قدر کے براہ راست نشریات سے لوگوں نے استفادہ حاصل کیا اور گھر بیٹھے اعمالِ شبہائ قدر کے اعمال انجام دئے۔

تصویری جھلکیاں: کرگل میں لیلۃ القدر کے پر رونق مجالس منعقد 

شب قدر 19 رمضان کریم کو حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ علی نقی مبلغی نے مجلس پڑھی  اور حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ منوری سے اعمالِ شب انجام دئیے، حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ علی نقی مبلغی نے شبہائ قدر کے فضیلت بیان کئے اور ان لوگوں کو خوش نصیب قرار دیا کہ جنہوں نے ایک مرتبہ پھر ان شبہات سے ملاقات کئے، شیخ علی مبلغی نے مجلس میں شریک مومنین پر زور دیا کہ ان شبہائ قدر میں جتنا ہو سکے استغفار کرے اور اپنے گناہوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے طلب معافی کرے اور ملک میں پھیل رہے کورونا وبائی بیماری کے خاتمے کیلئے بھی خصوصی دعائیں کریں اور اپنے والدین کے لئے بھی دعا کریں۔ 

شب شہادت مولائے کائنات،امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پر دلسوز مناسبت پر حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ عبدالرحمان ماجانی نے مجلس سے خطاب کیا اور حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ باقر ناصر الدین نے اعمالِ شب انجام دئے، حجۃ الاسلام شیخ عبدالرحمان ماجانی نے مولا علی علیہ السلام کے مظلومانہ زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے شیعوں کو خوش نصیب قرار دیا کہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہمارا پہلا امام ہے اور ایک مرتبہ پھر صحت و سلامتی کے ساتھ مجلس عزائے امیرالمومنین علیہ السلام میں شرکت کا موقع فراہم ہوا یہ ایک نعمت ہے، حجت الاسلام شیخ عبدالرحمان ماجانی نے مولا علی علیہ السلام کے مظلومیت کے حوالے سے کہا کہ علی علیہ السلام کا حق چھین لیا گیا اور زبردستی معاویہ لعنت اللہ جیسے اشخاص خلیفہ بن بیٹھے جب کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے طرف سے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہی حقیقی خلیفہ تھے، علی علیہ السلام کو 25 سال اپنے ہی گھر میں گوشہ نشینی پر مجبور کیا گیا اور اس دور کے امت علی کو پہچاننے سے قاصر رہے جبکہ امیرالمومنین ہمیشہ فرماتے رہے کہ جو بھی مشکلات ہو مجھ سے پوچھو چونکہ میں زمین سے زیادہ آسمان کے راستوں کو جانتا ہوں لیکن امت علی کو پہچان نہیں پائے کیونکہ اس دور میں لوگوں کو وہ معرفت حاصل نہیں تھی اسی لئے آج ہمارے مراجع عظام اور علمائے اعلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معرفتِ ائمہ معصومین علیہم السلام جب تک نہ ہو کوئی عبادت قابل قبول نہیں لہذا ہمیں چاہئے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے نقش قدم پر چلے ائمہ طاہرین علیہم السلام کے سوانح حیات پر ریسرچ کریں تاکہ آپ ائمہ طاہرین علیہم السلام کو نزدیک سے جان سکے، آج کے اس دور میں ہمیں ہمارے 12 اماموں کے حوالے سے مکمل معلومات ہونا وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس دور میں معصوم اور غیر معصوم کو ایک ہی مقام پر لا کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے دفاع معصومین علیہم السلام ہم سب پر واجب ہے لہذا معصوم اور غیر معصوم میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

