۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
افغانستان

حوزہ/ استاد حوزہ علمیہ ہرات نے کہا کہ افغان مختلف سیاسی اور قومی جماعتوں کے رہنماؤں پر ضروری ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں اورہمیں اس قدر دشمنوں کو میدان فراہم نہیں کرنا چاہئے کہ وہ روز روشن ہمارے شہروں میں داخل ہوں اور بے گناہ بچیوں کو نشانہ بنانے کی جرأت کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشہد مقدس/ حوزہ علمیہ ہرات افغانستان کے استاد حجۃ الاسلام و المسلمین سید جواد وحیدی نے جامعۃ المصطفی شعبۂ مشہد میں کابل افغانستان کے گرلز ہائی اسکول پر حملے میں شہید ہونے والی طالبات کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی افغان عوام سے ہمدردی کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ دشت پرچی کی حالیہ دہشتگردی اس قدر خطرناک تھی کہ جس پر دنیا کے تمام آزادی پسندوں نے ردعمل کا مظاہرہ کیا اور صدائے احتجاج بلند کی اور اس دوران افغان عوام کی اسلامی جمہوریہ ایران،ایرانی عوام سمیت یونیورسٹیاں،جامعۃ المصطفی اور خاص طور پر رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت، اطمینان قلب اور امید کا باعث بنی۔

حوزہ علمیہ شہر ہرات افغانستان نے دشت پرچی میں طالبات کے قتل عام جیسی دہشت گردی کے اہم اہداف کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید کہا کہ دشمن کے آلہ کاروں کے توسط سے ان جیسے جرائم افغانستان کو مذہبی اور قومی سطح پر ناامن کرنے کے لیے کئے جاتے ہیں۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ افغانستان میں انسانی علم و آگہی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تکفیری گروہ سرگرم عمل ہے،مزید کہا کہ بلاشبہ افغانستان کے مختلف علاقوں اور شہروں میں تکفیری اور ان کے اتحادیوں کی فکر کو پھیلانے کے لیے مدارس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے اسلام دشمن قوتیں کار فرما ہیں۔ذرائع ابلاغ بھی افراط و تفریط کے طرز تفکر کو پھیلانے میں علی الاعلان سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

حجۃ الاسلام وحیدی نے ان گروہوں سے مقابلہ کرنے کے طریقۂ کار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بلا واسطہ ایک مستحکم حکومت کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو افغانستان میں بسنے والی تمام قومیتوں اور مذاہب کو اپنی حکومت میں شریک جانے اسی سے افغانستان مستقل ہو سکتا ہے۔بدقسمتی سے عوام کا حکومت میں کوئی کردار نہیں ہے اور افغان عوام سمیت سیاسی اور قومی جماعتوں کے مابین اتحاد و ہم آہنگی کا فقدان بھی موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان مختلف سیاسی اور قومی جماعتوں کے رہنماؤں پر ضروری ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں اورہمیں اس قدر دشمنوں کو میدان فراہم نہیں کرنا چاہئے کہ وہ روز روشن ہمارے شہروں میں داخل ہوں اور بے گناہ بچیوں کو نشانہ بنانے کی جرأت کریں۔

حوزہ علمیہ ہرات کے استاد نے بیان کیا کہ ایک طاقتور حکومت کا لازمہ تمام گروپوں میں ہم آہنگی ہے،حوزہ ہائے علمیہ کے طلباء اور علماء پر ضروری ہے کہ وہ یونیورسٹیوں اور علمی مراکز میں جا کر تکفیری گروہ کی بڑھتی ہوئی سوچ کا مقابلہ کرتے ہوئے مختلف امور میں اپنے وجود کا پوری طرح سے اظہار کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ الحمدللہ جامعۃ المصطفی میں لا تعداد افغان طلباء کی علمی،فکری اور ثقافتی تربیت ہوئی ہے،یہ طلباء افغانستان میں اپنے وجود کے ذریعے اسلامی طرز تفکر کو متعارف کروا سکتے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 14 =