۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان

حوزہ/ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدلمالک بلوچ نے تربت میں عوام الناس سے خطاب میں کہا ہے کہ ایران بارڈر سے مکران اور بلوچستان کے عوام کا کاروبار وابستہ ہے، جس کی بندش کسی صورت قبول نہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدلمالک بلوچ نے تربت میں عوام الناس سے خطاب میں کہا ہے کہ ایران بارڈر سے مکران اور بلوچستان کے عوام کا کاروبار وابستہ ہے، جس کی بندش کسی صورت قبول نہیں۔

تربت میں منعقدہ ایک اجلاس میں مری آباد یونٹ سے خطاب کے دوران سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ ایران بارڈر پر پرچی سسٹم کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس سے عوام پر منفی اثرات رونماء ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے عوام کی قومی پارٹی ہے، مری آباد کا علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

تربت مری آباد سے وڈیرہ علی بخش مری کی قیادت میں متعدد افراد نے مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر نیشنل پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ اجلاس سے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی، سینیٹر میر محمد اکرم دشتی، واجہ ابوالحسن، بوھیر صالح، نثار بزنجو، سیٹھ اعجاز، جاوید یونس، مختار مری، مشکور انور، گہرام مری اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے مری آباد تربت میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران بلوچستان بارڈر پر سکیورٹی فورسز مری بلوچوں کے شناختی کارڈ پر اعتراضات اٹھاتی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔ بلوچ جہاں بھی بلوچستان میں آباد ہیں، وہ وہاں کے مقامی ہیں، لہذا ان پر بے جا اعتراضات کا مقصد انہیں اذیت دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .