۲۸ مهر ۱۴۰۰ |۱۳ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 20, 2021
آغا سید عابد حسین حسینی

حوزہ/ امام جمعہ حسن آباد سرینگر نے کہا کہ بین مذاہب کی شادی کے خلاف سخت قانون بنایا جانا چاہئے چونکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق بھی بین مذاہب شادی غیرمقبول اور نامشروع ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سرینگر/امام جمعہ حسن آباد سرینگر حجۃالاسلام والمسلمین آغا سید عابد حسین حسینی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ذرایع سے پتا چلا کہ ایک مرد نے ایک سکھ لڑکی سے کوٹ مریج کی ہے جس پر ہمارے پڑوس میں سکھوں کے مقدس گردوارا چھٹی پادشاہی رعناواری میں آج سکھ برادری نے احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ یقینا یہ ایک غیر معروف و نامعقول اور نامشروع کورٹ مریج کے خلاف احتجاج تھا۔ 

امام جمعہ حسن آباد نے کہا کہ ہم اس ردعمل کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں اور حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ بین مذاہب کی شادی کے خلاف سخت قانون بنایا جانا چاہئے چونکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق بھی بین مذاہب شادی غیرمقبول اور نامشروع ہے ایسے واقعات پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے اور سکھ لڑکی سے کورٹ مریج کرنے والے مرد کے ساتھ سوشل بائیکاٹ اور ترک موالات ہونا چاہئے۔

آغا سید عابد حسین حسینی نے تمام علماء کرام و خطباء عظام سے درخواست کی کہ اس واقعہ کی سخت مذمت کریں تاکہ آپسی رواداری اور سکھ مسلم بھائی چارے کو کوئی زک نہ پہنچنے پائے۔ ممکن ہے اس اقدام کے پیچھے اسلام دشمن عناصر کارساز ہوں ہمیں فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے انکی سازشوں کو نا کام بنانا ہوگا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 12 =