۱۴ تیر ۱۴۰۱ |۵ ذیحجهٔ ۱۴۴۳ | Jul 5, 2022
مولانا علی فرشتہ

حوزہ/ افغانستان میں بر سراقتدار طالبان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں شیعوں کی نسل کشی بند کی جائے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں شیعوں ہی کا کیوں قتل عام ہورہا ہے ؟ اس کاجواب طالبان کو دنیا میں بھی دینا پڑے گا اور آخرت میں بھی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مجمع علماء و خطباء،حیدرآباد دکن کے صدر حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا علی حیدر فرشتہ نے کہا کہ نہایت رنج و غم کے ساتھ یہ خبر سنی گئی کہ افغانستان کے شہر قندھار میں ایک بار پھر شیطان بزرگ امریکہ کے پروردہ داعش دہشت گردوں نے بتاریخ ۱۵؍ اکتوبر نماز جمعہ کے دوران شیعہ مسجد میں زبردست بم دھماکہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں کم از کم ۳۳؍ نمازی شہید ہوگئے اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں ۔ اس دلدوز جانسوز واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس سے قبل قندوز کی شیعہ مسجد میں بھی اسی طرح سے دھماکہ کیا گیا تھا جس میں دو سو سے زیادہ نمازی شہید ہوئے تھے اور کئی سو زخمی ہوئے تھے ۔ اسی درمیان موصولہ اطلاعات کے مطابق قندھار میں امام بارگاہ فاطمیہ میں بھی بم دھماکہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام دھماکوں میں شہید ہونے والوں کو ہم مجمع علماء و خطباء حیدر آباددکن ،ہندوستان کی جانب سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور بلندی درجات کی دعاکرتے ہیں ۔ زخمیوں کے لئے جلد صحت یابی کی دعا کرتےہیں اور لواحقین کی خدمت میں اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔

مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بر سراقتدار طالبان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں شیعوں کی نسل کشی بند کی جائے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں شیعوں ہی کا کیوں قتل عام ہورہا ہے ؟ اس کاجواب طالبان کو دنیا میں بھی دینا پڑے گا اور آخرت میں بھی ۔أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ  ظلم کرنےو الوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ (سورہ ہود، آیت؍ ۱۸)
 

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 0 =