شب قدر 23 رمضان المبارک کے موقع پر صدر انجمنِ جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی نے اعمالِ شب قدر انجام دئے جبکہ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ غلام علی مفیدی نے مجلس پڑھی اور مومنین سے خطاب کیا، اپنے خطاب میں شیخ غلام علی مفیدی نے لیلتہ القدر کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق عطا فرمایا کہ ہمیں اس شب سے ایک بار پھر ملاقات ہوئی، ماہ مبارک رمضان کے مہینے میں تین دن کو اللہ تعالیٰ نے لیلتہ القدر کا نام دیا لیکن اگر ہم روایات کا مطالعہ کرے تو جو دو شب ہم سے گزرے ہیں یعنی انیسویں اور اکیسویں شب ان دونوں شب سے آج یعنی تئیسویں شب کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، آج کی شب اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزیز ہے اور روایات ائمہ طاہرین علیہم السلام میں اس کی تاکید اور سفارش بھی ہوئی ہے اور آج کی شب میں ہمیں توفیق ہوا عمل کرنے کی اور امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اسم گرامی اپنے زبانوں پر جاری رکھنے کیلئے آج کی شب تاکید کی گئی ہے، آج کے شب میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہمارے سال گزشتہ انجام دئے گئے اعمال کے نتائج کا فیصلہ کرے گے اور جو گناہ اس گزرے ہوئے سال میں ہم سے ہوئی ہے اس کے لئے توبہ و اِستغفار کے لئے اللہ تعالیٰ سے ہماری شفارش کرینگے، لہذا ہمیں یہ معلوم ہوا کہ روایات کے مطابق آج کی شب کتنی عظیم ترین شب ہے، شیخ غلام علی مفیدی نے لیلتہ قدر کے حوالے سے ائمہ معصومین علیہم السلام کے چند روایات کو نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت رسول مکرم اسلام صل اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ آج کی شب کو ہمیں شب قدر قرار دیا یہ معراج ہے امت مرحومہ کہ خدا کی طرف پرواز کر سکے چونکہ ہم انسان گنہگار ہیں اور ہم گناہ کرتے ہیں تو ہمارے وہ پر کاٹ دئے جاتے ہیں جس کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کے طرف پرواز کرتے ہیں یعنی اس کے بعد اللہ تعالیٰ شب قدر پر ہمیں ہمارے وہ پر پھر واپس کر دیتے ہیں, اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں مخفی رکھا ہے جس میں سے پہلا یہ ہے کہ امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ، اولیاء اللہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے نزدیک سے اس ہر شخص کو ہمارے اسی ماحول آپ کے ارد گرد ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے مخفی رکھا ہمیں ایک دوسرے کو یہ معلوم نہیں کہ کون امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے نزدیک ہیں, دوسرا اللہ تعالیٰ نے ان تمام شب میں سے اس شب کو مخفی رکھا کہ ان تین شب میں سے کون سا شب لیلتہ القدر ہے بعض علماء فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آخری دس شب جو ہے شب قدر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شب قدر کو مخفی رکھا ہے لیکن روایات میں آج کی شب کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، جس کسی کو بھی شب قدر درک ہوگا اللہ تعالیٰ علی علیہ السلام کی محبت اس کے دل میں پیدا گرے گا اور جس کسی کے بھی دل میں آج کی شب علی علیہ السلام کی محبت پیدا ہوجائے وہ مظہر خیر ہے اس پر تمام ملائک سلام بھیجتے ہیں لہذا روایات میں ہے کہ مومن کا دل بیت اللہ سے بھی بہتر ہے۔

شیخ غلام علی مفیدی نے مزید روایات کے طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ماہ مبارک رمضان میں ہمارے سانسوں کو تسبیح اور نیند کو عبادت قرار دیا گیا جبکہ روایات میں ہے کہ زیادہ سونے والوں کے ساتھ نہ بیٹھے کیونکہ زیادہ سونے سے انسان غفلت کا شکار ہوتا ہے اور جب غفلت کا شکار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اطاعت و بندگی اور روایات میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عبادت سے محروم ہو جاتا ہے لیکن جب ہم ماہ مبارک رمضان میں داخل ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس ماہ میں مومن کا سونا عبادت ہے ! کیوں عبادت قرار دیا چونکہ ماہ رمضان میں امیرالمومنین کی محبت آپ کے دلوں میں اللہ تعالیٰ پیدا کرتے ہیں جس بنا پر آپ کا سونا بھی عبادت, سانس لینا تسبیح اور شب قدر تک ملائکہ آپ کے لئے دعا گو رہتی ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی نے اپنے منفرد انداز میں اعمالِ شب قدر انجام دئے، احاطہ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ دعاؤں اور استغفار کے صداؤں سے گونج اٹھی اعمال کے اختتام پر حجۃ الاسلام شیخ ناظر مہدی محمدی نے کورونا عالمی وبائی بیماری کے جلد خاتمے کیلئے خصوصی دعائیں کی اور عالم اسلام میں امن و امان کیلئے، مراجع عظام کے سلامتی کیلئے، اماکن مقدسات اور حوزات علمیہ نجف اشرف، قم مقدس، مشہد مقدس کے لئے اور بالخصوص ملک میں امن و امان کے برقراری اور کورونا سے نجات کیلئے لئے خصوصی دعائیں بھی کی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 10 =